سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ اس دورے کے دوران پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان کئی اہم معاشی اور تجارتی معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں کی منظوری بھی دی جائے گی، جن کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
ماہر افغان امور سلمان جاوید نے ایچ ٹی این اردو سے گفتگو میں کہا کہ یہ کاروائی ظاہر کرتی ہے کہ داعش اب بھی افغانستان میں باقاعدہ سرگرم ہے اور بھرتیوں سے لے کر کاروائیوں تک اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ داعش اب بھی نہ صرف خطے اور عالمی امن کیلئے خطرہ ہے بلکہ دیگر کئی شدت پسند تنظیموں کی طرح افغانستان کو اپنا مسکن بنائے ہوئے ہے۔
رپورٹ کے اختتام پر کہا گیا کہ طاقت کے ذریعے مسلط کیا گیا استحکام، اس امن کا متبادل نہیں ہو سکتا جو سیاسی شمولیت، انسانی حقوق، معاشی بحالی اور علاقائی تعاون سے جنم لیتا ہے۔ جب تک طالبان محض انکار کے بجائے قابلِ تصدیق اقدامات نہیں کرتے، افغانستان میں پائیدار امن ایک دور کی حقیقت ہی رہے گا۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سمندر پار پاکستانی پاکستان کی ثقافت اور صلاحیتوں کے سفیر ہیں اور مختلف اقوام کے درمیان ایک مضبوط پل کا کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کی سالانہ 38 ارب ڈالر سے زائد ترسیلاتِ زر ملکی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں اور لاکھوں خاندانوں کا ذریعہ معاش ہیں، تاہم ان کی اصل طاقت ان کی محنت، مہارت اور عزم میں پوشیدہ ہے۔
ملاقات کے دوران دونوں فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ دہشت گردی اور عسکریت پسندی کے بڑھتے ہوئے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے علاقائی ممالک کے درمیان مربوط اور مشترکہ اقدامات کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں مستقبل میں مزید ملاقاتیں اور تعاون کے منصوبے زیر غور ہیں تاکہ خطے میں اقتصادی ترقی اور سیکیورٹی کو یقینی بنایا جا سکے۔
پاکستان نے بھی بونڈائی بیچ پر ہونے والے دہشت گرد حملے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایک بیان میں کہا کہ پاکستان اس دہشت گردی کے واقعے سے شدید رنجیدہ ہے اور آسٹریلیا کی حکومت، عوام اور بالخصوص زخمیوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔
یہاں سوال انسانی حقوق کے انکار کا نہیں، بلکہ احتساب، تصدیق اور طریقۂ کار کا ہے۔ جب تشدد جیسے سنگین قانونی تصورات کو بغیر عدالتی یا تحقیقی بنیاد کے استعمال کیا جائے تو یہ نہ صرف قانونی معنویت کو کمزور کرتا ہے بلکہ انسانی حقوق کے عالمی نظام کی ساکھ کو بھی متاثر کرتا ہے۔
محکمہ تعلیم کے مطابق، اس ادارے میں 600 سے زائد بچے زیرِ تعلیم تھے، اور یہ پورے علاقے میں واحد فعال پرائمری اسکول تھا۔ حکام نے متاثرہ حصوں کو سیل کرکے متبادل تعلیمی بندوبست کے لیے ہنگامی منصوبہ بندی شروع کر دی ہے۔
جرگہ میں پیش کیے گئے مطالبات میں آپریشن کے مکمل ہونے کے بعد دو ماہ کے اندر عوام کی واپسی اور بحالی، ہر خاندان کو 5 لاکھ روپے ایڈوانس اور ایک لاکھ روپے ماہانہ مالی امداد، تیراہ میدان میں تعلیمی اداروں کی تعمیر، صحت، پانی اور بجلی کی سہولیات کی فراہمی، اور نقصان شدہ زمین و جائیداد کا معاوضہ شامل ہے۔