کینیڈا کے ہائی اسکول میں منگل کے روز ایک مسلح خاتون کی فائرنگ کے نتیجے میں حملہ آور سمیت دس افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ اس لرزہ خیز واقعے کو حالیہ برسوں میں ملک کے مہلک ترین حملوں میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔ پولیس کے مطابق حملہ آور نے فائرنگ کے بعد بظاہر خودکشی کر لی ہے۔
پولیس کی کاروائی
خبر رساں ادارے کے مطابق برٹش کولمبیا کے قصبے ٹمبلر رج میں واقع ہائی اسکول کے اندر چھ افراد مردہ پائے گئے، جبکہ دو افراد ایک قریبی گھر سے مردہ ملے جس کا تعلق اسی واقعے سے بتایا جا رہا ہے۔ ایک زخمی شخص اسپتال منتقلی کے دوران دم توڑ گیا۔ رائل کینیڈین ماونٹڈ پولیس کا کہنا ہے کہ کم از کم دو افراد شدید زخمی حالت میں زیر علاج ہیں جبکہ تقریباً 25 افراد کو طبی امداد دی جا رہی ہے۔
حملہ آور کے بارے میں انکشافات
پولیس حکام نے بتایا کہ کینیڈا میں فائرنگ کے اس واقعے کی مبینہ حملہ آور ایک خاتون ہے، جو شمالی امریکہ میں اس طرح کے واقعات کے تناظر میں ایک غیر معمولی بات سمجھی جا رہی ہے۔ عام طور پر اجتماعی فائرنگ کے واقعات مردوں کی جانب سے کیے جاتے ہیں۔ پولیس نے واضح کیا ہے کہ اب عوام کے لیے مزید کسی خطرے کے شواہد موجود نہیں ہیں۔
عینی شاہدین اور حکام کا ردعمل
فائرنگ کے وقت اسکول میں موجود ایک طالب علم نے بتایا کہ لاک ڈاؤن کے اعلان کے وقت صورتحال واضح نہیں تھی، مگر پولیس نے دو گھنٹے کی کارروائی کے بعد طلبہ کو بحفاظت باہر نکالا۔ برٹش کولمبیا کے وزیر اعلیٰ ڈیوڈ ایبی نے اس واقعے کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کی ہے۔
I am devastated by today’s horrific shootings in Tumbler Ridge, B.C. My prayers and deepest condolences are with the families and friends who have lost loved ones to these horrific acts of violence.
— Mark Carney (@MarkJCarney) February 11, 2026
I join Canadians in grieving with those whose lives have been changed…
کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے بھی اپنے پیغام میں گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق کینیڈا میں فائرنگ کا یہ واقعہ ملک کی تاریخ کے مہلک ترین حملوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل اپریل 2020 میں نووا اسکاٹیا میں 22 افراد کو قتل کیا گیا تھا، جبکہ 1989 میں مونٹریال کے تعلیمی ادارے میں 14 طالبات کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
کینیڈا میں فائرنگ اور تعلیمی اداروں کی حفاظت
ٹمبلر رج ایک چھوٹا اور دور افتادہ قصبہ ہے جہاں تقریباً 160 طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ اس واقعے کے بعد اسکول کو بقیہ ہفتے کے لیے بند کر دیا گیا ہے اور متاثرہ افراد کے لیے نفسیاتی مشورے کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اسکولوں میں سیکیورٹی کے طریقہ کار کا ازسرِ نو جائزہ لیا جائے گا تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