چکوال میں نادرن بائی پاس منصوبہ 12 سال گزرنے کے باوجود مکمل نہ ہو سکا۔ اس طویل تاخیر نے مقامی آبادی میں شدید اضطراب پیدا کر دیا ہے۔
یہ منصوبہ شہر کے مستقبل کے ٹریفک نظام کے لیے ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا ہے۔ شہریوں کا موقف ہے کہ محض زبانی دلاسوں کا وقت گزر چکا ہے، اب زمینی سطح پر کام درکار ہے۔
نادرن بائی پاس چکوال میں ٹریفک کا بڑھتا ہوا بوجھ سنبھالنے کے لیے ناگزیر ہے۔ سڑک کی تکمیل سے شہری حدود میں گاڑیوں کا دباؤ واضح طور پر کم ہو جائے گا۔
سالہا سال کی تاخیر سے اس منصوبے کے مالی اخراجات بھی غیر معمولی حد تک بڑھ چکے ہیں۔ لاگت میں مسلسل اضافے اور سست روی نے انتظامی صلاحیتوں پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
عوامی حلقوں نے حکومت اور متعلقہ محکموں سے کام فوری شروع کرنے کی اپیل کی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ صرف اعلانات نہیں بلکہ عملی پیشرفت دیکھنا چاہتے ہیں۔
اب تمام تر نظریں اربابِ اختیار پر ہیں کہ حکومتی رابطے کب عملی شکل اختیار کرتے ہیں، اور یہ اہم ترین منصوبہ کب مکمل ہو کر عوام کے لیے کھولا جاتا ہے۔