"> عالمی دہشت گردی انڈیکس 2026: پاکستان میں سرحد پار دہشت گردی کے اثرات

عالمی دہشت گردی انڈیکس 2026: پاکستان میں سرحد پار دہشت گردی کے اثرات

عالمی دہشت گردی انڈیکس 2026 میں سرحد پار دہشت گردی کی سنگین صورت حال، پاک افغان بارڈر کے سکیورٹی چیلنجز اور علاقائی معاشی منصوبوں کو لاحق خطرات کا تفصیلی جائزہ۔
1۔ عالمی دہشت گردی انڈیکس 2026: پاکستان میں سرحد پار دہشت گردی کے اثرات

پاکستان میں سرحد پار دہشت گردی، ٹی ٹی پی اور داعش خراسان کے چیلنجز اور ایس سی او ریٹس کے تحت علاقائی سلامتی و معاشی منصوبوں کے تحفظ کے لیے اقدامات۔

October 22, 2026

عالمی دہشت گردی انڈیکس (جی ٹی آئی) 2026 میں پاکستان کی پہلی پوزیشن اور سکیورٹی صورت حال کی رپورٹ نے سرحد پار دہشت گردی اور علاقائی سلامتی پر اس کے خطرناک اثرات کو واضح کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ملک میں دہشت گردی کے باعث ہونے والی تقریباً 97 فیصد ہلاکتیں خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ہوئیں، جو سرحد پار سے درپیش خطرات کی سنگینی کو ظاہر کرتی ہیں۔

تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور افغانستان میں موجود دہشت گرد نیٹ ورکس کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں سے خطے کا امن اور معاشی روابط شدید متاثر ہو رہے ہیں۔

پاکستان کی افغانستان کے ساتھ 2,600 کلومیٹر طویل سرحد پر سکیورٹی کے سخت چیلنجز موجود ہیں، تاہم بار بار مطالبات کے باوجود افغان عبوری حکومت کا عدم تعاون اور افغان حدود میں موجود ٹی ٹی پی، داعش خراسان اور دیگر نیٹ ورکس کی موجودگی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔

ٹی ٹی پی دنیا کی چار مہلک ترین تنظیموں میں شامل ہو چکی ہے، جبکہ داعش خراسان کی جانب سے ازبک و تاجک شہریوں کی بھرتی اور پروپیگنڈا مہمات سے معلوم ہوتا ہے کہ دہشت گردی کے اثرات پاکستان سے نکل کر وسطی ایشیا اور روس تک پھیل چکے ہیں۔

سکیورٹی خطرات سے نہ صرف امن و امان متاثر ہو رہا ہے بلکہ 4.8 ارب ڈالر کی لاگت سے مجوزہ 573 کلومیٹر طویل ازبکستان، افغانستان، پاکستان ریلوے جیسے اہم معاشی و علاقائی انضمام کے منصوبے بھی معطل ہونے کے خدشات ہیں۔

دوسری جانب پاکستان نے شنگھائی تعاون تنظیم کے علاقائی انسدادِ دہشت گردی ڈھانچے (ایس سی او ریٹس) کی صدارت سنبھالتے ہوئے تاشقند اجلاس کے ذریعے علاقائی تعاون کو فعال کیا ہے، نیز ازبکستان اور کرغزستان کے ساتھ انٹیلی جنس اور سائبر سکیورٹی کے شعبوں میں شراکت داری کو فروغ دیا ہے۔

ماہرین کے مطابق خطے میں پائیدار امن اور معاشی ترقی کے لیے عالمی طاقتوں کو افغانستان میں انسانی امداد کے ساتھ ساتھ انسدادِ دہشت گردی کی تدابیر پر توجہ دینا ہوگی، جبکہ پاکستان کو اقوام متحدہ اور دیگر علاقائی فورمز کے ذریعے مشترکہ سکیورٹی فریم ورک کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

خیبر پختونخوا میں امن و امان کی بحالی اور انسدادِ دہشت گردی کے لیے ایپکس کمیٹی کا اہم اجلاس، پولیس و سی ٹی ڈی کو جدید آلات کی فراہمی اور پسماندہ علاقوں کی ترقی پر اتفاق۔

October 22, 2026

ملتان میں 15 سالہ یتیم لڑکے کی ہلاکت کے مقدمے میں گرفتار ملزم توقیر نذیر کی سی سی ڈی بہاولپور منتقلی پر افسران کے مؤقف اور قانونی اختیار کی تفصیلات سامنے آگئیں۔

October 22, 2026

پاکستان، ترکیہ، قطر اور انڈونیشیا نے دفاعی پیداوار اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے لیے بدر مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے ہیں۔

October 22, 2026

وزیر دفاع خواجہ آصف نے الزام عائد کیا ہے کہ بیرون ملک مقیم یوٹیوبرز ڈالرز کمانے کے لیے پی ٹی آئی کی مشکلات کا سودا کر رہے ہیں اور وہی پارٹی کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔

October 22, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *