"> بدخشاں: سونے کی کانوں پر قبضے کے لیے افغان طالبان کے مسلح جتھوں کی مداخلت - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

بدخشاں: سونے کی کانوں پر قبضے کے لیے افغان طالبان کے مسلح جتھوں کی مداخلت

افغانستان کے صوبے بدخشاں میں سونے کی کانوں پر قبضے کے لیے طالبان قیادت کے قریبی گروہ نے بھاری مسلح نفری تعینات کر دی ہے، جس سے مقامی اور مرکزی دھڑوں کے درمیان تناؤ میں اضافہ ہو گیا ہے
افغانستان کے صوبے بدخشاں میں سونے کی کانوں پر قبضے کے لیے طالبان قیادت کے قریبی گروہ نے بھاری مسلح نفری تعینات کر دی ہے، جس سے مقامی اور مرکزی دھڑوں کے درمیان تناؤ میں اضافہ ہو گیا ہے

بدخشاں کے ضلع چاہ آب میں سونے کی کانوں پر کنٹرول کے لیے طالبان کے ایک بااثر گروہ نے ایک ہزار سے زائد مسلح کارندے تعینات کر دیے ہیں۔ یہ اقدام مقامی تاجک طالبان کی جانب سے مزدوروں پر فائرنگ کے احکامات ماننے سے انکار کے بعد سامنے آیا ہے

February 20, 2026

افغانستان کے شمالی صوبے بدخشاں کے ضلع چاہ آب میں سونے کی قیمتی کانوں پر قبضے اور کنٹرول کے حصول کے لیے طالبان کے ایک بااثر مسلح گروہ کی جانب سے غیر معمولی اقدامات کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق طالبان کی اعلیٰ قیادت کے قریبی سمجھے جانے والے ‘مافیا ونگ’ نے علاقے میں ایک ہزار سے زائد مسلح جنگجو تعینات کر دیے ہیں تاکہ کان کنی کے وسائل پر اپنی گرفت مضبوط کی جا سکے۔

رپورٹس کے مطابق ان مسلح افراد کا تعلق طالبان کے امیر ملا ہیبت اللہ کے قریبی حلقوں ملا منصور اور عمر حاجی بشیر نورزئی کے سابق معاونین سے بتایا جاتا ہے۔ یہ نئی تعیناتیاں ایک ایسے وقت میں کی گئی ہیں جب علاقے میں موجود مقامی تاجک طالبان ارکان اور مرکزی قیادت کے نمائندوں کے درمیان شدید اختلافات پیدا ہو گئے ہیں۔

مزدوروں کے حقوق

تنازع کی اصل وجہ سونے کی کانوں میں کام کرنے والے مزدوروں کے مطالبات بنے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کان کنوں نے اپنی اجرتوں میں اضافے اور حاصل ہونے والے منافع میں حصہ دینے کا مطالبہ کیا تھا، جسے دبانے کے لیے مرکزی گروہ نے طاقت کے استعمال کا حکم دیا۔ تاہم، مقامی تاجک طالبان ارکان نے اپنے ہی لوگوں اور نہتے مزدوروں پر فائرنگ کرنے اور انہیں قتل کرنے کے احکامات کو مسترد کر دیا، جس کے بعد مرکزی قیادت کے زیرِ اثر گروہ نے بھاری نفری بھیج کر علاقے کا کنٹرول براہِ راست سنبھالنے کی کوشش کی ہے۔

اندرونی اختلافات

واضح رہے کہ بدخشاں میں معدنی وسائل، خاص طور پر سونے کی کانیں، مختلف طالبان دھڑوں کے درمیان آمدنی کے حصول کا بڑا ذریعہ رہی ہیں۔ حالیہ پیش رفت نے مقامی تاجک جنگجوؤں اور قندھار و کابل سے تعلق رکھنے والے بااثر حلقوں کے درمیان پہلے سے موجود خلیج کو مزید گہرا کر دیا ہے، جس کے اثرات افغانستان کی داخلی صورتحال پر مرتب ہو سکتے ہیں۔

دیکھیے: افغانستان میں قندھاری اور حقانی دھڑوں میں پراکسی جنگ کی تیاریاں

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *