چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ پارٹی اب بھی حکومت کے ساتھ بامقصد مذاکرات کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور امید ہے کہ مولانا فضل الرحمان اس سلسلے میں مثبت اور اچھا کردار ادا کریں گے۔
چارسدہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف نے مولانا فضل الرحمان کو اپوزیشن الائنس میں شامل کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پی ٹی آئی ہمیشہ ریاست اور اداروں کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہے۔
ملکی اور صوبائی سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی نافذ کرنا کسی مسئلے کا حل نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے سہیل آفریدی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کبھی بھی دہشت گردوں یا ان کے بیانیے کی حمایت میں کوئی بیان نہیں دیا ہے۔
سیاسی جمود اور کشیدگی پر روشنی ڈالتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی نے تشبیہ دی کہ اس وقت حکومت اور اپوزیشن دونوں کی گاڑیاں کچے میں پھنسی ہوئی ہیں۔ انہوں نے تمام فریقین کو اپنی انا ختم کرنے اور باہمی گفت و شنید کے ذریعے مسائل حل کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
بیرسٹر گوہر نے زور دے کر کہا کہ موجودہ بحرانوں سے نکلنے کا واحد راستہ صرف اور صرف سنجیدہ اور بامقصد مذاکرات ہیں۔ پی ٹی آئی نے ہر دور میں سیاسی استحصالی کے بجائے بات چیت کی راہ کو ترجیح دی ہے۔