مددگار یا مکار؟ سوات واقعہ اور پولیس کی خاتون سے زیادتی

مددگار یا مکار؟

سوات میں پشاور سے آنے والی خاتون کے ساتھ مبینہ زیادتی کے الزام میں دو پولیس اہلکاروں کی گرفتاری نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ جب محافظ ہی خطرہ بن جائیں تو شہری بھروسا کس پر کریں۔

علمی مرتبے کی پامالی: جید عالمِ دین مولانا ادریس کے خلاف سرحد پار سے شر انگیز مہم اور دھمکیاں

جو گروہ اپنے عظیم استاد اور روحانی پیشوا کو محض سیاسی اختلاف پر سنگین دھمکیاں دے سکتا ہے اور ان کی تذلیل کر سکتا ہے، وہ عام انسانوں اور دیگر مخالفین کے ساتھ کس حد تک جا سکتا ہے؟
مولانا ادریس کے خلاف مہم

اس بیرونی مہم کو ملک کے اندر سے بھی تقویت مل رہی ہے۔ پاکستان کی چند سیاسی جماعتوں کے سوشل میڈیا سیلز نے غیر ملکی ایجنڈے کو ہوا دیتے ہوئے مولانا ادریس صاحب کے خلاف ہرزہ سرائی شروع کر دی ہے۔

April 26, 2026

اسلام آباد: پاکستان کے ممتاز عالمِ دین اور شیخ الحدیث مولانا ادریس صاحب کے خلاف سرحد پار سے ایک انتہائی خطرناک اور منظم پروپیگنڈا مہم کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ یہ مہم اس وقت شروع کی گئی جب مولانا ادریس نے اپنے خطبہ جمعہ میں خطے میں قیامِ امن کے لیے ریاستِ پاکستان اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے مصالحتی کردار کی کھل کر حمایت کی۔ اس تائید کے بعد نہ صرف افغان انٹیلیجنس کے زیرِ اثر پلیٹ فارمز بلکہ پاکستان کی چند سیاسی جماعتوں نے بھی ان کے خلاف محاذ کھول دیا ہے۔

استادِ محترم کے خلاف سنگین دھمکیاں اور پروپیگنڈا

مولانا ادریس صاحب وہ علمی شخصیت ہیں جن کا احترام سرحد کے دونوں اطراف کیا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ افغان قیادت (امارتِ اسلامیہ) کی لگ بھگ آدھی کابینہ اور اعلیٰ حکام براہِ راست ان کے شاگرد رہے ہیں۔ تاہم، جب انہوں نے پاکستان کے قومی مفاد اور عالمی امن کے لیے پاک فوج کی کوششوں کو سراہا، تو کابل کے مخصوص پروپیگنڈا سیل ‘المرصاد’ نے ان کے خلاف فتویٰ نما بیانات اور جان لیوا دھمکیاں دینا شروع کر دیں۔

ماہرینِ عمرانیات اور دفاعی تجزیہ کار اس صورتحال کو انتہائی تشویشناک قرار دے رہے ہیں۔ جو گروہ اپنے عظیم استاد اور روحانی پیشوا کو محض سیاسی اختلاف پر سنگین دھمکیاں دے سکتا ہے اور ان کی تذلیل کر سکتا ہے، وہ عام انسانوں اور دیگر مخالفین کے ساتھ کس حد تک جا سکتا ہے؟

اندرونی سیاسی جماعتوں کا گٹھ جوڑ

انتہائی افسوسناک امر یہ ہے کہ اس بیرونی مہم کو ملک کے اندر سے بھی تقویت مل رہی ہے۔ پاکستان کی چند سیاسی جماعتوں کے سوشل میڈیا سیلز نے غیر ملکی ایجنڈے کو ہوا دیتے ہوئے مولانا ادریس صاحب کے خلاف ہرزہ سرائی شروع کر دی ہے۔ یہ سیاسی عناصر اپنے چھوٹے مفادات کے لیے ایک ایسی معتبر علمی شخصیت کو نشانہ بنا رہے ہیں جنہوں نے ہمیشہ اتحادِ امت اور ملکی سلامتی کی بات کی ہے۔ یہ گٹھ جوڑ ظاہر کرتا ہے کہ ریاست مخالف بیانیہ سرحد پار اور ملک کے اندر ایک ہی زبان بول رہا ہے۔

المرصاد: افغان انٹیلیجنس کا آلہ کار

افغان انٹیلیجنس کے پروپیگنڈا پلیٹ فارم ‘المرصاد’ نے پشتو زبان میں طویل تحریریں شائع کی ہیں جن میں مولانا ادریس صاحب پر ‘ریاست کا آلہ کار’ ہونے کا الزام لگایا گیا ہے۔ ان تحریروں میں نہ صرف ان کی علمی توہین کی گئی بلکہ انہیں براہِ راست نشانہ بنانے کی ترغیب بھی دی گئی ہے۔ یہ مہم واضح طور پر اس لیے چلائی جا رہی ہے تاکہ پاکستانی علماء کو خوفزدہ کر کے انہیں ریاست کی حمایت سے روکا جا سکے۔

قومی بیانیے کی فتح اور عالمی اثرات

سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ مولانا ادریس صاحب کا پاکستان کی قیادت پر اعتماد دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ پاکستان اس وقت امریکہ اور ایران جیسی قوتوں کے درمیان واحد موثر پل کا کردار ادا کر رہا ہے۔ افغان قیادت کی جانب سے اپنے ہی استاد کے خلاف اس سطح پر اتر آنا ان کی اخلاقی گراوٹ اور خطے میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے قد کاٹھ سے حسد کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے۔

دیکھئیے:افغان رہنماء محمد محقق کا ناقدین کو سخت جواب، ’اسلامی جمہوریہ ہزارستان‘ کے پرچم کی تصویر شیئر کر دی

متعلقہ مضامین

اسلام آباد میں نمل یونیورسٹی روڈ پر کار اور موٹر سائیکل کے تصادم میں 5 افراد زخمی ہو گئے، دو لڑکیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

November 5, 2026

سعودی عرب نے مدینہ منورہ کی جانب داغا گیا حوثیوں کا بیلسٹک میزائل فضا میں تباہ کر دیا، عسکری اتحاد نے واقعے کی تصدیق کردی۔

November 5, 2026

وزیراعظم شہباز شریف نے فیول ریلیف پروگرام کے تحت مستحق شہریوں کو سبسڈی نہ دینے والے پیٹرول پمپس کے لائسنس منسوخ کرنے کا حکم دے دیا۔

November 5, 2026

اقوام متحدہ کی جانب سے کالعدم قرار دیے گئے حافظ گل بہادر گروپ سے منسلک افغان شہری کے بھارت میں طبی علاج نے خطے کی سیکیورٹی صورتحال اور سفارتی تعلقات پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

November 5, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *