ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے اس دور میں پانی کی پیش گوئی، ڈیٹا شیئرنگ اور معاہدوں کی پاسداری پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو چکی ہے۔ انڈس واٹرز ٹریٹی خطے میں کشیدگی کم کرنے اور زیریں آبادیوں کے تحفظ کا ایک موثر ذریعہ رہا ہے، مگر حالیہ اقدامات نے اسے ایک ’’لائف لائن‘‘ سے ’’دباؤ کے آلے‘‘ میں بدلنے کا خدشہ پیدا کر دیا ہے۔