"> شہید کی والدہ کا مولانا فضل الرحمٰن کو جائداد اور بیٹے کا چیلنج
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

شہید کی والدہ کا مولانا فضل الرحمٰن کو چیلنج: کروڑوں کی جائداد دوں گی، بیٹے کو سرحد پر بھیجیں

مولانا فضل الرحمٰن کی جانب سے پاک فوج کے عام سپاہی کی تنخواہ سے متعلق متنازع بیان پر شہید کی والدہ، معروف صحافیوں اور وفاقی پارلیمانی سیکرٹری برائے دفاع نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔
عام سپاہی پر طنز، مولانا فضل الرحمٰن کے بیان پر شہید کی والدہ اور حکومت کا شدید ردعمل

مولانا فضل الرحمٰن کے عام سپاہی کی تنخواہ پر طنز کے خلاف شہید کی والدہ نے کروڑوں کی جائداد دینے اور مولانا کے بیٹے کو سرحد پر بھیجنے کا چیلنج دے دیا، جبکہ رؤف کلاسرا اور اسامہ سرور نے بھی سخت مذمت کی ہے۔

July 15, 2026

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کی جانب سے پاک فوج کے عام سپاہی کی تنخواہ کو لے کر دیے گئے حالیہ متنازع بیان پر عوامی اور سیاسی حلقوں سمیت صحافتی برادری کی جانب سے شدید غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں ایک پاک فوج کے شہید سپاہی کی والدہ، معروف تجزیہ کاروں اور حکومتی عہدیداروں کے انتہائی سخت بیانات سامنے آئے ہیں۔

سوشل میڈیا پر جاری ایک انٹرویو میں پاک فوج کے شہید سپاہی جہانزیب کی والدہ نے مولانا فضل الرحمٰن کے بیان پر شدید دکھ اور غصے کا اظہار کیا۔ انہوں نے روتے ہوئے انتہائی جذباتی انداز میں جے یو آئی (ف) کے سربراہ کو للکارا اور ایک بڑا چیلنج پیش کیا۔

شہید کی والدہ نے مولانا فضل الرحمٰن کو چیلنج کرتے ہوئے کہا، میں مولانا فضل الرحمٰن کو چیلنج کرتی ہوں کہ میں انہیں اپنی کروڑوں روپے کی جائداد اور یہ گھر دینے کو تیار ہوں۔ مولانا اپنے اس بیٹے کو جو اسمبلی میں بیٹھا عیش کر رہا ہے، ذرا باہر لائیں اور اسے ملک کی سرحد پر، خاص طور پر انڈیا کے بارڈر پر تھوڑی دیر کے لیے کھڑا کریں۔ اگر وہاں اس کی ٹانگیں نہ کانپیں تو پھر مجھ سے بات کریں۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب ان کے بیٹے کی شہادت کی خبر آئی تو وہ اپنی پوری کائنات قربان کرنے کو تیار تھیں کہ کوئی ان کا بیٹا واپس کر دے، لیکن شہید کبھی لوٹ کر نہیں آتے۔ ان کا کہنا تھا کہ تنخواہوں پر طنز کرنے والوں کو شہید کے مرتبے اور اس کے تقدس کا اندازہ ہی نہیں ہے، ایک سپاہی چند ہزار روپے کے لیے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر سرحدوں کی حفاظت نہیں کرتا۔

دوسری جانب، معروف صحافی اور تجزیہ کار رؤف کلاسرا نے بھی مولانا فضل الرحمٰن کی اس گفتگو کو شدید بے حسی قرار دیا ہے۔ رؤف کلاسرا نے اپنے سوشل میڈیا بیان میں لکھا کہ پاکستان کی عسکری قیادت کو سیاسی کردار کی وجہ سے ہمیشہ تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے، لیکن مولانا فضل الرحمٰن کی جانب سے ایک عام سپاہی کے بارے میں کہے گئے الفاظ ان کی گہری بے حسی کا ثبوت ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ ایک عام سپاہی ہاتھ میں بندوق تھام کر محض ایک لاکھ روپے کی تنخواہ کے لیے موت کے منہ میں نہیں جاتا۔ جان دینا اور دشمن کے سامنے ڈٹ جانا صرف نوکری یا تنخواہ کا معاملہ نہیں ہوتا، لیکن مولانا نے اپنی تقریر میں اسی معمولی تنخواہ کو طنز کا نشانہ بنایا جو انتہائی افسوسناک ہے۔

اس معاملے پر حکومتی ردعمل بھی سامنے آیا ہے۔ وفاقی پارلیمانی سیکرٹری برائے دفاع اسامہ سرور نے بھی جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے اس متنازع بیان کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے اور اسے ملکی دفاع کے لیے سرحدوں پر مامور جوانوں کی قربانیوں کی توہین قرار دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *