یکم فروری 2026 کو ملا ہیبت اللہ نے 20 اہم عہدوں پر تقرریوں اور تبادلوں کے احکامات جاری کیے، جن کا مقصد طاقت کے توازن کو مزید مستحکم کرنا بتایا جا رہا ہے
سورس کے مطابق جلال آباد ایئرپورٹ پر قندھار سے آئے طالبان گروپ اور مقامی اہلکاروں کے درمیان داخلے پر تلخ کلامی شروع ہوئی جو بعد میں ہاتھا پائی تک جا پہنچی
قندوز میں ہزارہ برادری سے چھینی گئی جائیدادیں مہاجرین کی آبادکاری کے نام پر دہشت گرد تنظیم لشکرِ اسلام اور گل بہادر گروپ سے وابستہ افراد میں تقسیم کیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ دوسری جانب قندھار، ہلمند اور غزنی کے پشتون اکثریتی علاقوں میں صدیوں سے آباد ہزارہ آبادیوں کو بھی سرکاری اراضی قرار دے کر جبراً خالی کروایا جا چکا ہے۔
قابلِ ذکر امر یہ ہے کہ واشنگٹن نے مئی 2023 کے بعد طالبان کو بھیجی جانے والی 40 ملین ڈالر کی نقد ترسیلات کے بارے میں عوامی سطح پر معلومات فراہم کرنا بھی بند کر دی ہیں، جس سے شکوک و شبہات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق امریکہ کی یہ پالیسی نہ صرف تضادات کا شکار ہے بلکہ خطے میں سلامتی، دہشت گردی کے خلاف بیانیے اور انسانی امداد کے دعووں پر بھی سنجیدہ سوالات اٹھا رہی ہے۔
پہلی کارروائی 17 جنوری کو رات 8 بج کر 30 منٹ پر ضلع شندند میں کی گئی، جہاں گشت پر مامور طالبان کی ایک گاڑی کو نشانہ بنایا گیا۔ اس حملے میں طالبان کے دو اہلکار رسول شاہ بلخی اور حمیداللہ ہلاک ہو گئے، جبکہ گاڑی میں موجود دیگر دو اہلکار موقع سے فرار ہونے میں کامیاب رہے۔
قندھار میں افغانستان کے زونل سربراہان کے اجلاس 21جنوری کے بعد ملا ہیبت اللہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق پاکستانی سرحد کے ساتھ ملحق 5زونز اور افغان وزارت داخلہ، وزارت دفاع، وزارت سرحدات اور جی ڈی آئی کو بطور ادارہ کمیشن کا رکن مقرر کرکے تعاون کرنے کا پابند کردیا گیا ہے۔
نئے قانون کے تحت معاشرے کو چار طبقات میں تقسیم کیا گیا ہے اور ایک ہی نوعیت کے جرم پر مختلف طبقات کے لیے مختلف سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔ علما کو سب سے اعلیٰ طبقہ قرار دیا گیا ہے، جن کے لیے کسی جرم کی صورت میں صرف نصیحت کافی سمجھی گئی ہے اور کسی سخت سزا کا اطلاق نہیں ہوگا۔
جنوبی زون کا سربراہ گورنر قندھار ملا محمد علی حنفی المعروف ملا شیریں ہیں، جس میں قندھار، ہلمند، ارزگان، زابل اور نیمروز شامل کیے گئے ہیں۔ شمال مشرقی زون کی ذمہ داری گورنر قندوز ملا محمد خان دعوت کے سپرد کی گئی ہے، جس میں قندوز، تخار، بغلان اور بدخشان شامل ہیں اور یہ علاقہ تاجکستان اور چین کی سرحدوں کے قریب واقع ہے۔
طالبان کی اندرونی سیاست میں مفادات، لوٹ مار اور طاقت کی کشمکش بنیادی کردار ادا کرتی ہے، جہاں قیادت کی اصل طاقت ذاتی مسلح گروہوں اور مالی وسائل سے جڑی رہی ہے۔ ملا ہیبت اللہ کے تقرر کے بعد یہ اندرونی توازن مزید واضح ہوا، جو مختلف دھڑوں کے درمیان اثر و رسوخ کی مسلسل جدوجہد کو نمایاں کرتا ہے