"> پاک افغان سرحدی علاقے میں مشترکہ انٹیلی جنس آپریشن میں ترک نژاد داعش کمانڈر گرفتار؛ ترکی منتقل - HTN Urdu

پاک افغان سرحدی علاقے میں مشترکہ انٹیلی جنس آپریشن میں ترک نژاد داعش کمانڈر گرفتار؛ ترکی منتقل

ماہر افغان امور سلمان جاوید نے ایچ ٹی این اردو سے گفتگو میں کہا کہ یہ کاروائی ظاہر کرتی ہے کہ داعش اب بھی افغانستان میں باقاعدہ سرگرم ہے اور بھرتیوں سے لے کر کاروائیوں تک اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ داعش اب بھی نہ صرف خطے اور عالمی امن کیلئے خطرہ ہے بلکہ دیگر کئی شدت پسند تنظیموں کی طرح افغانستان کو اپنا مسکن بنائے ہوئے ہے۔
پاک افغان سرحدی علاقے میں مشترکہ انٹیلی جنس آپریشن میں ترک نژاد داعش کمانڈر گرفتار؛ ترکی منتقل

ذرائع کے مطابق یہ واقعہ خطے میں داعش خراسان کے خلاف جاری انٹیلی جنس دباؤ میں ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔

December 23, 2025

پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقے میں ترک انٹیلی جنس اور افغان جنرل ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس کے مشترکہ آپریشن کے دوران داعش خراسان کے ایک اہم کمانڈر کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ گرفتار ہونے والا شدت پسند ترک نژاد بتایا جا رہا ہے جسے بعد ازاں ترکی منتقل کر دیا گیا۔ ترک سرکاری خبر رساں ادارے انادولو ایجنسی کے مطابق گرفتار ملزم کی شناخت مہمت گورین کے نام سے ہوئی ہے، جو داعش کے نام نہاد اعلیٰ رہنماؤں میں شمار کیا جاتا تھا۔

ترک حکام کے مطابق یہ کارروائی ایک مشترکہ انٹیلی جنس آپریشن کے تحت عمل میں لائی گئی، جس میں ترک انٹیلی جنس ادارے نے افغان جی ڈی آئی کے ساتھ قریبی تعاون کیا۔ مہمت گورین کو پاکستان۔افغانستان سرحدی پٹی میں ٹریس کر کے گرفتار کیا گیا، جہاں وہ مبینہ طور پر داعش خراسان کے لیے نیٹ ورکنگ، بھرتی اور آپریشنل منصوبہ بندی میں مصروف تھا۔ گرفتاری کے بعد اسے سخت سیکیورٹی میں ترکی منتقل کیا گیا ہے، جہاں اس سے مزید تفتیش جاری ہے۔

ذرائع کے مطابق یہ واقعہ خطے میں داعش خراسان کے خلاف جاری انٹیلی جنس دباؤ میں ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار کمانڈر کے قبضے سے ڈیجیٹل شواہد اور رابطوں کی تفصیلات بھی ملی ہیں، جن کی بنیاد پر مزید گرفتاریوں اور نیٹ ورک کے انکشافات کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ یہ حالیہ مہینوں میں ترک انٹیلی جنس کے تعاون سے ہونے والی دوسری بڑی گرفتاری بتائی جا رہی ہے، جس میں پاکستان کا بالواسطہ کردار زیرِ بحث ہے۔ اس سے قبل بھی ایک ہائی پروفائل داعش سے وابستہ فرد کی گرفتاری سامنے آ چکی ہے، جس نے علاقائی اور عالمی سطح پر توجہ حاصل کی تھی۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دونوں کیسز ایک وسیع تر انٹیلی جنس تعاون کا حصہ ہیں، جس کا مقصد سرحد پار دہشت گرد نیٹ ورکس کو توڑنا ہے۔

ماہر افغان امور سلمان جاوید نے ایچ ٹی این اردو سے گفتگو میں کہا کہ یہ کاروائی ظاہر کرتی ہے کہ داعش اب بھی افغانستان میں باقاعدہ سرگرم ہے اور بھرتیوں سے لے کر کاروائیوں تک اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ داعش اب بھی نہ صرف خطے اور عالمی امن کیلئے خطرہ ہے بلکہ دیگر کئی شدت پسند تنظیموں کی طرح افغانستان کو اپنا مسکن بنائے ہوئے ہے۔

سیکیورٹی تجزیہ کاروں کے مطابق ترک انٹیلی جنس، افغان اداروں اور خطے کے دیگر ممالک کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون داعش خراسان کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس کیس سے متعلق مزید اہم تفصیلات اور ممکنہ تصاویر آئندہ دنوں میں سامنے لائی جائیں گی، جو داعش کے علاقائی نیٹ ورک کی اصل ساخت کو مزید واضح کر سکتی ہیں۔

دیکھیں: طالبان کا نظم اور افغانستان کا غیر یقینی مستقبل

متعلقہ مضامین

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کو یمن کے حوثیوں کے خلاف کارروائیوں میں اسرائیلی مدد قبول کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

October 17, 2026

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *