اسلام آباد خودکش حملہ آور کا افغانستان سے متعدد سفری تعلق ثابت، سکیورٹی حلقوں نے طالبان کنٹرول کو “دہشت گردی کا مرکز” قرار دیا

February 6, 2026

پاکستان اور ازبکستان نے مشترکہ اعلامیے میں افغان طالبان سے دہشت گرد تنظیموں کے خلاف فوری کاروائی اور افغان سرزمین کے دہشت گردی کے لیے استعمال کی روک تھام کا مطالبہ کیا

February 6, 2026

امریکہ نے ایران میں امریکی شہریوں کے لیے سفری انتباہ جاری کرتے ہوئے فوری انخلاء کی ہدایت کی ہے۔ اغواء، جاسوسی کے جھوٹے الزامات اور سفارتی مدد کی عدم دستیابی جیسے شدید خطرات کو اس فیصلے کی بنیاد بتایا گیا ہے

February 6, 2026

90 کی دہائی میں یوم یکجہتی کشمیر مظلوم کشمیریوں کے ساتھ عملی یکجہتی کا دن تھا، مگر وقت کے ساتھ یہ محض رسم بن گیا۔ 5 اگست 2019 کے بھارتی اقدامات نے کشمیری حق خودارادیت اور بنیادی حقوق مزید محدود کر دیے، اور آج بھی کشمیری عالمی ضمیر سے انصاف کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں

February 6, 2026

امریکہ نے بلوچستان میں دہشت گردانہ حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے پاکستان کی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے۔ واشنگٹن نے ‘بلوچستان لبریشن آرمی’ کو نامزد دہشت گرد تنظیم قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف کاروائیوں کی بھرپور حمایت کی ہے

February 6, 2026

طالبان کے اندرون خانہ چلنے والے اختلافات اب عالمی میڈیا کے سامنے ہیں، جس کی تازہ ترین مثال سراج الدین حقانی کے بھائی کا مرکزی قیادت پر سخت تنقیدی بیان ہے

February 6, 2026

طالبان کی جانب سے فارسی اور ازبکی زبان کے اخراج کا سلسلہ جاری، سمنگان یونیورسٹی کا نام بھی تبدیل کر دیا گیا

طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد، مبصرین کا کہنا ہے کہ گروہ نے زبان اور ثقافت سے متعلق پالیسیوں میں واضح تبدیلیاں کی ہیں۔ طالبان انتظامیہ نے اپنی حکمرانی کے دوران فارسی اور اوزبیکی زبانوں کے استعمال کو محدود کرنے کو اپنی ترجیحات میں شامل کیا ہے، جس پر مختلف حلقوں کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
طالبان کی جانب سے فارسی اور ازبکی زبان کے اخراج کا سلسلہ جاری، سمنگان یونیورسٹی کا نام بھی تبدیل کر دیا گیا

تاحال طالبان حکام کی جانب سے اس اقدام کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت یا بیان جاری نہیں کیا گیا، تاہم مقامی ذرائع کے مطابق اس نوعیت کی تبدیلیاں دیگر تعلیمی اداروں میں بھی متعارف کرائے جانے کا امکان ہے۔

January 1, 2026

افغانستان میں طالبان کی جانب سے فارسی اور ازبکی زبان کے اخراج کا عمل مزید تیز ہو گیا ہے۔ مقامی طالبان ذرائع نے ولایت سمنگان سے تصدیق کی ہے کہ اس گروہ نے سمنگان یونیورسٹی کے نئے نصب کردہ سائن بورڈ سے فارسی اور اوزبیکی زبان کے الفاظ حذف کر دیے ہیں۔

ذرائع کے مطابق یونیورسٹی کے تازہ سائن بورڈ پر اب صرف پشتو زبان استعمال کی گئی ہے، جبکہ ماضی میں ادارے کا نام فارسی اور اوزبیکی زبانوں میں بھی درج تھا۔ یہ اس نوعیت کا دوسرا واقعہ ہے، جس میں کسی سرکاری تعلیمی ادارے سے فارسی اور اوزبیکی زبانوں کو باضابطہ طور پر ہٹا دیا گیا ہے۔

طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد، مبصرین کا کہنا ہے کہ گروہ نے زبان اور ثقافت سے متعلق پالیسیوں میں واضح تبدیلیاں کی ہیں۔ طالبان انتظامیہ نے اپنی حکمرانی کے دوران فارسی اور اوزبیکی زبانوں کے استعمال کو محدود کرنے کو اپنی ترجیحات میں شامل کیا ہے، جس پر مختلف حلقوں کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

لسانی ماہرین اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق، افغانستان جیسے کثیراللسانی ملک میں کسی ایک زبان کو فوقیت دینا سماجی ہم آہنگی اور ثقافتی تنوع کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ زبانوں کا یہ اخراج نہ صرف اقلیتی شناخت کو کمزور کرتا ہے بلکہ تعلیمی اداروں کے غیر جانبدار کردار پر بھی سوالات اٹھاتا ہے۔

تاحال طالبان حکام کی جانب سے اس اقدام کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت یا بیان جاری نہیں کیا گیا، تاہم مقامی ذرائع کے مطابق اس نوعیت کی تبدیلیاں دیگر تعلیمی اداروں میں بھی متعارف کرائے جانے کا امکان ہے۔

دیکھیں: افغان مہاجرین سے متعلق ماہرہ خان کا بیان اور پاکستان کو درپیش سیکیورٹی خدشات

متعلقہ مضامین

اسلام آباد خودکش حملہ آور کا افغانستان سے متعدد سفری تعلق ثابت، سکیورٹی حلقوں نے طالبان کنٹرول کو “دہشت گردی کا مرکز” قرار دیا

February 6, 2026

پاکستان اور ازبکستان نے مشترکہ اعلامیے میں افغان طالبان سے دہشت گرد تنظیموں کے خلاف فوری کاروائی اور افغان سرزمین کے دہشت گردی کے لیے استعمال کی روک تھام کا مطالبہ کیا

February 6, 2026

امریکہ نے ایران میں امریکی شہریوں کے لیے سفری انتباہ جاری کرتے ہوئے فوری انخلاء کی ہدایت کی ہے۔ اغواء، جاسوسی کے جھوٹے الزامات اور سفارتی مدد کی عدم دستیابی جیسے شدید خطرات کو اس فیصلے کی بنیاد بتایا گیا ہے

February 6, 2026

90 کی دہائی میں یوم یکجہتی کشمیر مظلوم کشمیریوں کے ساتھ عملی یکجہتی کا دن تھا، مگر وقت کے ساتھ یہ محض رسم بن گیا۔ 5 اگست 2019 کے بھارتی اقدامات نے کشمیری حق خودارادیت اور بنیادی حقوق مزید محدود کر دیے، اور آج بھی کشمیری عالمی ضمیر سے انصاف کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں

February 6, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *