طالبان حکومت عوامی رضامندی کو اپنی قانونی حیثیت کے لیے ضروری نہیں سمجھتی۔ حکمرانی غیر شفاف، کمزور ابلاغ پر مبنی اور مکمل طور پر بالا سے نیچے کی سمت ہے، جس میں عوامی جوابدہی کو خاطر میں نہیں لایا جاتا۔ اکتوبر 2025 میں بغیر کسی وضاحت کے ملک گیر انٹرنیٹ بندش کا اچانک حکم، جو بعد میں وزیرا عظم ملا حسن کے حکم پر جزوی طور پر واپس لیا گیا، اور اس جرم میں ملا حسن کو ہیبت اللہ کی ناراضی بھگتنا پڑی ، فیصلہ سازی کی من مانی نوعیت کی واضح مثال ہے۔
مقامی سطح پر موجو سورسز کا دعویٰ ہے کہ تاجک بارڈر پر ٹی ٹی ٹی کے مراکز میں ٹی ٹی پی کے دہشت گرد بھی موجود ہیں اور انہیں اضلاع میں ٹی ٹی ٹی کے ساتھ ساتھ ای ٹی آئی ایم کے دہشت گردوں کو بھی افغان رجیم کی سرپرستی میں رکھا گیا ہے۔ حیرت انگیز طور پر افغان طالبان پوری دنیا میں خود کو داعش مخالف قرار دیتے ہیں لیکن بدخشاں کے ان سرحدی اضلاع میں داعش کھلے بندوں موجود ہے اور اس کے مراکز کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جا رہی بلکہ انہیں سہولیتیں دی جا رہی ہیں۔
افغانستان میں اس وقت بیس سے زائد علاقائی اور عالمی شدت پسند تنظیموں کی موجودگی کی تصدیق اقوام متحدہ کر چکی ہے، جن میں القاعدہ، تحریک طالبان پاکستان، ترکستان اسلامی پارٹی اور اسلامی موومنٹ آف ازبکستان شامل ہیں۔
مغربی افغانستان میں قندھار گروپ سے تنگ فوجی کمانڈروں سے رابطوں کے لئےحقانی گروپ کے اہم کمانڈروں عبدالعزیز عباسین، ابراہیم حقانی عرف ابراھیم عمری کو لانچ کیاجا چکا ہے، جبکہ انس حقانی کو سفارتی سطح پر رابطے کرنے کا کہدیا گیا ہے ۔ ذرائع تو اس بات کا بھی انکشاف کررہے ہیں کہ سراج حقانی نے 32رکنی شوریٰ میں بھی لابنگ شروع کردی ہے ، اس لابنگ کی ذمہ داری سراج نے خود اٹھائی ہےا ور اس کےساتھ ساتھ جلال الدین حقانی کی اہلیہ کے بھائی اور اہم کمانڈر حاجی مالی خان صدیق ڈپٹی آرمی چیف بھی متحرک ہیں۔