بھارتی اپوزیشن جماعت نے کہا کہ یہ قومی وقار، بین الاقوامی ساکھ کا معاملہ ہے جس پر مودی کو جوابدہ ہونا چاہیے، مودی بتائیں کہ وہ جیفری ایپسٹین سے کس قسم کا مشورہ لے رہے تھے؟ مودی اسرائیل میں کیوں ناچے گائے؟ اس سے ٹرمپ کو کیا فائدہ ہوا؟

February 1, 2026

جدید جنگیں صرف میدانِ جنگ میں نہیں لڑی جاتیں، یہ بیانیے کے محاذ پر بھی لڑی جاتی ہیں۔ ایک لفظ عالمی ہمدردی کا رخ موڑ سکتا ہے، پابندیوں کو سوالیہ نشان بنا سکتا ہے اور دہشت گردی کو “قابلِ فہم غصہ” کے طور پر پیش کر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ درست اصطلاحات کا استعمال صحافتی ذمہ داری ہے، نہ کہ ریاستی مؤقف کی حمایت یا مخالفت کا معاملہ۔

February 1, 2026

امریکہ کی ناظم الامور نیٹلی بیکر نے 31 جنوری کو بلوچستان میں سکیورٹی اہلکاروں اور شہریوں کے خلاف ہونے والے دہشت گرد حملوں کی سخت مذمت کی ہے، جن کی ذمہ داری کالعدم تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے قبول کی، جو امریکا کی جانب سے نامزد غیر ملکی دہشت گرد تنظیم ہے۔

February 1, 2026

سکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشت گردوں نے اپنے غیر ملکی آقاؤں کے ایما پر بلوچستان میں ترقیاتی عمل اور عوامی زندگی کو متاثر کرنے کے لیے نہایت بزدلانہ حملے کیے۔ ضلع گوادر اور خاران میں دہشت گردوں نے جان بوجھ کر 18 معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا، جن میں خواتین، بچے، بزرگ اور محنت کش مزدور شامل تھے، جو جامِ شہادت نوش کر گئے۔

February 1, 2026

واضح رہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی معاہدہ 10 اکتوبر 2025 کو نافذ ہوا تھا، جو غزہ کے لیے پیش کیے گئے امن منصوبے کے پہلے مرحلے کا حصہ تھا۔ معاہدے کے تحت قیدیوں کا تبادلہ بھی کیا گیا، جبکہ دوسرے مرحلے میں حماس کو غیر مسلح کرنے اور ایک بین الاقوامی استحکام فورس کے قیام کی شق شامل ہے۔ تاہم حالیہ حملوں نے معاہدے کی ساکھ اور امن کوششوں پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

February 1, 2026

عالمی تنظیموں اور میڈیا اداروں کی جانب سے بی ایل اے کو علیحدگی پسند تنظیم کے طور پر پیش کیا جانا بھی اسی بیانیے کی جنگ کا حصہ ہے۔ بی ایل اے ایک مسلح دہشت گرد تنظیم ہے جو عام شہریوں کے قتل اور اغوا کے سینکڑوں کیسز میں ملوث ہے۔ اس کے علاوہ ریاست پاکستان اور سکیورٹی فورسز کے کئی جوانوں کا خون اسی تنظیم کے سر ہے۔ بی ایل اے کو عالمی سطح پر دہشت گرد تنظیم تسلیم کیا جا چکا ہے اور بی ایل اے نے بارہا اپنی کاروائیوں سے ثابت بھی کیا ہے کہ وہ علیحدگی پسند نہیں ایک بے رحم مسلح دہشت گرد تنظیم ہیں۔

February 1, 2026

پنجاب کے دریاؤں میں طغیانی برقرار، چالیس لاکھ سے زیادہ افراد متاثر

اب تک اس سیلاب سے 41 لاکھ 51 ہزار سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں جبکہ سیلابی صورتحال کے باعث ہلاک ہونے والوں کی تعداد 56 ہے۔
پنجاب کے دریاؤں میں طغیانی برقرار، چالیس لاکھ سے زیادہ افراد متاثر

پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ پنجاب کے دریاؤں میں طغیانی کی صورتحال برقرار ہے جبکہ آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران صوبے کے بیشتر اضلاع میں شدید اور طوفانی بارشوں کی پیشگوئی کی گئی ہے۔

