بلوچستان میں دہشت گردی کے حالیہ سفاکانہ واقعات نے ایک بار پھر قومی سطح پر تشویش کو جنم دیا ہے، جہاں بشیر زیب جیسے دہشت گردوں کے جتھے معصوم مسافروں کو بسوں سے اتار کر ان کے شناختی کارڈ چیک کرنے کے بعد نشانہ بنا رہے ہیں۔ ان کاروائیوں کے نتیجے میں پنجاب کے مختلف علاقوں میں شہریوں کی لاشیں پہنچ رہی ہیں، جس سے ملک بھر میں رنج و غم کی فضا قائم ہو گئی ہے۔
اس سنگین صورتحال کے باوجود پنجاب کے عوام نے بلوچستان یا وہاں کے شہریوں کے خلاف کسی قسم کی عصبیت کا اظہار نہیں کیا۔ متاثرہ خاندانوں اور عوام کا مؤقف واضح ہے کہ ان کے پیاروں کو بلوچستان کے لوگوں نے نہیں بلکہ بھارتی ایماء پر کام کرنے والے دہشت گردوں نے ہلاک کیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق شناخت کی بنیاد پر قتل کرنے کا مقصد صوبوں کے درمیان نفرت پھیلانا ہے، لیکن عوام نے اس سازش کو مسترد کرتے ہوئے اسے دشمن کی منصوبہ بندی قرار دیا اور دہشت گردوں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
سکیورٹی اور انسداد دہشت گردی کے ماہرین کے مطابق یہ واقعات دہشت گرد تنظیموں کی منظم حکمت عملی کا حصہ ہیں، جس کا مقصد معاشرتی تقسیم کے ذریعے ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کمزور کرنا ہے۔ شناخت کی بنیاد پر حملے عوام کو خوفزدہ کر کے معلومات فراہم کرنے سے روکنے کے لیے کیے جاتے ہیں تاکہ دہشت گرد نیٹ ورک محفوظ رہ سکے اور کارروائیوں کی منصوبہ بندی جاری رکھ سکے۔
سکیورٹی ادارے اور مقامی حکومت نے عوام سے کہا ہے کہ وہ مشتبہ سرگرمیوں کی فوری اطلاع متعلقہ حکام کو دیں تاکہ دہشت گردانہ منصوبوں کی بروقت روک تھام ممکن ہو۔ تجزیہ کاروں کے مطابق بلوچستان میں یہ نوعیت کے واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ دہشت گرد صوبائی حدود اور عوام کے درمیان نفرت پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں، اور اس کا موثر جواب صرف قومی اتحاد، مقامی قیادت کے تحفظ اور دہشت گرد بیانیے کی کھلی تردید کے ذریعے ممکن ہے۔