"> بلوچستان کے نوجوانوں کو انتہا پسندی سے بچانے کے لیے 'حقائق' ناگزیر
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

پسماندگی یا گمراہ کن پروپیگنڈا؟ بلوچستان کے نوجوانوں کو انتہا پسندی سے بچانے کے لیے ‘حقائق’ ناگزیر

اگر ریاست ترقیاتی کاموں کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کے فکری تحفظ اور درست معلومات کی فراہمی میں ناکام رہی، تو انتہا پسند گروہ پسماندگی اور احساسِ محرومی کو ڈھال بنا کر نفرت کا کاروبار چمکاتے رہیں گے۔
پسماندگی یا گمراہ کن پروپیگنڈا؟ بلوچستان کے نوجوانوں کو انتہا پسندی سے بچانے کے لیے 'حقائق' ناگزیر

ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ انتہا پسندی کے اس چکر کو توڑنے کے لیے محض معاشی پیکیج کافی نہیں بلکہ ایک متبادل اور مضبوط بیانیے کی ضرورت ہے۔

February 13, 2026

بلوچستان کے دیرینہ مسائل اور نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی بے چینی کے حوالے سے ماہرین نے ایک جامع بیانیہ پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان کے مسائل بلاشبہ حقیقی ہیں، تاہم حقوق کی آڑ میں “قبضہ” جیسے نعرے نوجوانوں کو ریاست سے دور کر کے تشدد کی راہ پر ڈال رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ریاست کی پالیسیوں سے اختلاف رائے ہر شہری کا آئینی حق ہے، لیکن جب اس اختلاف کو نفرت میں بدل کر ریاست کو “غیر ملکی” قرار دیا جاتا ہے، تو یہی وہ مقام ہے جہاں سے نوجوان انتہا پسند گروہوں کے لیے آسان ہدف بن جاتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں حقوق کی جائز جدوجہد اور ریاست مخالف پرتشدد بیانیے کے درمیان فرق کو واضح کرنا ہوگا تاکہ نوجوانوں کو بندوق کی بھرتی سے بچایا جا سکے۔

ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ انتہا پسندی کے اس چکر کو توڑنے کے لیے محض معاشی پیکیج کافی نہیں بلکہ ایک متبادل اور مضبوط بیانیے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم چاہتے ہیں کہ کالعدم تنظیموں کی صفوں میں بھرتی کا عمل رکے، تو ہمیں نوجوانوں کو تعلیم، ہنر اور روزگار کے ساتھ ساتھ “سچ” فراہم کرنا ہوگا۔ ان کے بقول، جب جھوٹ اور غلط معلومات کا پروپیگنڈا مضبوط ہو جائے تو ریاست کی ہر کامیابی اور ترقیاتی منصوبہ بھی مشکوک نظر آنے لگتا ہے۔ لہٰذا، اعتماد کی بحالی کے لیے سچائی پر مبنی معلومات کی فراہمی اور عملی اقدامات دونوں کا بیک وقت ہونا لازمی ہے۔

مختصر یہ کہ بلوچستان میں جاری بحران کے دو رخ ہیں: ایک معاشی اور دوسرا بیانیاتی۔ ماہرین کے مطابق اس مسئلے کا حل بھی دو طرفہ حکمت عملی میں پنہاں ہے، جس میں ایک طرف انصاف اور ترقی کو یقینی بنانا ہوگا اور دوسری طرف دشمن کے پھیلائے ہوئے غلط بیانیے اور پروپیگنڈے کا موثر جواب دینا ہوگا۔

اگر ریاست ترقیاتی کاموں کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کے فکری تحفظ اور درست معلومات کی فراہمی میں ناکام رہی، تو انتہا پسند گروہ پسماندگی اور احساسِ محرومی کو ڈھال بنا کر نفرت کا کاروبار چمکاتے رہیں گے۔ اب وقت آگئی ہے کہ بلوچستان کے نوجوان کو “محروم” کے بجائے “ذہن سازی کا شکار” سمجھ کر اس کی درست سمت میں راہنمائی کی جائے۔

دیکھیے: خودکش بمبار شناختی کارڈ کیوں ساتھ رکھتا ہے؟ سوشل میڈیا کے سوالات اور ان کا نفسیاتی جواب

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *