ووٹر فہرستوں سے کروڑوں نام حذف کیے جانے کے خلاف بھارت کی نوجوان نسل کاکروچ تحریک کے پرچم تلے سڑکوں پر نکل آئی ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق اس احتجاج نے وزیراعظم نریندر مودی کی ہندو قوم پرست حکومت کو سخت دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
بھارت میں گزشتہ سال سے جاری مہم کے تحت 13 کروڑ سے زائد نام ووٹر فہرستوں سے نکالے جا چکے ہیں۔ ناقدین اور مظاہرین کا الزام ہے کہ اس چھانٹی کا مقصد سیاسی مفادات حاصل کرنا اور لاکھوں شہریوں کو حقِ رائے دہی سے محروم کرنا ہے۔
مظاہرین چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے فوری استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ دوسری جانب الیکشن کمشن کا کہنا ہے کہ یہ قدم دہرے اور غیر معتبر اندراجات ختم کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
پولیس کا کریک ڈاؤن
دارالحکومت نئی دہلی میں مظاہرین کو جمع ہونے سے روکنے کے لیے پولیس نے سخت رویہ اختیار کیا ہے۔ سڑکوں پر لوہے کی رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں، جبکہ متعدد نوجوانوں کو تشدد کا نشانہ بنا کر حراست میں لیا گیا۔
پولیس تشدد کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد نوجوانوں کے غصے میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ رکاوٹوں کے باوجود طلبا اور نوجوان احتجاج جاری رکھنے پر بضد ہیں۔
مودی حکومت کا ردِعمل
وزیراعظم نریندر مودی نے ان مظاہروں پر فی الحال خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ تاہم حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے بعض رہنماؤں نے مظاہرین کو انارکسٹ قرار دیا ہے اور بغیر ثبوت غیر ملکی پشت پناہی کا الزام لگایا ہے۔
بارہ سال سے مودی دورِ حکومت میں پرورش پانے والی نئی نسل اب منظم چیلنج بن چکی ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ کسی مخصوص سیاسی جماعت سے نہیں، بلکہ جمہوری حقوق کی بحالی کے لیے متحد ہوئے ہیں۔
رواں موسمِ گرما کے آغاز میں سڑکوں کے دباؤ پر بھارتی وزیرِ تعلیم کے استعفے کے بعد نوجوانوں کو اپنی طاقت کا احساس ہوا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ تحریک بھارتی جمہوریت اور انتخابی عمل کی شفافیت کے لیے اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے۔





