پاکستانی سکیورٹی فورسز نے بدھ کی شام خاران شہر میں بھارتی سرپرستی یافتہ دہشت گرد تنظیم “فتنۃ الہندوستان” کے حملے کو ناکام بناتے ہوئے 12 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ یہ کارروائی فوج، پولیس اور دیگر سکیورٹی ایجنسیوں کے باہمی تعاون سے انجام دی گئی۔
حملے کی تفصیلات
آئی ایس پی آر کے جاری کردہ بیان کے مطابق شام تقریباً 5 بجے کے قریب 15 سے 20 مسلح دہشت گردوں نے منظم طریقے سے شہر کے مرکزی علاقے میں داخل ہو کر تین اہم اہداف پر بیک وقت حملہ کیا۔ دہشت گردوں نے خاران سٹی پولیس اسٹیشن، نیشنل بینک آف پاکستان کی برانچ اور حبیب بینک لمیٹڈ کی برانچ کو نشانہ بنایا۔ حملہ آور بینکوں سے 34 لاکھ روپے کی نقدی لوٹنے میں کامیاب ہو گئے۔ مقامی افراد کے مطابق حملے کے دوران شدید گولہ باری ہوئی جس سے عوام میں خوف و ہراس پیدا ہوا۔
سکیورٹی فورسز کی بروقت کاروائی
سکیورٹی فورسز نے حملے کے فوراً بعد موقع پر پہنچ کر دہشت گردوں کا مقابلہ کیا۔ ابتدائی جھڑپ کے بعد دہشت گرد مختلف سمتوں میں بھاگ نکلے، تاہم سکیورٹی فورسز نے ان کا پیچھا جاری رکھا اور ایک بڑے کلیرنس آپریشن کا آغاز کیا۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق تمام ہلاک شدہ دہشت گرد “فتنۃ الہندوستان” کے رکن تھے جنہیں بھارت سے تربیت اور مالی امداد حاصل تھی۔۔
یرغمالی کے منصوبے کی ناکامی
سکیورٹی حکام کے مطابق دہشت گردوں کا بنیادی منصوبہ پولیس اسٹیشن پر قبضہ کر کے اہلکاروں کو یرغمال بنانا تھا، تاکہ اپنے ساتھیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا جا سکے۔ تاہم سکیورٹی فورسز کی فوری کارروائی نے اس منصوبے کو ناکام بنا دیا اور دہشت گردوں کو اپنا ناپاک ارادہ ترک کرنا پڑا۔
آئی ایس پی آر کے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ حملہ پاکستان کے خلاف بھارتی زیرِ سرپرستی دہشت گردی کی تازہ کڑی ہے۔ ہماری سکیورٹی فورسز نے بے مثال بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف شہریوں کی جان و مال کا تحفظ کیا بلکہ دہشت گردوں کے ناپاک ارادوں کو خاک میں ملا دیا۔” انہوں نے مزید کہا کہ “عزمِ استحکام کے تحت ہماری کارروائیاں جاری رہیں گی۔ ہر وہ دہشت گرد، چاہے وہ کسی بھی بیرونی طاقت کی سرپرستی میں ہو، اسے پاکستان کی سرزمین سے ختم کر دیا جائے گا۔”
جاری کارروائیاں اور احتیاطی تدابیر
سکیورٹی فورسز نے علاقے میں صفائی کارروائی جاری رکھی ہے اور فرار ہونے والے کسی بھی دہشت گرد کی تلاش کے لیے خصوصی آپریشنز شروع کیے ہیں۔ شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر سخت چیک پوسٹس قائم کی گئی ہیں تاکہ کسی بھی مشتبہ عنصر کی آمدورفت پر نظر رکھی جا سکے۔ سیکیورٹی حکام نے شہریوں سے تعاون کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کسی بھی غیر معمولی سرگرمی کی فوری اطلاع دیں۔