چین اور پاکستان نے صومالیہ کی خودمختاری اور سرحدی سالمیت کے تحفظ کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے۔ چینی وزیر خارجہ وانگ ژی نے صومالیہ کے اپنے ہم منصب سے ٹیلیفونک گفتگو میں واضح کیا ہے کہ چین علیحدگی پسند کوششوں کو سختی سے مسترد کرتا ہے۔
چینی وزیرِ خارجہ نے کا کہنا تھا کہ چین افریقی ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات کو فروغ دینے کے عزم پر قائم ہے اور صومالیہ کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنائے گا۔ انہوں نے صومالی لینڈ اور تائیوان کے درمیان ممکنہ تعاون کو خطے کے استحکام کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا۔ چینی وزارت خارجہ کے مطابق وانگ ژی کا صومالیہ کا متعین دورہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر ملتوی کر دیا گیا ہے۔
پاکستان کا واضح مؤقف
دوسری جانب پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سعودی عرب کے شہر جدہ میں منعقدہ تنظیم تعاون اسلامی کے وزرائے خارجہ کے غیر معمولی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صومالیہ کی خودمختاری، وحدت اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ کوئی بیرونی ادارہ یا ریاست صومالیہ کی خودمختاری میں مداخلت کا قانونی یا اخلاقی حق نہیں رکھتی۔
وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اقوام متحدہ میں صومالیہ کے حق میں آواز بلند کی ہے اور بین الاقوامی قانون کے تحت کسی بھی ریاست کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو ناقابل تنسیخ حق قرار دیا ہے۔ انہوں نے اسرائیل کی غزہ میں جاری غیر قانونی کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے صومالی لینڈ کے حالیہ دورے پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔
دیکھیں: سوڈان میں فوج اور ریپڈ سکیورٹی فورسز کے جھڑپوں میں لاکھوں بے گھر، 40 ہزار افراد ہلاک