"> ڈیجیٹل بھرتی اور سرحد پار فتنہ انگیزی: بنگلہ دیش سے ٹی ٹی پی تک پہنچنے والے راستوں کا انکشاف
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

بنگلہ دیش میں ٹی ٹی پی کے بڑھتے ہوئے اثرات: علاقائی عسکریت پسندی کا نیا رخ

تحریکِ طالبان پاکستان اب ایک علاقائی خطرے کے طور پر اُبھر رہی ہے، جہاں بنگلہ دیش سے نوجوانوں کو بھرتی کر کے پاکستان کے شورش زدہ علاقوں میں منتقل کرنے کے شواہد ملے ہیں
تحریکِ طالبان پاکستان اب ایک علاقائی خطرے کے طور پر اُبھر رہی ہے، جہاں بنگلہ دیش سے نوجوانوں کو بھرتی کر کے پاکستان کے شورش زدہ علاقوں میں منتقل کرنے کے شواہد ملے ہیں

بنگلہ دیش میں سیاسی بحران کے دوران ٹی ٹی پی نے ڈیجیٹل ذرائع سے بھرتی بڑھا دی، اور مقامی گروہ اس مسلح مزاحمت کو معاونت فراہم کر رہے ہیں

February 19, 2026

تحریکِ طالبان پاکستان جو کہ روایتی طور پر پاکستان کے سرحدی قبائلی علاقوں تک محدود خیال کی جاتی تھی، اب ایک بین الاقوامی باغی نیٹ ورک کی صورت اختیار کر رہی ہے۔ حالیہ شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ بنگلہ دیش اس تنظیم کے لیے ایک اہم بھرتی راہداری کے طور پر ابھر رہا ہے، جہاں سے نوجوانوں کو نظریاتی اور لاجسٹک بنیادوں پر مسلح جدوجہد کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔

2007 میں بیت اللہ محسود کی قیادت میں قائم ہونے والی اس تنظیم نے 2021 میں افغانستان کی بدلتی ہوئی صورتحال کے بعد اپنی تنظیمی ساخت کو مزید مستحکم کیا۔ بنگلہ دیش میں حالیہ برسوں کے دوران سیاسی عدم استحکام، جیلوں سے فرار کے واقعات اور اسلحے کی لوٹ مار نے ایک ایسا خلا پیدا کیا جس کا فائدہ انتہا پسند عناصر نے اٹھایا۔ مقامی عسکری تنظیموں جیسے جماعت المجاہدین بنگلہ دیش (جے ایم بی) اور انصار الاسلام نے ٹی ٹی پی کے لیے فکری زمین ہموار کرنے میں معاونت فراہم کی ہے۔

بھرتی کا یہ عمل تین بنیادی چیزوں پر استوار ہے: ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے انتہاء پسند نظریات کی ترویج، مذہبی سرپرستی اور مزدور ہجرت کے لبادے میں سرحد پار نقل و حرکت۔ ٹیلی گرام اور واٹس ایپ جیسے خفیہ ذرائع کے ذریعے بنگالی زبان میں مواد تیار کر کے نوجوانوں کو راغب کیا جاتا ہے، جبکہ عمران حیدر جیسے مبینہ سہولت کار ان بھرتی شدگان کو ٹی ٹی پی کی مرکزی کمان سے جوڑنے میں کلیدی کردار ادا کرتے رہے ہیں۔

اقتصادی طور پر کمزور طبقے سے تعلق رکھنے والے ان نوجوانوں کو اکثر روزگار یا عمرہ کی ادائیگی کے بہانے بھارت، خلیجی ممالک اور افغانستان کے راستے پاکستان کے شورش زدہ علاقوں، بالخصوص شمالی وزیرستان تک پہنچایا جاتا ہے۔ ان بھرتی لوگوں کی فعال جنگی کاروائیوں میں شمولیت کے دستاویزی ثبوت بھی سامنے آئے ہیں۔ یہ صورتحال بنگلہ دیش کے لیے داخلی سلامتی اور پاکستان کے لیے انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں میں ایک نئے اور پیچیدہ چیلنج کی نشاندہی کرتی ہے۔

دیکھیے: ٹی ٹی پی کا منحرف ارکان کو قتل کرنے کا حکم

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *