16 فروری کے انتخابات دراصل صرف ایک آئینی مرحلہ نہیں بلکہ پچاس سالہ سیاسی غلام گردشوں کا اختتام یا تاریک موڑ بھی ہو سکتا ہے۔ بنگلہ دیش کی گلیوں، چائے خانوں، جامعات، مساجد اور بازاروں میں جو گفتگو سنائی دے رہی ہے وہ محض انتخابی شور نہیں بلکہ ایک گہری بے چینی کی بازگشت ہے۔ یہ بے چینی عوامی لیگ اور بنگلہ دیش نیشنل پارٹی کی دہائیوں پر محیط باہمی کشمکش سے جنم لے چکی ہے۔ لوگ اب صرف حکومت کی تبدیلی نہیں چاہتے، وہ اندازِ حکومت کی تبدیلی چاہتے ہیں۔ یہی وہ خلا ہے جہاں جماعت اسلامی کا نام پہلی بار سرگوشی نہیں بلکہ باقاعدہ بحث کا موضوع بن چکا ہے۔
عوامی لیگ نے طویل عرصہ اقتدار میں رہ کر ریاستی ڈھانچے پر اپنی گرفت مضبوط کی، مگر اس کے ساتھ کرپشن، سیاسی انتقام، سرکاری وسائل کی بندر بانٹ، ٹھیکوں میں اقربا پروری اور طلبہ تنظیموں کے ذریعے طاقت کے استعمال کے الزامات بھی مسلسل اس کے دامن پر لگتے رہے۔ بی این پی جب برسر اقتدار آئی تو اس پر بھی کم و بیش وہی الزامات لگے۔ کاروباری طبقہ بھتہ خوری اور سیاسی دباؤ کی شکایات کرتا رہا، دیہی علاقوں میں ترقیاتی فنڈز کو سیاسی وفاداری سے جوڑنے کی باتیں ہوتی رہیں، اور عام کارکن ریاستی طاقت اور مقامی غنڈہ عناصر کے درمیان پستا رہا۔ ڈھاکہ، کراچی اور ممبئی جیسے شہروں میں سیاسی پشت پناہی کے تحت مقامی طاقت کے نیٹ ورکس کی جو مماثلت دیکھی گئی ہے، وہ بنگلہ دیشی ووٹر کے ذہن میں ایک سوال کو مستقل زندہ رکھے ہوئے ہے کہ کیا جمہوریت صرف جھنڈوں کی تبدیلی کا نام ہے یا انصاف اور نظم کی بحالی بھی اس کا حصہ ہے؟
اسی پس منظر میں جماعت اسلامی کا بیانیہ دوبارہ زندہ ہوا ہے۔ جنگی جرائم ٹربیونلز کے فیصلوں کے بعد جماعت کے کئی بڑے رہنماؤں کو سزائیں ہوئیں، پھانسیاں ہوئیں، قید و بند کی طویل داستانیں رقم ہوئیں۔ ایک حلقہ اسے تاریخی جبر اور احتساب کہتا ہے، دوسرا اسے جنوبی ایشیا کے روایتی سیاسی عمل کا حصہ سمجھتا ہے۔ مگر اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ ان واقعات نے جماعت کے اندر قربانی اور استقامت کا بیانیہ مضبوط کیا ہے۔ نئی نسل کے ایک حصے میں یہ تاثر موجود ہے کہ یہ جماعت دباؤ کے باوجود ٹوٹی نہیں۔ سیاست میں مظلومیت کا احساس اکثر طاقت میں بدل جاتا ہے، اور یہی تبدیلی آج زمینی سطح پر محسوس کی جا رہی ہے۔
آزاد امیدوار اور چھوٹی جماعتیں موجود ہیں، مگر وہ قومی سطح پر متبادل قیادت کا اعتماد پیدا نہیں کر سکیں۔ ان کے پاس نہ منظم تنظیمی ڈھانچہ ہے، نہ نظریاتی تسلسل، نہ ہی پورے ملک میں یکساں پیغام رسانی کے وسائل اور امیدوار ہیں۔ اس کے برعکس جماعت اسلامی کی تنظیمی ساخت منظم، کارکن اور بیانیہ واضح سمجھا جاتا ہے۔ مذہبی اور متوسط طبقے کے حلقوں میں یہ تاثر مضبوط ہے کہ جماعت کی قیادت نسبتاً سادہ طرزِ زندگی اور مالی بدعنوانی سے دور رہنے کی شہرت رکھتی ہے۔ یہ تاثر درست ہو یا مبالغہ، مگر انتخابات میں تاثر ہی ووٹ کی سمت طے کرتا ہے۔
16 فروری کے انتخابات میں نوجوان ووٹر فیصلہ کن کردار ادا کریں گے۔ ملک کی آبادی کا ایک چوتھائی حصہ تیس برس سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے۔ یہ نوجوان روزگار، شفافیت، انصاف اور قومی خود مختاری کی بات کر رہے ہیں۔ اگر جماعت اسلامی روزگار، صنعتی پالیسی، تعلیمی اصلاحات اور کرپشن کے خلاف واضح اور قابلِ عمل پروگرام پیش کرنے میں کامیاب ہو گئی، جو ہوتی ہوئی نظر آ رہی ہے، تو وہ صرف مذہبی ووٹ نہیں بلکہ احتجاجی ووٹ بھی سمیٹ سکتی ہے۔ اگر وہ معاشی خاکہ واضح نہ کر سکی تو جذباتی حمایت عملی سیاست میں تبدیل نہیں ہو سکے گی۔
علاقائی منظرنامہ بھی اس بحث سے الگ نہیں۔ بھارت کے ساتھ تعلقات، سرحدی معاملات، چین کی خطے میں بڑھتی ہوئی موجودگی اور اثرورسوخ، خلیجی سرمایہ کاری، میانمار کی صورتحال — یہ سب موضوعات بنگلہ دیشی ووٹر کے ذہن میں گردش کر رہے ہیں۔ ایک طبقہ سمجھتا ہے کہ نظریاتی حکومت خارجہ پالیسی میں زیادہ خود مختار موقف اختیار کر سکتی ہے۔ دوسرا طبقہ خدشہ ظاہر کرتا ہے کہ عالمی دباؤ اور معاشی انحصار ایسے تجربات کو مشکل بنا سکتا ہے۔ مگر یہ طے ہے کہ خارجہ پالیسی اب محض اشرافیہ کا موضوع نہیں رہی؛ عام ووٹر بھی اسے قومی وقار اور معاشی مفاد کے زاویے سے دیکھ رہا ہے۔
زمینی فضا مکمل انقلابی نہیں، مگر واضح طور پر تبدیل ہوتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ عوامی لیگ سے ناراض ووٹر بی این پی پر آنکھ بند کر کے اعتماد نہیں کر رہا۔ بی این پی سے مایوس حلقے کوئی نیا راستہ تلاش کر رہے ہیں۔ یہی وہ سیاسی خلا ہے جہاں جماعت اسلامی کی موجودگی اب محض علامتی نہیں رہی بلکہ انتخابی وزن اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ عوامی سروے اور غیر رسمی سیاسی جائزے اس امکان کو رد نہیں کر رہے کہ جماعت اسلامی غیر معمولی نشستیں حاصل کر سکتی ہے یا کسی فیصلہ کن اتحاد کا حصہ بن سکتی ہے۔
یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ سورج مکمل طلوع ہو چکا ہے، مگر افق پر روشنی ضرور نمودار ہو رہی ہے۔ 16 فروری کو بیلٹ باکس یہ طے کرے گا کہ یہ روشنی صبح میں بدلتی ہے یا محض ایک عارضی جھلک ثابت ہوتی ہے۔ تاہم ایک بات واضح ہے: بنگلہ دیش کا ووٹر اب صرف روایتی سیاسی خاندانوں اور پرانے نعروں سے مطمئن نہیں۔ وہ تجربہ کرنے کو تیار ہے، اور سیاست میں سب سے بڑا انقلاب اسی لمحے جنم لیتا ہے جب ووٹر خوف سے آزاد ہو کر متبادل کا سوچنے لگے۔
اگر نتائج جماعت اسلامی کے حق میں بڑی پیش رفت دکھاتے ہیں تو یہ پچاس سالہ سیاسی گردش کا اختتام سمجھا جائے گا۔ اگر نتائج توقع سے کم نکلے تب بھی یہ حقیقت اپنی جگہ قائم رہے گی کہ بنگلہ دیش کی سیاست میں ایک نئی بحث، ایک نیا امکان اور ایک نئی سمت جنم لے چکی ہے۔ اور کبھی کبھی سیاست میں اصل تبدیلی اقتدار سے پہلے ذہنوں میں آتی ہے۔ 16 فروری اسی ذہنی تبدیلی کی آزمائش کا دن ہے۔
جماعت اسلامی بنگلہ دیش نے 16 فروری کے انتخابات میں جن امیدواروں کو میدان میں اتارا ہے، ان میں اکثریت ایسے افراد کی ہے جو یا تو طویل عرصے سے جماعت کی تنظیمی سیاست سے وابستہ رہے ہیں یا پیشہ ورانہ پس منظر رکھتے ہیں، مثلاً وکلا، اساتذہ، کاروباری شخصیات اور سماجی کارکن۔ دستیاب تفصیلات کے مطابق کئی امیدواروں نے مقامی سطح پر رفاہی سرگرمیوں، تعلیمی اداروں کے انتظام، یا بار ایسوسی ایشن اور شہری فورمز میں کردار ادا کیا ہے، جسے جماعت اپنی “کردار اور خدمت” کی سیاست کے ثبوت کے طور پر پیش کر رہی ہے۔
متعدد حلقوں میں امیدواروں کا تعلیمی پس منظر مضبوط بتایا جا رہا ہے، خصوصاً قانون، اسلامیات، معاشیات اور سماجی علوم کے شعبوں سے وابستگی نمایاں ہے۔ کچھ امیدوار سابق طلبہ تنظیم اسلامی چھاترا شبر کے پلیٹ فارم سے ابھر کر آئے، جب کہ بعض ایسے بھی ہیں جو پیشہ ورانہ میدان میں شہرت رکھنے کے بعد انتخابی سیاست میں داخل ہوئے۔ جماعت کی کوشش رہی ہے کہ ہر حلقے میں ایسا امیدوار سامنے لایا جائے جو مقامی شناخت رکھتا ہو، حلقے کے مسائل سے واقف ہو اور تنظیمی ڈسپلن کا حامل ہو۔
جن حلقوں میں جماعت نسبتاً مضبوط سمجھی جاتی ہے وہاں امیدواروں کی مہم زیادہ منظم اور نظریاتی رنگ لیے ہوئے ہے، جب کہ مخلوط یا شہری حلقوں میں انتخابی پیغام کو بدعنوانی کے خاتمے، شفاف طرز حکمرانی، عدالتی انصاف اور معاشی اصلاحات جیسے نکات کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔ بعض امیدوار اپنے حلقوں میں مقامی ترقی، سڑکوں، نکاسی آب، تعلیمی سہولیات اور روزگار کے منصوبوں کو بنیادی ایجنڈا بنا رہے ہیں تاکہ جماعت کا قومی بیانیہ مقامی ضروریات سے جڑا دکھائی دے۔
اگرچہ تمام امیدواروں کی مکمل سرکاری تفصیل ہر حلقے میں یکساں طور پر دستیاب نہیں، مگر جہاں معلومات سامنے آئی ہیں وہاں یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ جماعت نے نسبتاً صاف شہرت اور تنظیمی وابستگی رکھنے والے افراد کو ترجیح دی ہے۔ ناقدین اس پر یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں کہ کیا نظریاتی وابستگی انتظامی صلاحیت کی ضمانت ہے، تاہم حامی حلقے اسے نظم و ضبط اور پالیسی تسلسل کی علامت قرار دیتے ہیں۔
مجموعی طور پر جماعت اسلامی کے امیدواروں کی پروفائل سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ پارٹی اس انتخاب میں محض علامتی شرکت نہیں بلکہ سنجیدہ پارلیمانی موجودگی کی خواہش رکھتی ہے، اور اسی مقصد کے لیے پیشہ ورانہ پس منظر، مقامی ساکھ اور نظریاتی وابستگی کو یکجا کر کے امیدواروں کا انتخاب کیا گیا ہے۔
اگر بنگلہ دیش میں جماعتِ اسلامی نمایاں انتخابی کامیابی حاصل کرتی ہے تو بھارت کے لیے فوری طور پر کوئی عسکری یا ہنگامی بحران پیدا نہیں ہوگا، تاہم علاقائی سفارتی اور اسٹریٹجک توازن میں چند قابلِ توجہ تبدیلیاں ضرور آ سکتی ہیں، خصوصاً پاکستان اور چین کے تناظر میں۔ جماعتِ اسلامی تاریخی طور پر نظریاتی اور عوامی سطح پر پاکستان کے ساتھ نرم گوشہ رکھتی رہی ہے، اگرچہ بنگلہ دیش کی ریاستی پالیسی ہمیشہ خودمختار قومی مفاد کے تابع رہی ہے۔ ایسی صورت میں اگر جماعت اسلامی حکومت کا حصہ بنتی ہے یا پالیسی سازی پر اثر انداز ہوتی ہے تو اسلام آباد اور ڈھاکہ کے درمیان سفارتی گرمجوشی میں اضافہ، تجارتی روابط کی بحالی اور دفاعی یا تعلیمی تعاون میں وسعت ممکن ہو سکتی ہے۔ بھارت، جو 1971 کے تناظر اور بعد کی دہائیوں میں بنگلہ دیش کے ساتھ قریبی سیکیورٹی تعاون رکھتا آیا ہے، یہ محسوس کر سکتا ہے کہ ڈھاکہ مکمل طور پر نئی دہلی کی طرف جھکاؤ رکھنے کے بجائے زیادہ متوازن خارجہ پالیسی اختیار کرے۔
اسی طرح چین کا عنصر بھی اہم ہے۔ بنگلہ دیش پہلے ہی چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو میں شامل ہے اور بنیادی ڈھانچے کے کئی بڑے منصوبے چینی سرمایہ کاری سے مکمل ہو چکے ہیں۔ اگر جماعت اسلامی اقتدار میں آ کر معاشی ترقی کو ترجیح دیتی ہے تو چین کے ساتھ سرمایہ کاری، بندرگاہی سہولتوں اور صنعتی زونز میں مزید تعاون بڑھایا جا سکتا ہے۔ بھارت کے لیے یہ اسٹریٹجک چیلنج بن سکتا ہے کیونکہ خلیجِ بنگال میں چینی موجودگی نئی دہلی کی بحری حکمتِ عملی پر اثر انداز ہو سکتی ہے، جبکہ بھارت طویل عرصے سے اپنے “نیبرہڈ فرسٹ” نظریے کے تحت بنگلہ دیش کو اسٹریٹجک شراکت دار سمجھتا ہے۔
سیکیورٹی اور سرحدی امور بھی اسی تناظر میں اہم رہیں گے۔ بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان تقریباً 4,096 کلومیٹر طویل سرحد جنوبی ایشیا کی طویل ترین زمینی سرحدوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں انسداد دہشت گردی، غیر قانونی ہجرت اور سرحدی اسمگلنگ جیسے معاملات دونوں ملکوں کے لیے حساس ہیں۔ اگر نئی حکومت بھارت کے ساتھ سیکیورٹی تعاون کی موجودہ سطح کو برقرار رکھتی ہے تو کوئی بڑی مشکل پیدا نہیں ہوگی، تاہم پالیسی میں نمایاں تبدیلی کی صورت میں اعتماد کا فقدان جنم لے سکتا ہے۔
مجموعی طور پر جماعت اسلامی کی ممکنہ جیت بھارت کے لیے فوری خطرہ نہیں بلکہ ایک سفارتی چیلنج کی صورت اختیار کر سکتی ہے، جس کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ نئی حکومت خارجہ پالیسی میں کس حد تک توازن، مفاہمت اور معاشی مفاد کو ترجیح دیتی ہے۔ اگر ڈھاکہ کثیر جہتی تعلقات کی حکمتِ عملی اپناتا ہے، یعنی بھارت، چین اور پاکستان تینوں کے ساتھ متوازن روابط رکھتا ہے، تو خطے میں مقابلے کے ساتھ ساتھ تعاون کی نئی صورتیں بھی سامنے آ سکتی ہیں۔
بھارت کے تزویراتی مفادات کے تناظر میں بنگلہ دیش کے انتخابی نتائج کو نئی دہلی قریب سے دیکھ رہا ہے۔ عمومی سفارتی اور سیکیورٹی حلقوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ عوامی لیگ کی کامیابی بھارت کے لیے نسبتاً زیادہ موافق سمجھی جاتی ہے۔ گزشتہ ڈیڑھ دہائی کے دوران دونوں ممالک کے درمیان سرحدی نظم و نسق، انسدادِ دہشت گردی تعاون، انٹیلی جنس شیئرنگ، ٹرانزٹ و ٹرانس شپمنٹ سہولتوں، توانائی تجارت اور علاقائی رابطہ منصوبوں میں قابلِ ذکر پیش رفت ہوئی ہے۔ 4,096 کلومیٹر طویل مشترکہ سرحد کے پیش نظر پالیسی کا تسلسل اور سیکیورٹی ہم آہنگی بھارت کی اولین ترجیحات میں شمار ہوتے ہیں، اور عوامی لیگ کی حکومت نے عملی طور پر اس فریم ورک کو برقرار رکھا۔
اس کے برعکس جماعت اسلامی کو نئی دہلی کے پالیسی ساز حلقوں میں نسبتاً کم موافق آپشن کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اس جماعت کا بیانیہ خارجہ پالیسی میں زیادہ نظریاتی خودمختاری، چین اور مسلم دنیا کے ساتھ روابط میں وسعت، اور بعض معاملات میں بھارت پر زیادہ تنقیدی مؤقف کی جھلک دیتا ہے۔ اگرچہ کسی بھی جماعت کی حتمی خارجہ پالیسی اقتدار میں آنے کے بعد زمینی حقائق، معاشی تقاضوں اور علاقائی دباؤ کے تحت تشکیل پاتی ہے، تاہم بھارتی تزویراتی سوچ میں یہ اندیشہ موجود ہے کہ جماعت اسلامی کی مضبوط پیش رفت موجودہ تعاون کے ڈھانچے کو ازسرِنو متوازن کر سکتی ہے، خصوصاً پاکستان اور چین کے تناظر میں۔
مختصراً، بھارت کے مفاد میں وہ انتخابی نتیجہ تصور کیا جاتا ہے جو سیکیورٹی تعاون، سرحدی استحکام اور معاشی روابط کے تسلسل کو یقینی بنائے۔ موجودہ حقائق کی روشنی میں عوامی لیگ کو اس تسلسل کی ضمانت کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جبکہ جماعت اسلامی کی ممکنہ کامیابی کو نئی دہلی زیادہ احتیاط اور تزویراتی نظر سے دیکھتا ہے۔
بنگلہ دیش کی سیاست میں جماعت اسلامی کی ممکنہ پیش رفت کو محض “رجعت پسندی” کے سادہ خانے میں رکھ دینا تجزیاتی سہل پسندی ہوگی۔ یہ جماعت اگرچہ اپنی نظریاتی بنیاد اسلامی سیاسی فکر میں رکھتی ہے، تاہم اس کی عملی سیاست کا ریکارڈ اسے خطے کی کئی دیگر مذہبی جماعتوں سے مختلف بناتا ہے۔ جماعت اسلامی گزشتہ دہائیوں میں پارلیمانی عمل، انتخابی سیاست اور اتحادی حکومتوں کا حصہ رہ چکی ہے، اور اس کی تنظیمی ساخت نظم و ضبط اور انتخابی حکمتِ عملی پر مرکوز رہی ہے، نہ کہ انقلابی یا ماورائے آئین تبدیلی پر۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بنگلہ دیش کا ریاستی ڈھانچہ — مضبوط عدالتی نظام، متحرک سول سوسائٹی، برآمدات پر انحصار کرتی معیشت، اور عالمی مالیاتی اداروں سے وابستگیاں — کسی بھی حکومت کے لیے یکسر نظریاتی ریاست کی تشکیل کو آسان نہیں بناتے۔ اس تناظر میں جماعت اسلامی کی ممکنہ جیت کو فوری طور پر ریاستی ساخت کی مکمل مذہبی تشکیل سے جوڑنا زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔
تاہم یہ پہلو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ جماعت کی نظریاتی ترجیحات سیکولر قوم پرست جماعتوں سے مختلف ہیں۔ اقتدار کی صورت میں تعلیمی نصاب، ثقافتی پالیسی اور بعض سماجی قوانین میں قدامت پسند رجحان نمایاں ہو سکتا ہے۔ سوال دراصل یہ نہیں کہ ریاست رجعت پسند بنے گی یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ جماعت اسلامی اقتدار میں آ کر اپنی نظریاتی شناخت اور عملی حکمرانی کے تقاضوں کے درمیان کس نوعیت کا توازن قائم کرتی ہے۔
یوں جماعت اسلامی کی ممکنہ جیت کو ایک قطعی نظریاتی انقلاب کے بجائے بنگلہ دیش کی سیاست میں ترجیحات کی ممکنہ تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے — ایسی تبدیلی جس کی سمت اور شدت کا انحصار اقتدار کے عملی استعمال پر ہوگا، نہ کہ محض انتخابی نعروں اور دکھائے گئے سہانے خوابوں پر۔