افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ نے بدخشاں میں طالبان پر بڑے حملے کا دعویٰ کرتے ہوئے 11 جنگجوؤں کو ہلاک اور 3 کو گرفتار کرنے کا اعلان کیا ہے۔

August 11, 2026

شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی میں سکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کرتے ہوئے اہم خوارج دہشت گرد زکریا کو ہلاک کر دیا ہے۔

August 11, 2026

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا ملک بھر کو ڈی چوک بنا دینے کا اعلان کوئی نیا رجحان نہیں بلکہ پی ٹی آئی کی اسی پرانی حکمتِ عملی کا تسلسل ہے جس میں ریاستی اداروں پر دباؤ ڈالنے کے لیے سڑکوں کا رخ کرنا معمول رہا ہے۔

August 11, 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کو ایرانی بارودی سرنگوں سے پاک کرنے اور اس پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

August 11, 2026

کوئٹہ میں جشنِ آزادی کی مناسبت سے کھیلوں کی سرگرمیاں جاری ہیں جہاں آزادی ایتھلیٹکس کے مقابلوں کے ساتھ باکسر عابدہ بتول نے عالمی سطح پر گولڈ میڈل جیت کر ملک کا نام روشن کر دیا ہے۔

August 11, 2026

افغان پلیٹ فارم المرصاد کی پاکستان مخالف رپورٹ کو قابلِ تصدیق شواہد سے محروم اور افغان سرزمین پر موجود عسکریت پسندوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش قرار دیا گیا ہے۔

August 10, 2026

طالبان دور میں سزاؤں کا طوفان:ایک سال میں تقریباً 1200 افراد کو کوڑے اور متعدد کو عوامی پھانسیاں دی گئیں، عالمی تشویش میں اضافہ

اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ صرف جنوری 2026 میں ہی 162 افراد کو کوڑے مارے گئے، جبکہ ایک ہفتے کے اندر 10 صوبوں میں 37 سزائیں دی گئیں
طالبان حکومت میں بڑھتے ہوئے مظالم

رپورٹس کے مطابق 2025 میں کم از کم 170 خواتین کو کوڑے مارے گئے، جبکہ 2021 سے اب تک 140 سے زائد خواتین اسی نوعیت کی سزاؤں کا سامنا کر چکی ہیں

March 22, 2026

خواتین بھی نشانہ، عوامی پھانسیاں اور اسٹیڈیم میں سزائیں، افغانستان میں خوف کی فضا گہری

کابل: افغانستان میں طالبان حکومت کے تحت جسمانی سزاؤں میں غیر معمولی اضافہ سامنے آیا ہے، جہاں صرف ایک سال میں تقریباً 1,200 افراد کو سرعام کوڑے مارے گئے، جبکہ ماہرین اسے خوف پر مبنی نظام کی مضبوطی قرار دے رہے ہیں۔

اقوام متحدہ سمیت مختلف ذرائع کے مطابق مارچ 2025 سے مارچ 2026 کے دوران کم از کم 1,186 افراد کو کوڑے مارے گئے، جبکہ صرف 2025 میں ہی 1,118 سے زائد افراد کو “غیر اسلامی افعال” کے الزامات پر سزا دی گئی۔ ان سزاؤں میں منشیات کا استعمال، چوری، زنا اور ہم جنس پرستی جیسے الزامات شامل تھے۔

ریکارڈ اضافہ: سزائیں تقریباً دگنی ہو گئیں

اقوام متحدہ کے ماہرین کے مطابق 2025 میں 1,100 سے زائد افراد کو کوڑے مارے گئے جن میں 940 مرد اور 170 خواتین شامل تھیں۔ یہ تعداد 2024 کے 567 کیسز کے مقابلے میں تقریباً دگنی ہے، جو طالبان دور میں بڑھتی ہوئی سختی کی واضح علامت ہے۔

اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ صرف جنوری 2026 میں ہی 162 افراد کو کوڑے مارے گئے، جبکہ ایک ہفتے کے اندر 10 صوبوں میں 37 سزائیں دی گئیں, جو اس رجحان میں تیزی کی نشاندہی کرتی ہیں۔

