ایران کی جانب سے مذاکرات سے انکار پاکستان سمیت دیگر ممالک کی جاری ثالثی کوششوں کیلئے بڑا دھچکا ہے، جبکہ خطے میں امن کی کوششیں پیچیدہ مرحلے میں داخل ہو گئی ہیں۔
جیسے ہی دونوں فریق مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کے قریب پہنچے، اسرائیل نے ایران پر حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں ایران نے سعودی عرب کے شہر الجبیل میں آئل تنصیبات کو نشانہ بنایا، اور اس تمام صورتحال نے امن عمل کو شدید نقصان پہنچایا۔
یہ مسودہ بحرین کی جانب سے پیش کیا گیا تھا اور اسے خلیجی ممالک اور مغربی طاقتوں کی حمایت حاصل تھی، تاہم روس اور چین نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس طرح کی قرارداد خطے میں مزید کشیدگی اور ممکنہ فوجی کارروائیوں کا جواز بن سکتی ہے۔
حالیہ ادائیگیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ پاکستان اپنی بیرونی مالی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جبکہ زرمبادلہ ذخائر اور مالی نظم و ضبط میں بہتری کے باعث ادائیگیوں کا سلسلہ برقرار ہے
انڈس واٹر ٹریٹی جیسے معاہدے صرف پانی کی تقسیم کا فریم ورک نہیں بلکہ علاقائی امن اور استحکام کی بنیاد ہوتے ہیں، اور ان کی معطلی خطے میں نئی کشیدگی کو جنم دے سکتی ہے۔
وزیراعظم نے حالیہ حملوں کے تناظر میں سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی غیر متزلزل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سعودی قیادت اور عوام کے ساتھ اسی طرح کھڑا رہے گا جیسے سعودی عرب نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا۔
دونوں ممالک واشنگٹن اور تہران کے درمیان پیغامات کے تبادلے میں سہولت کاری کر رہے ہیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی اس بات کا عندیہ دے چکے ہیں کہ نائب صدر جے ڈی وینس پاکستان کے ذریعے ایران سے رابطے میں ہیں۔