September 7, 2025

پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ پنجاب کے دریاؤں میں طغیانی کی صورتحال برقرار ہے۔ ادھر ریلیف کمشنر پنجاب نبیل جاوید نے 9 ستمبر تک پنجاب کے دریاؤں راوی، ستلج اور چناب میں انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

ریلیف کمشنر کا کہنا ہے کہ ’بالائی علاقوں میں بارشوں کے باعث دریاؤں کے بہاؤ میں غیر معمولی اضافے کا خدشہ ہے۔ وزیر اعلٰی پنجاب کی ہدایات کے پیش نظر تمام متعلقہ محکمے الرٹ ہیں۔

’شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔‘

ترجمان پی ڈی ایم اے کے جاری کردہ بیان کے مطابق دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب اور پانی کا بہاؤ 3 لاکھ 11 ہزار کیوسک ہے۔ سلیمانکی کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب اور پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 38 ہزار کیوسک ہے۔ مرالہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 84 ہزار کیوسک ہے۔

دوسری طرف دریائے راوی میں جسڑ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب اور پانی کا بہاؤ 56 ہزار کیوسک ہے۔ بلوکی ہیڈ ورکس کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب اور پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 48 ہزار کی کیوسک ہے جبکہ ہیڈ سدھنائی کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب اور پانی کا بہاؤ 91 ہزار کیوسک ہے۔

پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ پنجاب کے دریاؤں میں طغیانی کی صورتحال برقرار ہے جبکہ آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران صوبے کے بیشتر اضلاع میں شدید اور طوفانی بارشوں کی پیشگوئی کی گئی ہے۔

اب تک اس سیلاب سے 41 لاکھ 51 ہزار سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں جبکہ سیلابی صورتحال کے باعث ہلاک ہونے والوں کی تعداد 56 ہے۔

دیکھیں: پنجاب میں حالیہ سیلاب سے اب تک 46 افراد جاں بحق، تیس لاکھ سے زائد افراد متاثر

متعلقہ مضامین

بھارتی اپوزیشن جماعت نے کہا کہ یہ قومی وقار، بین الاقوامی ساکھ کا معاملہ ہے جس پر مودی کو جوابدہ ہونا چاہیے، مودی بتائیں کہ وہ جیفری ایپسٹین سے کس قسم کا مشورہ لے رہے تھے؟ مودی اسرائیل میں کیوں ناچے گائے؟ اس سے ٹرمپ کو کیا فائدہ ہوا؟

February 1, 2026

جدید جنگیں صرف میدانِ جنگ میں نہیں لڑی جاتیں، یہ بیانیے کے محاذ پر بھی لڑی جاتی ہیں۔ ایک لفظ عالمی ہمدردی کا رخ موڑ سکتا ہے، پابندیوں کو سوالیہ نشان بنا سکتا ہے اور دہشت گردی کو “قابلِ فہم غصہ” کے طور پر پیش کر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ درست اصطلاحات کا استعمال صحافتی ذمہ داری ہے، نہ کہ ریاستی مؤقف کی حمایت یا مخالفت کا معاملہ۔

February 1, 2026

امریکہ کی ناظم الامور نیٹلی بیکر نے 31 جنوری کو بلوچستان میں سکیورٹی اہلکاروں اور شہریوں کے خلاف ہونے والے دہشت گرد حملوں کی سخت مذمت کی ہے، جن کی ذمہ داری کالعدم تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے قبول کی، جو امریکا کی جانب سے نامزد غیر ملکی دہشت گرد تنظیم ہے۔

February 1, 2026

سکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشت گردوں نے اپنے غیر ملکی آقاؤں کے ایما پر بلوچستان میں ترقیاتی عمل اور عوامی زندگی کو متاثر کرنے کے لیے نہایت بزدلانہ حملے کیے۔ ضلع گوادر اور خاران میں دہشت گردوں نے جان بوجھ کر 18 معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا، جن میں خواتین، بچے، بزرگ اور محنت کش مزدور شامل تھے، جو جامِ شہادت نوش کر گئے۔

February 1, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *