بلوچستان میں حالیہ دہشت گردانہ حملوں کے بعد امریکہ نے پاکستان کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی اور تعاون کا اعلان کیا ہے۔ امریکی محکمۂ خارجہ کے بیورو آف ساؤتھ اینڈ سینٹرل ایشین افیئرز کی جانب سے جاری اہم بیان میں نہ صرف حملوں کی شدید مذمت کی گئی بلکہ ‘بلوچستان لبریشن آرمی’ کو ایک نامزد غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دیتے ہوئے اس کی سرکوبی کے لیے پاکستان کی کوششوں کی بھرپور حمایت کا یقین دلایا گیا۔
بیان میں واضح الفاظ میں کہا گیا ہے کہ “امریکہ بلوچستان میں حالیہ حملوں کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کی پاکستان کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔” یہ مؤقف واشنگٹن اور اسلام آباد کے درمیان سکیورٹی تعاون کو مضبوط کرنے کی واضح علامت ہے۔
امریکی حکام نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں وہ پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستانی سکیورٹی فورسز کی قربانیوں اور کوششوں کو تسلیم کرتے ہیں۔ ماہرینِ خارجہ پالیسی کے مطابق، امریکہ کی جانب سے بی ایل اے کو بار بار واضح طور پر “غیر ملکی دہشت گرد تنظیم” قرار دینا اور پاکستان کی حمایت میں دو ٹوک بیان جاری کرنا، نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان استحکام کی علامت ہے بلکہ ان تخریب کار گروہوں کے خلاف بین الاقوامی دباؤ میں بھی اضافہ کرے گا جو خطے کی سلامتی کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں۔


اس بیان کا اہم پہلو یہ ہے کہ امریکہ نے پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ میں اپنی شراکت داری پر دوبارہ زور دیا ہے۔ بیورو نے اپنے سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر اس بیان کو جاری کرتے ہوئے کہا کہ “ہم پاکستان کے ساتھ اپنے سکیورٹی تعاون اور خطے میں امن برقرار رکھنے کی کوششوں میں شراکت داری جاری رکھیں گے۔”
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ بیان اس وقت آیا ہے جب خطے میں سلامتی کے چیلنجز میں اضافہ ہو رہا ہے اور امریکہ کی جانب سے یہ واضح پیغام ہے کہ وہ پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اس کا ساتھ چھوڑنے کے بجائے اس کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔ اس اقدام سے دونوں ممالک کے درمیان سٹریٹجک ڈائیلاگ اور انٹیلی جنس اشتراک کو نئی تقویت ملنے کی توقع ہے۔