وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے مولانا فضل الرحمٰن سے اپیل کی ہے کہ وہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی حکومتوں کا موازنہ زمینی حقائق اور عملی اقدامات کی بنیاد پر کریں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو سیاسی اختلافات کی نذر نہیں ہونا چاہیے اور قومی سلامتی کے معاملات پر ذمہ دارانہ مؤقف اختیار کرنا ضروری ہے۔
سرفراز بگٹی کے مطابق مولانا فضل الرحمٰن کی سیاسی بصیرت اور تجربے کا احترام کرتے ہیں۔ ان سے توقع ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف ریاستی کوششوں اور سکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو بھی مدنظر رکھیں گے۔
اپوزیشن کا مشترکہ مؤقف
وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ صوبے میں سیاسی اختلافات کے باوجود تمام پارلیمانی جماعتوں کو ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ان کے مطابق بلوچستان حکومت دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی سے متعلق اہم فیصلوں پر اپوزیشن کو اعتماد میں لیتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی حکومتوں کا موازنہ کرتے وقت دونوں صوبوں میں دہشت گردی کے خلاف عملی اقدامات اور سیاسی قیادت کے کردار کو سامنے رکھنا چاہیے۔
سرفراز بگٹی نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف ریاست کی نہیں بلکہ پوری قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ پاک فوج اور سکیورٹی اداروں کے افسران اور اہلکار اس جنگ میں قربانیاں دے رہے ہیں، جنہیں قومی سلامتی سے متعلق گفتگو میں ملحوظ رکھنا چاہیے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ مولانا فضل الرحمٰن دہشت گردی کے خلاف قومی جدوجہد کو سیاسی اختلافات سے بالاتر رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی کے معاملات کو سیاسی اختلافات کی بنیاد پر نہیں دیکھنا چاہیے۔
سرفراز بگٹی کے مطابق مولانا فضل الرحمٰن اور ان کی جماعت بھی ماضی میں دہشت گردی کا نشانہ بن چکے ہیں، اس لیے دہشت گردی کے خلاف مشترکہ قومی مؤقف کی اہمیت کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔





