آزاد کشمیر میں بلدیاتی و عمومی انتخابات کے تیسرے مرحلے میں عوام کی بھرپور اور پُرامن شرکت نے کالعدم ایکشن کمیٹی کے منفی بیانیے کو عملاً مسترد کر دیا۔

August 10, 2026

جامعہ دارالعلوم کراچی کے دارالافتاء نے ایک فتویٰ میں واضح کیا ہے کہ اسلام میں لڑکیوں کی تعلیم اور ملازمت پر پابندی کی کوئی مطلق بنیاد موجود نہیں ہے۔

August 10, 2026

پاک فوج نے باجوڑ کے علاقے گھاکھی میں فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد کر کے 6 دیہات کے 800 سے زائد رہائشیوں کو مفت طبی سہولیات اور ادویات فراہم کر دیں۔

August 10, 2026

افغان طالبان کے وزیر نور محمد ثاقب نے پاکستان سے تعلقات کی استواری اور بھارت سے زیادہ قربت کے خطرات سے خبردار کیا ہے۔

August 10, 2026

بلوچستان کے ضلع پنجگور میں سکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بیسڈ کارروائی کرتے ہوئے اہم سرغنہ سمیت 5 دہشت گردوں کو ہلاک کر کے بھاری مقدار میں اسلحہ برآمد کر لیا۔

August 10, 2026

برطانوی اخبار دی گارڈین میں شائع ہونے والی رپورٹ کے بعد پاکستان اور برطانیہ کے درمیان حوالگیِ ملزمان کی یکطرفہ پالیسی پر ایک بار پھر سوالات اٹھ گئے ہیں۔

August 10, 2026

کیا ماہرنگ بلوچ انسانی حقوق کی آڑ میں ریاست مخالف گروہوں کی پشت پناہی کر رہی ہیں؟

یہ تمام حقائق اس حقیقت کو اجاگر کرتے ہیں کہ ماہرنگ بلوچ محض انسانی حقوق کی کارکن نہیں بلکہ کالعدم تنظیموں کے بیانیے کو مضبوط کرنے والی ایک سہولت کار کے طور پر سامنے آئی ہیں۔ ان کی سرگرمیاں بلوچستان کے امن اور ترقی کے لیے سنگین خطرہ سمجھی جا رہی ہیں۔
کیا ماہرنگ بلوچ انسانی حقوق کی آڑ میں ریاست مخالف گروہوں کی پشت پناہی کر رہی ہیں؟

مزید انکشاف یہ ہوا ہے کہ ماہرنگ بلوچ کا اپنا کزن اور باڈی گارڈ صہیب لانگو، جولائی 2025 میں تربت میں بی ایل اے کے ایک سرمچار کے طور پر ہلاک ہوا۔

September 6, 2025

بلوچ یکجہتی کمیٹی اور اس کی سربراہ ماہرنگ بلوچ کے بارے میں نئے انکشافات سامنے آئے ہیں جنہوں نے بلوچستان میں سرگرم کالعدم تنظیموں اور پروپیگنڈا مہمات کے درمیان تعلق کو مزید واضح کر دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق، ماہرانگ بلوچ نہ صرف کالعدم بلوچ لبریشن آرمی اور بلوچ لبریشن فرنٹ کے بیانیے کو پھیلاتی ہیں بلکہ مختلف مواقع پر براہِ راست ان کی کارروائیوں کی پردہ پوشی بھی کرتی رہی ہیں۔

ذرائع کے مطابق ماہرنگ نے جعفر ایکسپریس ہائی جیکنگ کے بعد ہلاک ہونے والے بی ایل اے دہشت گرد کی لاش چھیننے کی کوشش کی تھی۔ اسی طرح مشخ حملے کے مرکزی کردار ودود ستک زئی کو، جسے بی ایل اے نے ایک خودکش بمبار کے طور پر تسلیم کیا، ماہرنگ نے ’’لاپتہ شخص‘‘ کے طور پر پیش کیا۔ مزید یہ کہ گوادر اور مشخ حملوں میں مارے جانے والے عسکریت پسندوں کی لاشوں کے حصول کی کوشش بھی انہوں نے کی۔

مزید انکشاف یہ ہوا ہے کہ ماہرنگ بلوچ کا اپنا کزن اور باڈی گارڈ صہیب لانگو، جولائی 2025 میں تربت میں بی ایل اے کے ایک سرمچار کے طور پر ہلاک ہوا۔ یہ واقعہ اس بات کی کھلی دلیل ہے کہ ان کے قریبی حلقے بھی براہِ راست دہشت گرد گروہوں میں شامل ہیں۔

مبصرین کے مطابق بی وائے سی نہ تو کوئی آئینی ادارہ ہے اور نہ ہی اس کی قانونی حیثیت موجود ہے۔ اس کے باوجود یہ تنظیم بلوچستان میں ترقیاتی منصوبوں خصوصاً گوادر اور سی پیک کے خلاف مسلسل مہم چلا رہی ہے۔ ان کے جلسوں اور احتجاجی کیمپوں میں بی ایل اے کے کارکنان کے شامل ہونے کے شواہد بھی ملے ہیں۔

ذرائع یہ بھی بتاتے ہیں کہ ماہرنگ بلوچ نے بیرونِ ملک، خصوصاً ناروے کے دورے کے دوران فنڈنگ حاصل کی تاکہ پاکستان مخالف پروپیگنڈے کو تقویت دی جا سکے۔ اسی تناظر میں ان کے جلسوں میں پیش کیے جانے والے ’’لاپتہ افراد‘‘ میں سے کئی بعد میں بی ایل اے اور بی ایل ایف کے خودکش حملہ آوروں کے طور پر سامنے آئے۔

یہ تمام حقائق اس حقیقت کو اجاگر کرتے ہیں کہ ماہرنگ بلوچ محض انسانی حقوق کی کارکن نہیں بلکہ کالعدم تنظیموں کے بیانیے کو مضبوط کرنے والی ایک سہولت کار کے طور پر سامنے آئی ہیں۔ ان کی سرگرمیاں بلوچستان کے امن اور ترقی کے لیے سنگین خطرہ سمجھی جا رہی ہیں۔

دیکھیں: بلوچستان میں بی این پی کے جلسے کے باہر دھماکہ، 13 افراد جاں بحق

متعلقہ مضامین

آزاد کشمیر میں بلدیاتی و عمومی انتخابات کے تیسرے مرحلے میں عوام کی بھرپور اور پُرامن شرکت نے کالعدم ایکشن کمیٹی کے منفی بیانیے کو عملاً مسترد کر دیا۔

August 10, 2026

جامعہ دارالعلوم کراچی کے دارالافتاء نے ایک فتویٰ میں واضح کیا ہے کہ اسلام میں لڑکیوں کی تعلیم اور ملازمت پر پابندی کی کوئی مطلق بنیاد موجود نہیں ہے۔

August 10, 2026

پاک فوج نے باجوڑ کے علاقے گھاکھی میں فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد کر کے 6 دیہات کے 800 سے زائد رہائشیوں کو مفت طبی سہولیات اور ادویات فراہم کر دیں۔

August 10, 2026

افغان طالبان کے وزیر نور محمد ثاقب نے پاکستان سے تعلقات کی استواری اور بھارت سے زیادہ قربت کے خطرات سے خبردار کیا ہے۔

August 10, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *