دہشتگردی صرف سکیورٹی کا مسئلہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے معاشی مشکلات، کمزور ادارے اور سماجی عوامل بھی کارفرما ہوتے ہیں، اس لیے اس کے خاتمے کیلئے جامع حکمت عملی درکار ہے۔

March 21, 2026

انہیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ مسلم دنیا کی واحد ایٹمی طاقت کو اندرونی خلفشار سے دوچار کر دینا کتنا بڑا جرم ہو گا۔ ان کی محبت عقیدت کا گھنٹہ گھر ایک شخص ہے ۔ اس کے علاوہ جو بھی ہے ان کی جانے بلا۔

March 21, 2026

آرمی چیف نے ایران کے حوالے سے گفتگو میں واضح کیا کہ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو ایران کے ساتھ کھڑے ہیں اور خطے میں جنگی کشیدگی کم کرنے کیلئے کردار ادا کر رہا ہے

March 20, 2026

بڑی تعداد میں فلسطینی مسجد میں داخل نہ ہو سکے اور انہیں باہر ہی نماز ادا کرنا پڑی۔ اس اقدام کو فلسطینی حلقوں نے سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے

March 20, 2026

نیتن یاہو نے ایک بیان میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا موازنہ منگول حکمران چنگیز خان سے کیا اور طاقت و جارحیت سے متعلق گفتگو کی

March 20, 2026

پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) 48 پوائنٹس کے ساتھ رینکنگ میں پانچویں نمبر پر رہی

March 20, 2026

بلوچستان میں گورننس، سکیورٹی اور اصلاحات کا جامع ماڈل: وزیراعلیٰ بلوچستان کی قیادت میں تاریخی اقدامات

بلوچستان حکومت نے واضح کیا ہے کہ صوبے میں سکیورٹی کا یہ ماڈل صرف عسکری کارروائی تک محدود نہیں بلکہ قانون، ادارہ جاتی اصلاحات، ڈیجیٹل شفافیت اور انتہا پسندی کے تدارک پر مبنی ایک جامع حکمت عملی ہے، جو دیرپا امن اور استحکام کی بنیاد بنے گی۔
بلوچستان میں گورننس، سکیورٹی اور اصلاحات کا جامع ماڈل: وزیراعلیٰ بلوچستان کی قیادت میں تاریخی اقدامات

صوبے بھر میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کا جال بچھایا گیا، جن کے تحت یکم جنوری تا 31 دسمبر 2025 کے دوران 90 ہزار 224 کارروائیاں کی گئیں۔

February 7, 2026

بلوچستان حکومت نے وزیراعلیٰ کی براہِ راست نگرانی اور محکمہ داخلہ کی قیادت میں 2024–2025 کے دوران سکیورٹی، گورننس اور ادارہ جاتی اصلاحات کا ایک غیر معمولی ماڈل نافذ کیا ہے، جس کا مقصد دہشتگردی کا خاتمہ، ریاستی رِٹ کا قیام، قانونی مضبوطی، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور عوامی اعتماد کی بحالی ہے۔

دہشتگردی کے خلاف فیصلہ کن انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز
صوبے بھر میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کا جال بچھایا گیا، جن کے تحت یکم جنوری تا 31 دسمبر 2025 کے دوران 90 ہزار 224 کارروائیاں کی گئیں۔ ان آپریشنز کے نتیجے میں 784 دہشتگردوں کو ہلاک یا غیر مؤثر بنایا گیا جبکہ سہولت کاروں، اسلحہ، لاجسٹکس اور فنانسنگ نیٹ ورکس کو نشانہ بنایا گیا۔

صوبائی انٹیلی جنس ہم آہنگی کا نیا نظام
بلوچستان میں پہلی مرتبہ پفٹیک کو فعال کیا گیا، جو پولیس، سی ٹی ڈی، اسپیشل برانچ، لیویز ٹرانزیشن اسٹرکچر، فرنٹیئر کور اور سول انتظامیہ کے درمیان مشترکہ انٹیلی جنس تجزیہ اور خطرات کے تعین کا مرکزی پلیٹ فارم ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سی ٹی ڈی، آئی بی، پولیس، اسپیشل برانچ اور ملٹری انٹیلی جنس کے مابین ڈیلی سچوایشن رپورٹس کو باقاعدہ ادارہ جاتی شکل دی گئی۔

ضلعی سطح پر سکیورٹی گورننس کی مضبوطی
تمام ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹیوں کو جدید آلات، لائیو ڈیش بورڈز اور فوکل پرسنز کے ذریعے آپس میں منسلک کیا گیا تاکہ ضلعی سطح پر فوری فیصلہ سازی ممکن ہو سکے۔

کارکردگی پر مبنی گورننس اور ڈیٹا شیئرنگ
کراس ڈیپارٹمنٹل کے پی آئیز متعارف کرائے گئے اور نیشنل انٹیلی جنس فریم ورک کے ساتھ باقاعدہ ڈیٹا شیئرنگ شروع کی گئی، جس سے شفافیت اور احتساب میں نمایاں بہتری آئی۔

ادارہ جاتی اصلاحات
سول ڈیفنس کو ختم کر کے اسپیشل برانچ میں ضم کیا گیا تاکہ داخلی سکیورٹی انٹیلی جنس کو مضبوط بنایا جا سکے۔ اسی طرح بی ایریاز کو اے ایریاز میں تبدیل کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تاکہ پولیسنگ کو یکساں بنایا جا سکے اور ریاستی رِٹ مضبوط ہو۔

غلط معلومات اور دشمن بیانیے کے خلاف مؤثر حکمت عملی
ریاست مخالف پروپیگنڈا اور جعلی خبروں کے تدارک کے لیے پیشگی اور حقائق پر مبنی بیانیہ تشکیل دیا گیا۔ نذربان کے نام سے مربوط نظام قائم کیا گیا جو دشمن پروپیگنڈا اور غلط معلومات کی نگرانی اور بروقت جواب کو ممکن بناتا ہے۔

شدت پسندی کے انسداد کے لیے علمی و عملی بنیادیں
انسدادِ پرتشدد انتہا پسندی کے لیے سنٹر آف ایکسیلنس قائم کیا گیا، جہاں تحقیق، تربیت، نوجوانوں کی شمولیت اور پالیسی معاونت پر کام شروع کر دیا گیا۔ سی وی ای کی 5آرایس پالیسی گائیڈ لائنز موصول ہو چکی ہیں اور روڈ میپ پر عملدرآمد شروع ہو گیا ہے۔

سخت سکیورٹی قوانین اور قانونی اصلاحات
کاؤنٹر وائلنس اینڈ ایکسٹریمزم ایکٹ 2024 اور سکیورٹی آف ولنریبل اسٹیبلشمنٹس ایکٹ 2024 نافذ کیے گئے۔ انسدادِ دہشتگردی ایکٹ میں 11-ای ای ای ای، 21-اے اے اے (فیس لیس کورٹس)، وٹنس پروٹیکشن ترمیم 2025 اور بی ایف ایس اے ترمیم 2025 جیسے اقدامات کیے گئے۔

حراستی مراکز اور قانونی تحفظات
سیکشن 11-ای ای ای ای کے تحت حراستی مراکز فعال کیے گئے جہاں طبی معائنہ، اہل خانہ سے ملاقات اور جسمانی تشدد پر مکمل پابندی جیسے تحفظات یقینی بنائے گئے۔

دہشتگرد نیٹ ورکس کی نگرانی اور قانونی کارروائی
فورتھ شیڈول میں دو برسوں کے دوران 800 افراد کو شامل کیا گیا۔ 528 پراسیکیوشن منظوریوں، 145 جے آئی ٹیز اور 25 میوچوئل لیگل اسسٹنس کیسز کے ذریعے قانونی عمل کو مؤثر بنایا گیا۔

تحقیقات، مقدمات اور عدالتی کارکردگی میں بہتری
105 مقدمات کرائمز برانچ، ایس سی آئی ڈبلیو اور سی ٹی ڈی کو منتقل کیے گئے جبکہ قانونی تقاضوں کے تحت 12 ایف آئی آرز واپس لی گئیں۔ 2024 میں 339 اور 2025 میں 435 مقدمات نمٹائے گئے، کامیابی کی شرح بالترتیب 85 اور 84 فیصد رہی۔

ڈیجیٹل گورننس اور شفافیت
محکمہ داخلہ میں ای آفس، ڈی ایم ایس، ایچ آر ایم آئی ایس اور بایومیٹرک و جیو فینسڈ حاضری نافذ کی گئی۔ سکیورٹی گورننس میں بی آئی ایس اے مانیٹرنگ، فورتھ شیڈول ماڈیولز، کرائم ڈیش بورڈز اور شکایتی نظام متعارف کروایا گیا۔

مالی نظم و نسق اور فیلڈ مانیٹرنگ
مالی اور پروکیورمنٹ ڈیجیٹائزیشن، جیو ٹیگڈ موبائل ایپس، وقت کے ساتھ رپورٹنگ اور لاجسٹکس ٹریکنگ کو یقینی بنایا گیا، جسے عوامی اعتماد اور پروپیگنڈا کے توڑ کے لیے ایک مؤثر ذریعہ قرار دیا گیا۔

منشیات اور پوست کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن
17 اضلاع میں 43 ہزار ایکڑ سے زائد رقبہ سروے کیا گیا، 4 ہزار 219 ایکڑ پر پوست تلف، 427 بورز ختم اور 518 سولر سسٹمز ضبط کیے گئے۔ 56 ایف آئی آرز اور 368 افراد کو فورتھ شیڈول میں شامل کیا گیا۔

سکیورٹی انفراسٹرکچر اور فنڈنگ
6 ارب روپے کے سکیورٹی منصوبوں میں سے 2 ارب 59 کروڑ خرچ جبکہ باقی فنڈز زیر استعمال ہیں۔ تھانوں اور پولیس پوسٹس کی مضبوطی کے لیے 2 ارب روپے مختص کیے گئے تاکہ دہشتگردی اور غیر قانونی سرگرمیوں کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکے۔

غیر قانونی غیر ملکیوں کی واپسی اور سکیورٹی نظم
غیر قانونی غیر ملکیوں کی واپسی پروگرام کے تحت 10 لاکھ سے زائد افغان باشندوں کو واپس بھیجا گیا، آٹھ ریفیوجی کیمپس واگزار کروائے گئے اور سکیورٹی خطرات میں نمایاں کمی آئی۔

اوورسیز پاکستانیوں کے املاک کا تحفظ
اوورسیز پاکستانیوں کی جائیدادوں کے تحفظ کے لیے خصوصی عدالتوں کا قانون 2025 نافذ کیا گیا تاکہ فوری انصاف کی فراہمی ممکن ہو۔

ترقیاتی منصوبے اور ادارہ جاتی انضمام
محکمہ داخلہ کے تحت 44 ترقیاتی اسکیمیں جاری ہیں۔ لیویز کا پولیس میں اور سول ڈیفنس کا اسپیشل برانچ میں انضمام مکمل ہو چکا ہے، جس کے لیے 2 ارب روپے مرمت، انفراسٹرکچر اور تربیت پر خرچ کیے جا رہے ہیں۔

مربوط سکیورٹی وژن
بلوچستان حکومت نے واضح کیا ہے کہ صوبے میں سکیورٹی کا یہ ماڈل صرف عسکری کارروائی تک محدود نہیں بلکہ قانون، ادارہ جاتی اصلاحات، ڈیجیٹل شفافیت اور انتہا پسندی کے تدارک پر مبنی ایک جامع حکمت عملی ہے، جو دیرپا امن اور استحکام کی بنیاد بنے گی۔

دیکھیے: بلوچستان: آپریشن ’ردّالفتنہ-1‘ کامیابی سے مکمل، 216 دہشت گرد ہلاک

متعلقہ مضامین

دہشتگردی صرف سکیورٹی کا مسئلہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے معاشی مشکلات، کمزور ادارے اور سماجی عوامل بھی کارفرما ہوتے ہیں، اس لیے اس کے خاتمے کیلئے جامع حکمت عملی درکار ہے۔

March 21, 2026

انہیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ مسلم دنیا کی واحد ایٹمی طاقت کو اندرونی خلفشار سے دوچار کر دینا کتنا بڑا جرم ہو گا۔ ان کی محبت عقیدت کا گھنٹہ گھر ایک شخص ہے ۔ اس کے علاوہ جو بھی ہے ان کی جانے بلا۔

March 21, 2026

آرمی چیف نے ایران کے حوالے سے گفتگو میں واضح کیا کہ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو ایران کے ساتھ کھڑے ہیں اور خطے میں جنگی کشیدگی کم کرنے کیلئے کردار ادا کر رہا ہے

March 20, 2026

بڑی تعداد میں فلسطینی مسجد میں داخل نہ ہو سکے اور انہیں باہر ہی نماز ادا کرنا پڑی۔ اس اقدام کو فلسطینی حلقوں نے سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے

March 20, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *