چین نے واخان راہداری کے قریب سرحدی حدود کی خلاف ورزی کی کوشش پر افغان طالبان کے اہلکاروں کو علاقہ چھوڑنے کی تنبیہ جاری کر دی ہے۔ افغان جریدے افغانستان انٹرنیشنل کے مطابق چینی سرحدی حکام نے طالبان اہلکاروں کو فوری طور پر واپس جانے کی ہدایت کی۔
رپورٹ کے مطابق افغانستان سے سرحد پار دراندازی اور دہشت گردی کے خدشات کے باعث خطے کے ہمسایہ ممالک نے سرحدی نگرانی سخت کر دی ہے۔
سکیورٹی سخت
افغانستان میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد چین نے اپنی سرحدی سکیورٹی بڑھانے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق چینی حکام نے افغان سرحد کے قریب خاردار باڑ لگائی اور نگرانی کے لیے کیمرے نصب کیے ہیں۔
چین نے ممکنہ دراندازی اور دہشت گردوں کی آمدورفت کے خدشات کے پیش نظر افغانستان کے ساتھ واخان سرحدی راستہ بھی بند رکھا ہے۔
واخان راہداری افغانستان کے شمال مشرق میں واقع ایک تنگ زمینی پٹی ہے، جو چین کی سرحد تک پہنچتی ہے۔ یہ علاقہ چین اور افغانستان کے درمیان سرحدی رابطے کے حوالے سے اہمیت رکھتا ہے۔
افغان جریدے کی رپورٹ کے مطابق سرحد پار دراندازی اور دہشت گردی کے خدشات نے خطے کے ممالک کو حفاظتی اقدامات مزید سخت کرنے پر مجبور کیا ہے۔ تاہم، اس واقعے اور چینی حکام کی تنبیہ سے متعلق تفصیلات کی آزادانہ تصدیق دستیاب معلومات سے نہیں ہو سکی۔