پورے افغانستان میں سزاؤں کا پھیلاؤ

یہ سزائیں کابل، قندھار، ہرات، ننگرہار سمیت درجنوں صوبوں میں دی گئیں، اور اکثر انہیں عوامی مقامات، حتیٰ کہ اسٹیڈیمز میں نافذ کیا گیا۔ اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ اس طرح کے مناظر معاشرے کو تشدد کا عادی بنا رہے ہیں اور اجتماعی سطح پر حساسیت ختم ہو رہی ہے

خواتین پر بڑھتا دباؤ

رپورٹس کے مطابق 2025 میں کم از کم 170 خواتین کو کوڑے مارے گئے، جبکہ 2021 سے اب تک 140 سے زائد خواتین اسی نوعیت کی سزاؤں کا سامنا کر چکی ہیں۔

خواتین کو اکثر “گھر سے بھاگنے” یا “غیر قانونی تعلقات” جیسے الزامات پر نشانہ بنایا جاتا ہے، جسے انسانی حقوق کی تنظیمیں صنفی امتیاز کی بدترین مثال قرار دیتی ہیں۔

عوامی پھانسیاں اور خوف کا پیغام

سال 2025 میں کم از کم چھ عوامی پھانسیاں بھی دی گئیں، جن میں سے ایک واقعہ خوست کے اسٹیڈیم میں پیش آیا جہاں ہزاروں افراد کے سامنے ایک شخص کو سزائے موت دی گئی۔

ان سزاؤں کو طالبان “قصاص” کا حصہ قرار دیتے ہیں، تاہم ناقدین کے مطابق یہ اقدامات معاشرے میں خوف کو بطور پالیسی نافذ کرنے کے مترادف ہیں۔

اختلاف رائے بھی جرم، نیا قانون مزید سخت

طالبان نے اس عرصے میں نیا تعزیری قانون بھی متعارف کروایا، جس پر عالمی سطح پر شدید تنقید کی گئی۔

اقوام متحدہ کے ادارے یوناما کے مطابق صرف اکتوبر سے دسمبر 2025 کے دوران 287 جسمانی سزائیں ریکارڈ ہوئیں، جن کے ساتھ تشدد اور من مانی گرفتاریوں کے واقعات بھی سامنے آئے۔

عالمی ردعمل: “یہ سزائیں نہیں، تشدد ہے”

انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں، بشمول ہیومن رائٹس واچ اور اقوام متحدہ، نے ان سزاؤں کو کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے فوری روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات نہ صرف بنیادی انسانی حقوق کے منافی ہیں بلکہ افغانستان کو مزید عالمی تنہائی کی طرف دھکیل رہے ہیں۔

قانون یا خوف کی حکمرانی؟

افغانستان میں بڑھتی ہوئی جسمانی سزائیں محض عدالتی عمل نہیں بلکہ ایک واضح پیغام ہیں، اختلاف کی گنجائش کم اور خوف کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے۔

یہ نظام استحکام لانے کا دعوی کرتا ہے جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے، ایسا نظام ایک ایسے معاشرے کو جنم دیتا نظر آرہا ہے جہاں خاموشی ہی بقا کی واحد شرط بن جائے گی۔

دیکھئیے:ٹرمپ کی ایران کو سخت وارننگ، آبنائے ہرمز نہ کھلنے پر 48 گھنٹوں میں فیصلہ کُن کاروائی کا اعلان

متعلقہ مضامین

افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ نے بدخشاں میں طالبان پر بڑے حملے کا دعویٰ کرتے ہوئے 11 جنگجوؤں کو ہلاک اور 3 کو گرفتار کرنے کا اعلان کیا ہے۔

August 11, 2026

شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی میں سکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کرتے ہوئے اہم خوارج دہشت گرد زکریا کو ہلاک کر دیا ہے۔

August 11, 2026

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا ملک بھر کو ڈی چوک بنا دینے کا اعلان کوئی نیا رجحان نہیں بلکہ پی ٹی آئی کی اسی پرانی حکمتِ عملی کا تسلسل ہے جس میں ریاستی اداروں پر دباؤ ڈالنے کے لیے سڑکوں کا رخ کرنا معمول رہا ہے۔

August 11, 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کو ایرانی بارودی سرنگوں سے پاک کرنے اور اس پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

August 11, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *