بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج کی کال کے بعد سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔ مظاہرے کو روکنے کے لیے پولیس اور نیم فوجی دستوں کے 20 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کی تیاری کی گئی ہے، جبکہ شہر میں آمدورفت اور انٹرنیٹ سروس پر بھی پابندیاں عائد کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے جنتر منتر پر احتجاج کا اعلان کیا ہے، تاہم پولیس نے مظاہرے کی اجازت نہیں دی۔ احتجاج کے منتظمین نے اجازت نہ ملنے کے باوجود سڑکوں پر نکلنے کے منصوبے پر عمل کرنے کا اعلان کیا ہے۔
دہلی میں سکیورٹی سخت
احتجاج کے پیش نظر حساس علاقوں میں نگرانی بڑھا دی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق 300 سے زائد سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے گئے ہیں، جن میں آواز ریکارڈ کرنے کی سہولت بھی موجود ہے۔
دہلی میٹرو کے 45 اسٹیشنوں کے داخلی اور خارجی راستے بند رکھنے کا اعلان کیا گیا، جبکہ نئی دہلی اور حضرت نظام الدین ریلوے اسٹیشنوں پر 250 سے زائد ٹرینیں منسوخ کیے جانے کی اطلاع ہے۔
احتجاجی مقام کے قریب تقریباً 4 کلومیٹر کے علاقے میں موبائل انٹرنیٹ سروس بھی 24 گھنٹے کے لیے معطل کرنے کی اطلاع دی گئی ہے۔
پولیس نے امن و امان برقرار رکھنے کے لیے حفاظتی اقدامات مزید سخت کر دیے ہیں۔ احتجاج کے منتظمین کے مظاہرے پر قائم رہنے کے اعلان کے بعد دارالحکومت میں صورتحال پر توجہ مرکوز ہے۔ تاہم، بڑے پیمانے پر عوام کے سڑکوں پر نکلنے یا حالات انتہائی کشیدہ ہونے کی آزادانہ تصدیق دستیاب متن سے نہیں ہوتی۔