"> نورستان میں دھماکہ، اہم دہشت گرد کمانڈر 3ساتھیوں سمیت ہلاک - HTN Urdu
مددگار یا مکار؟ ایجوکیشن کنسلٹنٹ یا فراڈ کا ماہر؟

مددگار یا مکار؟

بیرونِ ملک تعلیم کا خواب دھوکے میں نہ بدلنے دیں۔ ایجنٹ کے دعووں، فیس اور داخلے کی تصدیق کرکے اپنے مستقبل اور رقم کو محفوظ بنائیں۔

نورستان میں دھماکہ، اہم دہشت گرد کمانڈر 3ساتھیوں سمیت ہلاک

ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکا ہفتے کے روز اس وقت ہوا جب ایک گاڑی صوبہ نورستان کے ایک پہاڑی علاقے میں سفر کر رہی تھی۔ گاڑی کے قریب نصب دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈی) پھٹ گیا، جس کے نتیجے میں گاڑی میں سوار چار افراد موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔
نورستان میں دھماکہ، اہم دہشت گرد کمانڈر 3ساتھیوں سمیت ہلاک

سکیورٹی حکام کے مطابق برجان سواتی کی ہلاکت دہشت گرد نیٹ ورکس کے لیے ایک بڑا دھچکا تصور کی جا رہی ہے، کیونکہ وہ سرحد پار دہشت گرد سرگرمیوں میں ایک اہم کردار ادا کر رہا تھا۔

February 8, 2026

افغانستان کے صوبہ نورستان میں ہونے والے بم دھماکے میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، جماعت الاحرار اور داعش سے وابستہ اہم کمانڈر برجان سواتی اپنے تین ساتھیوں سمیت ہلاک ہو گیا، جبکہ تین افراد زخمی ہو گئے۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں سینئر کمانڈر ملا برجان بھی شامل ہے، جس کا تعلق دہشت گرد تنظیم جماعت الاحرار سے تھا اور وہ ٹی ٹی پی کے اہم عسکری ڈھانچے کا حصہ رہا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ برجان سواتی کو ٹی ٹی پی کے 2023 اور 2024 کے کمانڈ اسٹرکچر میں نور ولی محسود کا نائب مقرر کیا گیا تھا، جبکہ دسمبر 2025 میں اسے تنظیم کے ساؤتھ زون کا سربراہ بنایا گیا۔

مزید انکشافات کے مطابق سال 2026 میں برجان سواتی کو ٹی ٹی پی، جماعت الاحرار اور داعش کے مشترکہ دہشت گردی نیٹ ورک میں ایک کلیدی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ یہ نیٹ ورک افغان انٹیلی جنس ادارے جی ڈی آئی کی نگرانی میں سرگرم تھا اور خطے میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث رہا۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکا ہفتے کے روز اس وقت ہوا جب ایک گاڑی صوبہ نورستان کے ایک پہاڑی علاقے میں سفر کر رہی تھی۔ گاڑی کے قریب نصب دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈی) پھٹ گیا، جس کے نتیجے میں گاڑی میں سوار چار افراد موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔ سکیورٹی حکام کا خیال ہے کہ بم پہلے سے نصب تھا اور ممکنہ طور پر ریموٹ کنٹرول کے ذریعے دھماکا کیا گیا، تاہم واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس حملے کو دہشت گرد تنظیموں کے اندرونی اختلافات یا تنظیمی تصفیے سے بھی جوڑا جا رہا ہے، تاہم حتمی رائے تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آئے گی۔ واقعے کے بعد علاقے میں سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے اور زخمیوں کو قریبی طبی مرکز منتقل کر دیا گیا ہے۔

سکیورٹی حکام کے مطابق برجان سواتی کی ہلاکت دہشت گرد نیٹ ورکس کے لیے ایک بڑا دھچکا تصور کی جا رہی ہے، کیونکہ وہ سرحد پار دہشت گرد سرگرمیوں میں ایک اہم کردار ادا کر رہا تھا۔

دیکھیے: وادی تیراہ میں آپریشن پر منظور پشتین کے الزامات؛ سکیورٹی ماہرین نے اپنا مؤقف جاری کر دیا

متعلقہ مضامین

خیبر پختونخوا کے 180 روزہ ایکشن پلان میں 27 محکموں کے لیے 206 اقدامات تجویز کیے گئے ہیں، جن میں صحت، تعلیم، سڑکوں، روزگار اور توانائی کے منصوبے شامل ہیں۔

October 17, 2026

مولانا فضل الرحمن کی سیاست، افغان طالبان سے روابط، تحریک طالبان پاکستان کے معاملے پر مؤقف اور دینی مدارس کے سیاسی اثر و رسوخ کا جائزہ۔

October 17, 2026

بیرونِ ملک تعلیم کا خواب دھوکے میں نہ بدلنے دیں۔ ایجنٹ کے دعووں، فیس اور داخلے کی تصدیق کرکے اپنے مستقبل اور رقم کو محفوظ بنائیں۔

October 17, 2026

جنرل سید عامر رضا نے کاکول میں پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سرحد پار دراندازی برداشت نہیں کرے گا اور ملکی دفاع کے لیے تیار ہے۔

October 17, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *