چین نے تائیوان کے معاملے میں مداخلت کرنے والے تمام غیر ملکی طاقتوں کو دوٹوک انداز میں پیغام دیتے ہوئے کہا کہ وہ تائیوان کے معاملے میں کسی بھی بیرونی مداخلت کو برداشت نہیں کرے گا۔ رائٹرز کے مطابق چین نے جاپان کے تائیوان کے قریب میزائل یونٹس کی تعیناتی پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے اقدامات علاقائی بدامنی اور بین جنگ کا سبب بنتے ہیں۔
چین کے تائیوان امور کے ترجمان پینگ قینگن نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس اپنی قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا پورا حق ہے۔ لہذا ہم کسی کی بھی مداخلت برداشت نہیں کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تائیوان چین کا اہم حصہ ہے اور اسے قابو پانے کے لیے طاقت کا اسعمال بھی کیا جاسکتا ہے۔ دوسری جانب تائیوان کی حکومت چین کے خودمختاری کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہتی ہے کہ صرف تائیوان کے عوام ہی اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔
چین کی جانب سے یہ سخت موقف ایسے وقت سامنے آیا ہے جب خطے میں فوجی سرگرمیاں اور بین الاقوامی کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ چین نے دوٹوک انداز میں کہا ہے کہ وہ اپنی سرحدی سالمیت اور علاقائی مفادات کے تحفظ کے لیے کسی بھی اقدام سے دریغ نہیں کرے گا۔
دیکھیں: افغانستان میں عدم استحکام یا رجیم چینج کا کوئی ارادہ نہیں، واحد مطالبہ دراندازی روکنا ہے؛ پاکستان