"> درہ آدم خیل میں سکیورٹی فورسز کا کامیاب آپریشن، 11 خارجی دہشت گرد ہلاک
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

درہ آدم خیل میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، فتنہ الخوارج کے 11 دہشت گرد ہلاک

درہ آدم خیل میں سکیورٹی فورسز کے دو آپریشنز میں 11 خارجی ہلاک اور ایک گرفتار کر لیا گیا، جبکہ ہلاک دہشت گردوں میں 2 افغان شہری بھی شامل ہیں۔
سکیورٹی فورسز نے درہ آدم خیل کے علاقے تور چھپر میں دو کامیاب آپریشنز کے دوران فتنہ الخوارج کے 11 دہشت گردوں کو ہلاک اور ایک کو زندہ گرفتار کر لیا ہے۔ ہلاک خوارج میں 2 افغان شہری بھی شامل ہیں۔

درہ آدم خیل کے علاقے تور چھپر میں سکیورٹی فورسز کا بڑا انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن۔ فتنہ الخوارج کے طارق گیدڑ گروپ کے 11 دہشت گرد ہلاک، ایک خارجہ گرفتار۔

May 30, 2026

سکیورٹی فورسز نے خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ سے متصل سرحدی علاقے درہ آدم خیل میں انٹیلی جنس معلومات پر مبنی دو کامیاب آپریشنز کے دوران ‘فتنہ الخوارج’ (تحریکِ طالبان پاکستان) کے 11 دہشت گردوں کو ہلاک اور ایک کو زندہ گرفتار کر لیا ہے۔ کارروائی کے دوران دہشت گردوں کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا ہے۔

شدید جھڑپ

سکیورٹی ذرائع کے مطابق پہلا آپریشن درہ آدم خیل کے علاقے ‘تور چھپر’ میں دہشت گردوں کی موجودگی کی خفیہ اطلاع پر کیا گیا۔ فورسز کے جائے وقوعہ پر پہنچتے ہی وہاں روپوش دہشت گردوں نے اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ سکیورٹی فورسز کی بھرپور جوابی کارروائی کے نتیجے میں فتنہ الخوارج کے بدنامِ زمانہ ‘طارق گیدڑ آفریدی گروپ’ سے تعلق رکھنے والے 6 دہشت گرد مارے گئے۔

افغان شہریوں کی شناخت

ہلاک ہونے والے دہشت گردوں میں سے چار کی شناخت ہو چکی ہے، جن میں زورخیل کا رہائشی داؤد ولد صاحب شاہ اور اخورخیل کا حمزہ شامل ہیں، جبکہ دو دہشت گردوں قاری زینت اللہ افغانی اور قاری لوانگین افغانی کا تعلق افغانستان سے بتایا گیا ہے۔ باقی دو ہلاک شدگان کی شناخت کا عمل ابھی جاری ہے۔

سرچ آپریشن

اسی علاقے تور چھپر میں دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو مکمل طور پر غیر مؤثر بنانے کے لیے فورسز کی جانب سے ایک الگ سرچ آپریشن بھی کیا گیا۔ اس کارروائی کے دوران شدید فائرنگ کے تبادلے میں طارق گیدڑ گروپ کے مزید 5 دہشت گرد جہنم واصل کر دیے گئے، جبکہ انتہائی اہم کامیابی کے طور پر ایک دہشت گرد کو زندہ گرفتار کر لیا گیا ہے، جسے تفتیش کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

دہشت گردی اور عزم

سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں علاقے میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں کے خاتمے اور ان کے نیٹ ورکس کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے جاری منظم سکیورٹی اقدامات کا حصہ ہیں۔ سکیورٹی فورسز نے عزم ظاہر کیا ہے کہ ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک آپریشنز کا یہ سلسلہ بلا تفریق جاری رہے گا اور معصوم شہریوں کے خون سے ہولی کھیلنے والے عناصر کو کسی صورت رعایت نہیں دی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *