آزاد کشمیر میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے جاری تحریک اور دھرنوں نے خطے کے عوام کے لیے شدید مشکلات پیدا کر دی ہیں۔ ایک طرف حقوق کے حصول کا نعرہ لگایا جا رہا ہے، تو دوسری طرف سڑکوں کی بندش، تعلیمی اداروں کی صورتِ حال اور قانونی شکنی کے الزامات پر سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں
جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے حکومت کے خلاف حقوق نہ ملنے کا مؤقف اختیار کرتے ہوئے تحریک شروع کی۔ تاہم، یہ تحریک اب عام شہریوں کے لیے دردِ سر بن چکی ہے۔ راولا کوٹ میں جاری دھرنوں میں تقریباً 100 افراد موجود ہیں، جن کی قیادت خود دھرنے میں بیٹھی ہے۔ مظاہرین کو خدشہ ہے کہ احتجاج ختم کرنے پر انہیں گرفتار کر لیا جائے گا۔ یہ مؤقف بھی سامنے آ رہا ہے کہ ماضی کی توڑ پھوڑ میں ملوث افراد گرفتاری کے خوف سے دھرنا ختم نہیں کر رہے، اور حکومت مخالف بیانیے کے ذریعے عوام میں خوف کی فضا پیدا کی جا رہی ہے۔
احتجاج کے باعث راولا کوٹ کی اہم شاہراہیں اور مواصلاتی رابطے مفلوج ہیں۔ باغ سے راولا کوٹ اور آزاد پتن سے راولا کوٹ کے دونوں راستے بند ہیں اور گاڑیوں کو گزرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ ان بندشوں کی وجہ سے عوام کی آمدورفت اور روزمرہ زندگی شدید متاثر ہو چکی ہے۔
تعلیمی اداروں کے حوالے سے سامنے آنے والے حقائق اس بیانیے کے برعکس ہیں۔ آزاد کشمیر کی تمام ساتوں جامعات اور تمام کالجز مکمل طور پر کھلے ہیں، جن میں راولا کوٹ کے ڈگری اور میڈیکل کالجز بھی شامل ہیں۔ اسکولوں کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ راولا کوٹ کے صرف 20 فیصد اسکول احتجاج کی وجہ سے بند ہیں۔ جامعات یا اسکولوں میں فوج یا پولیس کی غیر قانونی موجودگی کا دعویٰ بے بنیاد ہے۔ راولا کوٹ کے بعض کھلے اسکولوں میں پولیس صرف سیکیورٹی کے لیے تعینات ہے، جو اسکول انتظامیہ کی باقاعدہ درخواست پر کی گئی۔ اسکولوں میں مجموعی سہولیات موجود ہیں، جبکہ چند مقامات پر سہولیات کی عدم دستیابی کو احتجاجی عناصر سے منسوب کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب، جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی طرف سے یہ پراپیگنڈا کیا جا رہا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے جامعات کے اندر موجود ہیں، تاکہ عوام میں اشتعال پھیلایا جا سکے۔ حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ ان تمام دعوؤں کی آزادانہ تصدیق سے حقیقت واضح ہو جاتی ہے۔
حکومت کے مؤقف کے مطابق ان دھرنوں کا خاتمہ مشکل نہیں، لیکن خون خرابے اور جانی نقصان سے بچنے کے لیے شدید تحمل کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔ ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ 2011 یا 2012 میں موسوی کے حامیوں کے دھرنے کو حکومت نے اے پی سیز بھیج کر ختم کرایا تھا اور تمام افراد گرفتار ہوئے تھے۔
موجودہ صورتِ حال میں خدشہ یہ ہے کہ مظاہرین کی قیادت خود پیچھے ہٹ کر عوام کو آگے کر سکتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مظاہرین کو کسی نے محصور نہیں کیا بلکہ وہ خود اپنی مرضی سے دھرنوں میں بیٹھے ہیں۔
اس پورے معاملے میں ایک اہم نکتہ میرپور سے تعلق رکھنے والے بعض افراد کی شرکت کا ہے، جن پر پچھلے پرتشدد واقعات میں توڑ پھوڑ میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔ حکومت کی جانب سے یہ واضح پیغام دیا گیا ہے کہ میرپور کے لوگ واپس آ جائیں، انہیں کچھ نہیں کہا جائے گا، تاکہ کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکا جا سکے اور معاملات پرامن طریقے سے حل ہوں۔





