امریکا اور ایران جیسے دیرینہ حریفوں کے درمیان پل بننا، اسلامی دنیا کے بڑے ممالک کے ساتھ ہم آہنگی، اور عالمی سطح پر بڑھتی پذیرائی، یہ تمام عوامل اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان عالمی سیاست میں ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے
پاکستان، سعودی عرب، ترکی اور مصر کی یہ قربت خطے میں طاقت کے توازن کو نئی شکل دینے جا رہی ہے اور اس تبدیلی میں پاکستان ایک کلیدی کردار ادا کرتا دکھائی دے رہا ہے
پاکستان نے افغانستان پر جنگ مسلط نہیں کی بلکہ دہشتگردی کی جنگ پاکستان پر تھوپی گئی ہے۔ ہزاروں پاکستانی شہری اس جنگ میں اپنی جانیں گنوا چکے ہیں، وانا کیڈٹ کالج پر حملہ ہو یا ترلائی مسجد کا دھماکہ، ذمہ داران کا تعلق ہمیشہ افغانستان سے ہی کیوں ہوتا ہے
عالمی توانائی ایجنسی کے مطابق دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل سپلائی آبنائے ہرمز سے گزرتی ہے۔ ایشیا کی بڑی معیشتیں اسی سمندری راستے پر انحصار کرتی ہیں۔ اگر یہ راہداری جزوی طور پر بھی متاثر ہوتی ہے تو اثرات صرف خلیج تک محدود نہیں رہتے، بلکہ دہلی، کراچی اور ڈھاکہ کے بازار بھی اس کی زد میں آ جاتے ہیں۔
1981 میں ایک بم حملے میں شدید زخمی ہونے کے باوجود وہ اسی سال صدر منتخب ہوئے۔ 1980 سے جاری ایران عراق جنگ نے ان کے دورِ صدارت کو شکل دی۔ اگرچہ اس وقت زیادہ اختیارات وزیرِ اعظم کے پاس تھے، مگر خامنہ ای نے پاسدارانِ انقلاب کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کیے اور دفاعی و سلامتی معاملات میں اپنی گرفت مضبوط کی۔