پاکستان اور بھارت کے درمیان رواں برس کی شدید کشیدگی اور اسرائیلی ڈرونز و ٹیکنالوجی کی بھارت کو فراہمی نے یہ واضح کر دیا کہ علاقائی تنازعات میں اب عالمی قوتیں براہِ راست ملوث ہو رہی ہیں۔ ایسے پس منظر میں پاکستان–سعودیہ دفاعی معاہدہ کسی عام ڈیل کی حیثیت نہیں رکھتا بلکہ یہ ایک خطی و عالمی اسٹریٹجک ردعمل ہے۔
بھارت کی جارحانہ پالیسیوں، اسرائیلی اثرات اور مشرقِ وسطیٰ کی غیر یقینی صورتحال کے تناظر میں یہ معاہدہ پاکستان اور سعودی عرب کو ایک نیا دفاعی بلاک بنانے کی سمت لے جا رہا ہے
پاکستان نے ایک بار پھر عالمی برادری کو باور کرایا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں قیام امن تبھی ممکن ہے جب اسرائیلی جارحیت کا مؤثر جواب دیا جائے اور فلسطینی عوام کے حقوق کو تسلیم کیا جائے
یہ تمام حقائق اس حقیقت کو اجاگر کرتے ہیں کہ ماہرنگ بلوچ محض انسانی حقوق کی کارکن نہیں بلکہ کالعدم تنظیموں کے بیانیے کو مضبوط کرنے والی ایک سہولت کار کے طور پر سامنے آئی ہیں۔ ان کی سرگرمیاں بلوچستان کے امن اور ترقی کے لیے سنگین خطرہ سمجھی جا رہی ہیں۔
بہر حال یہ ایک طویل موضوع ہے اور دنیا اس پر لکھتی رہی ہے اور لکھتی رہے گی کہ کیسے سپر پاور امریکہ 20 سال افغانستان کے پتھروں میں سر پٹختا رہا اور بالآخر ناکام لوٹا