قومی پیغام امن کمیٹی اور ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کے مابین ہونے والی اہم ملاقات میں قومی بیانیے کے تحفظ اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے خاتمے کے لیے مشترکہ تعاون پر اتفاق کیا۔ تفصیلات کے مطابق ملاقات کے دوران قومی پیغام امن کمیٹی نے پاکستان مسلح افواج کے ساتھ اپنی یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف مشترکہ عزم کا اظہار کیا۔ کمیٹی نے فتنہ الخوارج اور افغان طالبان کی مذمت کرتے ہوئے واضح کیا کہ دہشت گردی کے لیے کوئی مذہبی یا سیاسی جواز قابل قبول نہیں ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے اس موقع پر کہا کہ قومی سلامتی کے معاملات میں یکسوئی اور بیانیے پر اتفاق رائے دورِ حاضر کی اہم ترین ضرورت ہے۔ فتنہ الخوارج، تحریک طالبان پاکستان اور تحریک طالبان افغانستان کے تناظر میں داخلی سلامتی کے چیلنجوں پر تفصیلی تبادلۂ خیال ہوا۔۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ نشر کردہ منفی پروپیگنڈے نے اندرونی اور بیرونی دشمنوں کو فائدہ پہنچایا ہے۔ انہوں نے کشمیر اور غزہ کے معاملات پر پاکستان کے اصولی مؤقف کی توثیق کرتے ہوئے مظلوم عوام کی حمایت کو پاکستان کی اخلاقی ذمہ داری قرار دیا۔
وفد میں قومی پیغام امن کمیٹی کی جانب سے نامور علمائے کرام شریک ہوئے، جن میں مفتی عبد الرحیم، علامہ ضیاء اللہ شاہ بخاری، اور حافظ طاہر محمود اشرفی سمیت متعدد علمائے کرام نے شرکت کی۔
قومی پیغام امن کمیٹی نے اس موقع پر اتفاق کیا کہ وہ منبر و محراب سے اتحاد امت اور سماجی ہم آہنگی کے پیغام کو ملکی سطح پر پھیلانے کے لیے اقدامات کرے گی۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے اس موقع پر یہ بھی کہا کہ دشمن کی نفسیاتی جنگ کا مقابلہ کرنے کے لیے عوامی شعور اور حقائق پر مبنی بیانیہ سب سے موثر ہتھیار ہے۔
دیکھیں: فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بنگلہ دیش کے ایئر چیف کو مینار پاکستان کا علامتی تحفہ پیش کر دیا