بنگلہ دیش کی نئی حکومت کیسی ہو گی؟ حزب اختلاف کے ساتھ اس کے تعلقات کیسے ہوں گے؟ اس کی ترجیحات کیا ہوں گی؟ پاکستان اور بھارت کے ساتھ اس کے تعلقات کی نوعیت کیا ہو گی ؟ یہ پاکستان نواز حکومت ہو گی یا اس کا جھکاؤ بھارت کی جانب ہو گا؟ بی این پی کی بجائے اگر جماعت اسلامی جیت جاتی توکیا اس کی پالیسیاں بی این پی سے مختلف ہوتیں یا کم و بیش یکساں ہی ہوتیں؟ نیز یہ کہ جماعت اسلامی نے ان انتخابات میں وہ کون سی غلطی کی ، یا یوں کہہ لیجیے کہ وہ کون سا موقع ضائع کیا ، جہاں اگر ایک مختلف فیصلہ کیا جاتا تو وہ جماعت اسلامی کے لیے گیم چینجر بھی بن سکتا تھا اور انتخابی نتائج اس کے برعکس بھی ہو سکتے تھے۔
آئیے ان سوالات کا جواب تلاش کرتے ہیں اور آغاز آخری سوال سے کرتے ہیں۔
بنگلہ دیش میں عوامی لیگ الیکشن میں حصہ نہیں لے رہی تھی ۔ اس کے مجرمانہ کردار کی وجہ سے اس پر پابندی عائد کر دی گئی تھی ۔ یہ پابندی قابل فہم تھی اور حسینہ واجد کے جو گھناؤنے اور شرم ناک جرائم تھے ان کے تناظر میں بالکل جائز تھی ۔
تاہم جماعت اسلامی اگر یہاں یہ موقف اختیار کرتی کہ عوامی لیگ کے جرائم پر تو قانون نافذ ہونا چاہیےاور اس کے جرائم پیشہ افراد کو سزا بھی ملنی چاہیے اور نا اہل بھی کیا جانا چاہیے لیکن بطور جماعت اسے الیکشن میں حصہ لینے سے نہ روکا جائے اور اسے الیکشن لڑنے دیا جائے تو یہاں منظر بدل جاتا۔
جماعت اسلامی کا یہ مطالبہ اگر مان لیا جاتا تو عوامی لیگ کی قریب ساری نمایاں قیادت ہی انسانیت سوز جرائم میں شامل یا سہولت کار تھی ، وہ ویسے ہی نا اہل ہو جاتی ۔ بچی کچھی قیادت الیکشن لڑ بھی لیتی تو کیا کر لیتی ۔ اسے شکست ہی ہونا تھی۔
اگر یہ مطالبہ نہ مانا جاتا ، جس کا زیادہ امکان تھا ، تو اس سے یہ تو ضرور ہوتا کہ عوامی لیگ کے نچلی سطح کے ووٹر کو جماعت کی طرف سے ایک مثبت پیغام جاتا اور جیسے اب عوامی لیگ کا ووٹ بی این پی کو پڑ گیا ، کم از کم یہ نہ ہوتا ۔ یہ ہیغام دنیا بھر میں بھی جاتا کہ جماعت اسلامی اپنے اوپر گزری اس قیامت کے باوجود کھلے دل سے آگے بڑھ رہی ہے اور اگر وہ الیکشن جیت بھی جاتی ہے تو عوامی لیگ کو انتقامی کارروائیوں کا نشانہ نہیں بنائے گی جیسے اسے بنایا گیا۔
لیکن اب یہ ہوا کہ عوامی لیگ کا ووٹ بنک بی این پی کو پڑ گیا ۔ حسینہ واجد ملک میں نہیں تھی لیکن عوامی لیگ کا ووٹر تو بہر حال موجود تھا ۔ اس ووٹ بنک کے ایک بڑے حصے نے جماعت اسلامی کی بجائے بی این پی کو ووٹ دے دیا۔ بی این پی کو یہ اضافی ووٹ نہ ملتا تو نتائج اس کے برعکس بھی ہو سکتے تھے ۔ اس سے بی این پی کو واک اوور مل گیا، گویا کھانے کے لیے پکی پکائی کھیر مل گئی۔
اب آئیے دوسرے سوال کی جانب کہ نئی حکومت کیسی ہو گی ؟ سمجھنے کی بات یہ ہے کہ وہاں جمہوری طریقے سے انتقال اقتدار ہوا ہے ، انقلاب نہیں آیا۔ حسینہ واجد اور بھارت نواز عناصر بنگلہ دیش کے اداروں میں جس طرح گھسائے گئے وہ ابھی وہیں ہیں۔ یہاں تک اطلاعات ہیں کہ نگران حکومت بعض فیصلہ کرتی تھی اور سیکشن افسروں تک جا کر فائلیں گم بھی ہو جایا کرتی تھیں۔ اس لیے ایسا ممکن نہیں کہ راتوں رات سب کچھ بدل جائے ۔ حکومت کو دھیرے دھیرے چلنا ہو گی اور اس کا راستہ آسان نہیں ہو گا۔
