31 جنوری 2026 کی رات بلوچستان کے ضلع نوشکی میں ایک ایسا اندوہناک سانحہ پیش آیا جس نے انسانیت کو شرما دیا۔ بھارتی پراکسی کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے مسلح دہشت گردوں نے مذہبی عالم، خطیب اور اسکول ٹیچر مفتی امشاد علی کے گھر پر دھاوا بول کر خواتین اور معصوم بچوں سمیت پورے خاندان کو بے دردی سے قتل کر دیا۔
ذرائع کے مطابق دہشت گردوں کو بخوبی علم تھا کہ گھر کے اندر خواتین اور بچے موجود ہیں۔ یہ کوئی کارروائی نہیں بلکہ خالصتاً ایک ٹارگٹ کلنگ تھی۔ جب بی ایل اے کے دہشت گردوں نے گھر کا گھیراؤ کیا تو مفتی امشاد علی کو اندازہ ہو گیا کہ ہتھیار ڈالنے کا مطلب یقینی موت ہے۔ باپ کی حیثیت سے آخری کوشش میں انہوں نے اپنے چار سالہ بیٹے کو ایک بریف کیس میں چھپا دیا اور اسے ہدایت کی کہ وہ کسی بھی حالت میں آواز نہ نکالے، نہ روئے، نہ بولے، شاید خاموشی اس کی جان بچا لے۔
اس کے بعد مفتی امشاد علی خود باہر نکلے، جہاں انہیں شہید کر دیا گیا۔ دہشت گردوں نے ان کی اہلیہ کو بھی قتل کر دیا اور پھر بچوں کو نشانہ بنایا۔ تین سالہ انیقہ، سولہ سالہ عمیر اور چودہ سالہ طلحہ کو بھی بے رحمی سے مار دیا گیا۔ گھر زندگی سے خالی کر دیا گیا اور دہشت گرد موقع سے فرار ہو گئے۔
گھر کے اندر وہ معصوم بچہ بریف کیس میں بند رہا۔ تقریباً دو دن تک وہ بچہ بغیر پانی کے، خوف اور خاموشی کے عالم میں قید رہا، ایک ایسے گھر میں جہاں ہر طرف موت کا سناٹا چھایا ہوا تھا۔ جب اسے زندہ حالت میں نکالا گیا تو وہ شدید ذہنی صدمے کا شکار تھا۔ اہل خانہ کے مطابق بچہ بولنا چھوڑ چکا ہے اور خدشہ ہے کہ وہ شاید کبھی معمول کی زندگی کی طرف واپس نہ آ سکے۔
اس المناک واقعے کی اطلاع یکم فروری کو خیبرپختونخوا کے ضلع کرک میں خاندان کو ملی۔ نوشکی سے آنے والی فون کال میں بتایا گیا کہ ان کے علاقے سے تعلق رکھنے والے ایک خطیب کو بی ایل اے کے حملے میں شہید کر دیا گیا ہے۔ مقتول کے بھائی محمد ناصر کے مطابق، “میرے والد نے کہا کہ ہمارے علاقے سے نوشکی میں صرف ایک ہی خطیب تعینات ہے، اور وہ میرا بیٹا ہے۔”
بعد ازاں تصدیق سے معلوم ہوا کہ مفتی امشاد علی، ان کی اہلیہ اور تین بچے شہید ہو چکے ہیں، جبکہ ایک بیٹی زخمی حالت میں بچ گئی جس کا علاج کوئٹہ میں جاری ہے۔
اہل خانہ کا کہنا ہے کہ مفتی امشاد علی ایک نرم گفتار عالم دین اور استاد تھے، جن کا کسی سیاسی سرگرمی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ وہ صرف تعلیم دینے اور خدمتِ خلق کے جذبے کے تحت نوشکی گئے تھے۔
نوشکی جیسے دور دراز علاقوں میں ایسے واقعات اکثر قومی مباحث کا حصہ نہیں بنتے، مگر ہر عدد کے پیچھے ایک اجڑا ہوا گھر، ایک خاموش ہو چکا بچہ اور ایک مٹا دیا گیا خاندان ہوتا ہے۔ یہ واقعہ اس اندھی دہشت گردی کی واضح مثال ہے جسے بھارتی پراکسی تنظیم بی ایل اے بلوچستان میں پھیلا رہی ہے جہاں مقصد مزاحمت نہیں بلکہ معصوموں کا قتل اور خوف کی حکمرانی ہے۔