اسلام آباد: پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیوں، خصوصاً امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کردار، پر سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید کے بعد ماہرین اور سفارتی حلقوں کی جانب سے ردعمل سامنے آیا ہے، جس میں “انفرادی خارجہ پالیسی” کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے اسے عملی اور روایتی ریاستی حکمت عملی قرار دیا جا رہا ہے۔
حالیہ دنوں میں ایک سوشل میڈیا بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کسی ایک شخصیت کے گرد گھوم رہی ہے اور ادارہ جاتی توازن کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ تاہم اس مؤقف پر ردعمل دیتے ہوئے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے دعوے زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے اور سفارتی عمل کو محدود زاویے سے دیکھنے کے مترادف ہیں۔
Here is the first sign of trouble that I've been warning about.
— Hussain Nadim (@HNadim87) April 18, 2026
The regime in Pakistan is running a deeply personal foreign policy around an "individual", overriding institutions, protocols and balance. It happens when you don't have domestic credibility or legitimacy.…
“انفرادی خارجہ پالیسی” کا دعویٰ، حقیقت یا تاثر؟
سفارتی ماہرین کے مطابق اعلیٰ سطح کی سفارتکاری میں کلیدی شخصیات کا کردار ہمیشہ سے اہم رہا ہے، تاہم یہ عمل ادارہ جاتی ڈھانچے کے اندر ہی ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عالمی تاریخ میں ہنری کسنجر، ڈینگ ژیاؤپنگ اور دیگر رہنماؤں نے اہم سفارتی کردار ادا کیے، مگر یہ تمام اقدامات ریاستی اداروں کے ساتھ ہم آہنگی میں کیے گئے۔
پاکستان کے حالیہ کردار پر بات کرتے ہوئے ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوششیں وزیراعظم آفس اور دفتر خارجہ کی منظوری اور نگرانی میں ہو رہی ہیں، انہیں فقط کسی ایک فرد کے ذاتی فیصلے سے منسوب کرنا حقائق کے منافی ہے۔
پاکستان کا روایتی “ہائبرڈ” سفارتی ماڈل
تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کی خارجہ پالیسی طویل عرصے سے ایک “ہائبرڈ” ماڈل پر چل رہی ہے، جس میں سول اور عسکری قیادت دونوں کا کردار شامل ہوتا ہے۔ ماضی میں ضیاء الحق اور ریگن، پرویز مشرف اور جارج بش، جبکہ نواز شریف اور چینی قیادت کے درمیان روابط بھی اسی طرز کی مثالیں ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ موجودہ سفارتی سرگرمیاں بھی اسی تسلسل کا حصہ ہیں اور انہیں کسی نئی یا غیر معمولی حکمت عملی کے طور پر پیش کرنا درست نہیں۔
داخلی سیاست اور سفارتکاری کا تعلق
ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ تنقید میں ایک پہلو داخلی سیاسی بیانیے سے بھی جڑا ہوا دکھائی دیتا ہے، جہاں سفارتی کامیابیوں کو داخلی سیاسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق بعض حلقے خارجہ پالیسی کو داخلی سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں، جس سے اصل سفارتی نتائج پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔
ماہرین نے اس بیانیے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ امریکا ایران مذاکرات میں پیش رفت، ایران کا پاکستان پر اعتماد اور عالمی سطح پر پاکستان کے کردار کی پذیرائی جیسے عوامل کو نظر انداز کر کے بحث کو داخلی معاملات کی طرف موڑ دیا گیا ہے۔
حقیقت پسندانہ نقطہ نظر
بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین کے مطابق ریاستوں کی خارجہ پالیسی کا تعین ان کی جغرافیائی اہمیت، صلاحیت اور اسٹریٹجک روابط سے ہوتا ہے، نہ کہ صرف داخلی مقبولیت سے۔ اس حوالے سے پاکستان کی جغرافیائی پوزیشن، ایران اور امریکا دونوں کے ساتھ تعلقات اور جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے ساکھ نے اسے ایک مؤثر ثالث کے طور پر ابھرنے میں مدد دی۔
ماہرین کے مطابق یہ وہ عوامل ہیں جن کی بنیاد پر پاکستان نے حالیہ بحران میں کردار ادا کیا، نہ کہ کسی ایک شخصیت کی ذاتی خواہشات کے باعث۔
نتائج بمقابلہ تاثر
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خارجہ پالیسی کی کامیابی کا پیمانہ اس کے نتائج ہوتے ہیں، نہ کہ اس کا تاثر۔ ان کے مطابق حالیہ سفارتی کوششوں کے نتیجے میں ممکنہ علاقائی تصادم میں کمی، آبنائے ہرمز جیسے اہم تجارتی راستے کا کھلنا، اور عالمی سطح پر پاکستان کی سفارتی اہمیت میں اضافہ ایسے عوامل ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
میڈیا اور جدید سفارتکاری
ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید دور میں سفارتکاری میڈیا اور عوامی بیانیے سے الگ نہیں رہی۔ ان کے مطابق اعلیٰ سطحی مذاکرات میں میڈیا کوریج اور عوامی پیغام رسانی ایک لازمی جز بن چکی ہے، اس لیے اسے “زیادہ تشہیر” قرار دینا مکمل تصویر پیش نہیں کرتا۔
ادارہ جاتی ہم آہنگی یا انحراف؟
سفارتی ذرائع کے مطابق حالیہ پیشرفت میں سول اور عسکری اداروں کے درمیان قریبی ہم آہنگی دیکھی گئی، جو بحران کے وقت پالیسی کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے ضروری سمجھی جاتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ماڈل پاکستان کے لیے نیا نہیں بلکہ برسوں سے آزمودہ طریقہ کار ہے۔
نتیجہ
ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال کو “انفرادی سفارتکاری” کے بجائے عملی ریاستی حکمت عملی کے طور پر دیکھنا زیادہ مناسب ہے، جہاں پاکستان اپنی جغرافیائی اور سفارتی حیثیت کو استعمال کرتے ہوئے پیچیدہ علاقائی تنازعات میں کردار ادا کر رہا ہے۔پاکستان کا کردار ایک منظم اور ادارہ جاتی حکمت عملی کے تحت سامنے آیا ہے جس میں سول اور عسکری قیادت نے مشترکہ طور پر کام کیا، اور پاکستان کو عالمی سطح پر ایک امن پسند اور موثر ثالث کے طور پر متعارف کروایا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ طرز عمل پاکستان کی خارجہ پالیسی کے تاریخی تسلسل کا حصہ ہے، اس پشرفت کو کسی نئے بیانئے یا سیاسی تاثر کا رنگ دینا ہرگز درست نہیں ہے۔
دیکھئیے:قبول دعاؤں جیسا پاکستان