وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے ایک بار پھر سخت اور اشتعال انگیز مؤقف اختیار کرتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ وہ وفاق کے ساتھ کسی بھی قسم کے معتدل سیاسی راستے پر چلنے کو تیار نہیں۔
سیاسی تناؤ کم کرنے اور مذاکرات کا ایک اور اہم موقع فراہم کیے جانے کے باوجود، وزیراعلیٰ کی جانب سے میں نہ مانوں کی روایت کو برقرار رکھا گیا۔ آئینی و قانونی دائرہ کار میں رہتے ہوئے معاملے کو سلجھانے کے بجائے، مسلسل دھمکی آمیز انداز اپنایا جا رہا ہے۔
اپنے حالیہ بیان میں انہوں نے ایمرجنسی یا گورنر راج کی بات کرتے ہوئے سخت اور غیر معمولی الفاظ کا استعمال کیا۔ سیاسی مبصرین کے مطابق، ایسے نازک وقت میں ترکی کی مثالیں دینا اور تصادم کی طرف اشارہ کرنا کسی بھی جمہوری اور صوبائی سربراہ کو زیب نہیں دیتا۔
صوبے کی ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود پر توجہ مرکوز کرنے کے بجائے، تمام پالیسیوں کو محض ایک بیانیے اور فردِ واحد کی سوچ کے تابع کر دیا گیا ہے۔ یہاں صرف عمران خان کی پالیسی چلے گی کا نعرہ اس بات کا ثبوت ہے کہ صوبائی حکومت عوامی مسائل کے حل کے بجائے سیاسی محاذ آرائی کو ترجیح دے رہی ہے۔
وفاق اور دیگر آئینی اداروں کو کھلم کھلا چیلنج کرنے اور لانگ مارچ کو طول دینے کا یہ ضدی رویہ صوبے کو مزید سیاسی و معاشی عدم استحکام کی طرف دھکیل رہا ہے۔ موقع ملنے کے باوجود لچک نہ دکھانا اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ صوبائی قيادت افہام و تفہیم کے بجائے محاذ آرائی کی سیاست کو ہی اپنا حتمی مقصد بنا چکی ہے۔
بحران، حکومتی غفلت اور دہشت گردی
کے پی میں دہشت گردی کے خونریز طوفان اور امن و امان کی تباہی کے دوران صوبائی حکومت مکمل طور پر مفلوج رہی۔ سال 2025 میں ملک بھر کی 68 فیصد پُرتشدد اموات اسی صوبے میں ہوئیں اور محض چھ ماہ میں 122 پولیس اہلکار شہید ہوئے، جبکہ سی ٹی ڈی کی 19 فیصد آسامیاں خالی اور اسلحے کی شدید کمی تھی۔
اس سنگین صورتحال میں وزیراعلیٰ کو پہلی ایپکس کمیٹی بلانے میں 112 دن لگ گئے، وہ سیکیورٹی اجلاسوں سے دور رہے، نیشنل ایکشن پلان سے بھاگے اور دہشت گردوں کے خلاف کمان سنبھالنے کے بجائے اپنی پوری توجہ فتنہ خان کی سیاست، کنٹینرز اور اسلام آباد کے محاذ پر مرکوز رکھی۔
وفاق اور سیکیورٹی اداروں نے اس بحران سے بچنے کے لیے ہر ممکن سیاسی راستہ آزمایا، مذاکرات کیے، رابطے کیے اور شٹل ڈپلومیسی (جیسے مولانا فضل الرحمٰن کی کوششیں) کے ذریعے گنجائش پیدا کی۔ ریاست نے بار بار بات چیت کے دروازے کھولے اور آخری وقت تک تعاون کی پیشکش کی، مگر تحریکِ انتشار نے صوبے کے امن پر ہمیشہ اپنی سیاست اور ضد کو ترجیح دی۔
وزیراعلیٰ اور وفاق کے درمیان سیکیورٹی کی مشترکہ حکمتِ عملی مکمل طور پر ختم ہو چکی تھی اور اس حکومتی خلا کا واحد فائدہ دہشت گرد اٹھا رہے تھے۔
جب صوبائی قیادت نے سیکیورٹی اداروں سے منہ موڑ کر کے پی کو سیاسی اکھاڑہ بنا دیا اور عوام جنازے اٹھاتے رہے تو ریاست تماشائی نہیں بن سکتی تھی۔ عوام کو بے یار و مددگار چھوڑنا یا دہشت گردوں کے رحم و کرم پر کرنا ممکن نہیں تھا، اس لیے آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت غیر معمولی قدم اٹھانا ناگزیر ہو گیا۔
مینڈیٹ صوبہ چلانے کا تھا نہ کہ اسے فتنہ خان کی سیاست کی بھینٹ چڑھانے کا؛ چونکہ صوبائی حکومت نے سیاست کو امن پر ترجیح دی، اس لیے ریاست نے مجبوری کے تحت باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لے کر عوام کی جانوں کے تحفظ کی ذمہ داری نبھائی۔