تیسرا سوال کہ اس کے حزب اختلاف سے تعلقات کیسے ہوں گے؟ جماعت اسلامی کا رویہ تو بہت باوقار ہے۔ وہ کہہ چکی ہے کہ جیت گئی تو سب کو ساتھ لے کر چلے گیا ور ہار گئی تو دوسروں کے ساتھ مل کر چلے گی۔ ماضی میں بھی دونوں نے مل جل کر کام کیا ہے اور ان میں کوئی ایسی خاص چپقلش نہیں ہے۔ اس لیے یہ بہتر اشتراک کار سے آگے بڑھ سکتے ہیں۔ البتہ ایک رکاوٹ ہو سکتی ہے کہ دونوں کے طلبا ونگ میں ماضی میں جھگڑے ہوتے رہے اور بی این پی کے طلبا ونگ پر جماعت اسلامی کے طلبا ونگ کے دو درجن سے زیادہ طلبا کے قتل کا الزام لگ چکا ہے۔ چنانچہ حزب اختلاف اور حکومت میں اشتراک کار کے لیے کیمپس کی سیاست کو ٹھنڈا رکھنا ہو گا ۔ یہاں سے کوئی چنگاری اٹھی تو وہ شعلہ بن سکتی ہے۔
چوتھا سوال یہ ہے کہ پاکستان کے ساتھ بنگلہ دیش کی نئی حکومت کے تعلقات کیسے ہوں گے؟ پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات کی توقع ہے۔ بی این پی کی قیادت کا رویہ عوامی لیگ جیسا نہیں ہے۔ بہت سے سارے امکانات پیدا ہوسکتےہیں ، مگر انڈیا کی کوشش ہو گی کہ ایسا نہ ہو سکے۔ابھی جب پاکستان نے بھارت سے ورلڈ کہ میچ نہ کھیلنے کا فیصلہ کیا تو متعد مقامات پر طلبہ اور نوجوانوں نے بے ساختہ جلوس نکالے اور پاکستان زندہ باد کے نعرے بلند کیے ۔پاکستان نے درحقیقت بنگلہ دیش کے عوام کو مخاطب بنایا تھا اور اس کے بہتر نتائج آئے ہیں ۔ یہ تعلق خاطر آگے بڑھے گا مگر احتیاط کی ضرورت ہے۔ ایک حد سے زیادہ محبت بھی بسا اوقات مداخلت سمجھ لی جاتی ہے۔
جہاں تک پانچویں سوال کا تعلق ہے کہ بھارت کے ساتھ اس حکومت کے تعلقات کیسے رہیں گے تو میرا خیال ہے یہ حسینہ واجد کے دور کی طرح فدویانہ اور غلامانہ نہیں ہوں گے ۔ البتہ ایسا بھی نہیں کہ بنگلہ دیش بھارت کو سیدھا ہی ہو جائے یا تصادم پر مائل ہو جائے۔ بنگلہ دیش پر طرف سے بھارت میں گھرا ہوا ہے اور ایک جانب سمندر ہے ۔ اس کی تجارت کا بڑا انحصار بھارت پر ہے۔ میانمر جیسی کمزور ریاست کے سوا بنگلہ دیش کا کوئی پڑوسی نہیں ہے۔ اس کے دریا بھارت سے آتے ہیں ۔ بھارت کی آبی جارحیت اس کی زراعت کو تباہ کر سکتی ہے۔ اس لیے بنگلہ دیش کی حکومت چاہے گی کہ پہلے کی طرح فدویانہ تعلق تو نہ رہے لیکن معاملات کسی نہ کسی طرح چلتے ہی رہیں۔ اس سے زیادہ نہ وہ کچھ کر سکے گی ، نہ کرے گی نہ اس سے توقع رکھنی چاہیے۔
چھٹا سوال یہ ہے کہ اگر جماعت اسلامی جیت جاتی تو اس کی پالیسیاں بہت مختلف ہوتیں یا وہ بھی یہی کرتی؟ اس کا جواب ہے کہ جی ہاں وہ بھی یہی کرتی۔ الیکشن کا سارا ماحول ہی داخلی معاملات پر فوکسڈ تھا۔ امور خارجہ زیر بحث نہیں آئے۔ بھارت اس الیکشن مہم کا موضوع نہیں تھا۔ احتیاط کا عالم یہ تھا کہ جماعت اسلامی کے انتخابی منشور میں پہلی بار نفاذ شریعت کی بات نہیں تھی۔ ساری توجہ عوامی دلچسپی کے دیگر داخلی ، معاشی اور سماجی امور کی طرف تھی۔
بنگلہ دیش ایک بڑے بحران سے گزرا ہےا ور اس نے الیکشن کروا لیے ہیں ، انتقال اقتدار ہو رہا ہے۔ جو جماعت اسلامی کل تک حسینہ واجد کے ٹارچر سیلوں میں قتل ہو رہی تھی اب دوسری بڑی طاقت بن کر ابھری ہے۔ یہ غیر معمولی کامیابی ہے۔ یہ سب کی کامیابی ہے۔ یہ بنگلہ دیش کی کامیابی ہے۔
ہمیں اپنے برادر ملک کی کامیابی اور انڈین اثرات سے نکلنے اور داخلی خود مختاری کو مستحکم کرنے کے لیے دعا گو ہونا چاہئے