عالمی دہشت گردی انڈیکس (جی ٹی آئی) 2026 میں پاکستان کی پہلی پوزیشن اور سکیورٹی صورت حال کی رپورٹ نے سرحد پار دہشت گردی اور علاقائی سلامتی پر اس کے خطرناک اثرات کو واضح کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ملک میں دہشت گردی کے باعث ہونے والی تقریباً 97 فیصد ہلاکتیں خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ہوئیں، جو سرحد پار سے درپیش خطرات کی سنگینی کو ظاہر کرتی ہیں۔
تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور افغانستان میں موجود دہشت گرد نیٹ ورکس کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں سے خطے کا امن اور معاشی روابط شدید متاثر ہو رہے ہیں۔
پاکستان کی افغانستان کے ساتھ 2,600 کلومیٹر طویل سرحد پر سکیورٹی کے سخت چیلنجز موجود ہیں، تاہم بار بار مطالبات کے باوجود افغان عبوری حکومت کا عدم تعاون اور افغان حدود میں موجود ٹی ٹی پی، داعش خراسان اور دیگر نیٹ ورکس کی موجودگی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔
ٹی ٹی پی دنیا کی چار مہلک ترین تنظیموں میں شامل ہو چکی ہے، جبکہ داعش خراسان کی جانب سے ازبک و تاجک شہریوں کی بھرتی اور پروپیگنڈا مہمات سے معلوم ہوتا ہے کہ دہشت گردی کے اثرات پاکستان سے نکل کر وسطی ایشیا اور روس تک پھیل چکے ہیں۔
سکیورٹی خطرات سے نہ صرف امن و امان متاثر ہو رہا ہے بلکہ 4.8 ارب ڈالر کی لاگت سے مجوزہ 573 کلومیٹر طویل ازبکستان، افغانستان، پاکستان ریلوے جیسے اہم معاشی و علاقائی انضمام کے منصوبے بھی معطل ہونے کے خدشات ہیں۔
دوسری جانب پاکستان نے شنگھائی تعاون تنظیم کے علاقائی انسدادِ دہشت گردی ڈھانچے (ایس سی او ریٹس) کی صدارت سنبھالتے ہوئے تاشقند اجلاس کے ذریعے علاقائی تعاون کو فعال کیا ہے، نیز ازبکستان اور کرغزستان کے ساتھ انٹیلی جنس اور سائبر سکیورٹی کے شعبوں میں شراکت داری کو فروغ دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق خطے میں پائیدار امن اور معاشی ترقی کے لیے عالمی طاقتوں کو افغانستان میں انسانی امداد کے ساتھ ساتھ انسدادِ دہشت گردی کی تدابیر پر توجہ دینا ہوگی، جبکہ پاکستان کو اقوام متحدہ اور دیگر علاقائی فورمز کے ذریعے مشترکہ سکیورٹی فریم ورک کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔





