جو گروہ اپنے عظیم استاد اور روحانی پیشوا کو محض سیاسی اختلاف پر سنگین دھمکیاں دے سکتا ہے اور ان کی تذلیل کر سکتا ہے، وہ عام انسانوں اور دیگر مخالفین کے ساتھ کس حد تک جا سکتا ہے؟
افغانستان میں ‘اقلیت’ اور ‘اکثریت’ کے تصورات محض مفروضوں پر مبنی ہیں جنہیں سیاسی مفادات کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ یہاں تک کہ 2010 کی دہائی میں ادارہ شماریات کے سربراہ نے بھی اعتراف کیا تھا کہ سیاست دانوں نے ان اعداد و شمار کو ماننے سے انکار کر دیا جن میں ان کے گروہ کی تعداد کم دکھائی گئی تھی۔
پہلگام کے ایک سال بعد کا پاکستان پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط، بااعتماد اور عالمی سطح پر معتبر ہے۔ بھارت نے جس گڑھے کو پاکستان کے لیے کھودا تھا، وہ آج خود اس کی تزویراتی تنہائی کا سبب بن چکا ہے۔ یہ “پاور شفٹ” عارضی نہیں بلکہ ایک نئے دور کا آغاز ہے جہاں پاکستان خطے میں طاقت کا نیا مرکز بن کر ابھرا ہے۔
۔پاکستان کا کردار ایک منظم اور ادارہ جاتی حکمت عملی کے تحت سامنے آیا ہے جس میں سول اور عسکری قیادت نے مشترکہ طور پر کام کیا، اور پاکستان کو عالمی سطح پر ایک امن پسند اور موثر ثالث کے طور پر متعارف کروایا۔
ترجمان نے افغانستان سے متعلق واضح کیا کہ پاکستان کا بنیادی مطالبہ یہ ہے کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اس حوالے سے تحریری اور قابل تصدیق یقین دہانیاں چاہتا ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ کا بیان فیصلہ کن ہے، جس میں انہوں نے واضح کیا کہ مذاکرات کی ناکامی کی واحد وجہ ایران کا جوہری پروگرام پر مؤقف تھا۔
انہوں نے کہا کہ زیادہ تر نکات پر اتفاق ہو گیا تھا، مگر ایران نے جوہری معاملے پر کوئی لچک نہیں دکھائی، جس کے باعث حتمی معاہدہ ممکن نہ ہو سکا۔
مذاکرات ایک پیچیدہ ماحول میں ہوئے جہاں بداعتمادی پہلے سے موجود تھی، اس لیے ایک ہی نشست میں معاہدہ ہونا ممکن نہیں تھا۔ ان کے مطابق آبنائے ہرمز اور جوہری پروگرام جیسے معاملات انتہائی حساس ہیں اور ان پر فوری اتفاق ممکن نہیں۔
خلیجی خطے میں جہاں کل تک جنگی صورتحال تھی، اب وہاں امن کی باتیں ہو رہی ہیں اور فریقین مذاکرات کی میز پر آ چکے ہیں۔ انہوں نے ایرانی اور امریکی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ پیشرفت عالمی استحکام کیلئے نہایت اہم ہے۔
افغانستان کو صرف ایک انسانی بحران کے طور پر دیکھنا ایک محدود اور خطرناک نقطہ نظر ہے۔ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جہاں انسانی مسائل اور سیکیورٹی خطرات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور انہیں الگ کر کے سمجھنا ممکن نہیں۔
آج پاکستان ایک ایسے ہی دوراہے پر کھڑا ہے جہاں قبضہ زمین پر نہیں بلکہ ذہن، ڈیٹا اور بیانیے پر ہو رہا ہے، مگر افسوس کی بات یہ کہ پاکستان میں اس حوالے سے کوئی بحث و مباحثہ تک دیکھنے میں نہیں آ رہا کجا کوئی سنجیدہ اقدام کئے جائیں۔