گزشتہ چند برسوں میں افغانستان اور وسطی ایشیائی ممالک کے درمیان تعاون میں پیشرفت ہوئی ہے اور اب دونوں اطراف ایک “تعاون اور مواقع” پر مبنی بیانیہ تشکیل پا رہا ہے۔
افغانستان میں طالبان کے اقتدار کے بعد توقع کی جا رہی تھی کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مزید مضبوط ہوں گے اور سرحد پار دہشتگردی میں کمی آئے گی، مگر صورتحال اس کے برعکس نکلی۔
ریاست قلات کا پاکستان کے ساتھ الحاق کسی بھی جبر و تشدد کے بغیر ایک باقاعدہ آئینی اور قانونی عمل کے ذریعے ہوا، جس میں مقامی قیادت، شاهي جرگہ اور نمائندہ اداروں نے شرکت کی
بلوچستان ملک کا ایک آئینی اور جغرافیائی حصہ ہے، جہاں سیاسی عمل جاری ہے اور عوامی نمائندگی موجود ہے۔ مختلف ترقیاتی منصوبے، بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور علاقائی رابطہ کاری کے اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ ریاست بلوچستان کی ترقی کے لیے سنجیدہ ہے۔
دہلی کے پاس نہ وہ توازن تھا جو اسے غیر جانبدار بناتا، نہ وہ اعتماد جو اسے قابلِ قبول ٹھہراتا۔ اس کے برعکس پاکستان نے ایک ایسے پل کی صورت اختیار کی جو مختلف کناروں کو جوڑ سکتا تھا۔
امریکا اور ایران جیسے دیرینہ حریفوں کے درمیان پل بننا، اسلامی دنیا کے بڑے ممالک کے ساتھ ہم آہنگی، اور عالمی سطح پر بڑھتی پذیرائی، یہ تمام عوامل اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان عالمی سیاست میں ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے
پاکستان، سعودی عرب، ترکی اور مصر کی یہ قربت خطے میں طاقت کے توازن کو نئی شکل دینے جا رہی ہے اور اس تبدیلی میں پاکستان ایک کلیدی کردار ادا کرتا دکھائی دے رہا ہے
پاکستان نے افغانستان پر جنگ مسلط نہیں کی بلکہ دہشتگردی کی جنگ پاکستان پر تھوپی گئی ہے۔ ہزاروں پاکستانی شہری اس جنگ میں اپنی جانیں گنوا چکے ہیں، وانا کیڈٹ کالج پر حملہ ہو یا ترلائی مسجد کا دھماکہ، ذمہ داران کا تعلق ہمیشہ افغانستان سے ہی کیوں ہوتا ہے