خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں افغان دہشت گردوں کے ایک بزدلانہ حملے کے نتیجے میں ایک معصوم بچی اپنی والدہ سمیت جامِ شہادت نوش کر گئی۔ اس دلخراش واقعے نے پورے علاقے کو شدید غم اور صدمے میں مبتلا کر دیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق دہشت گردوں نے نہتے اور بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنایا۔ حملے کے فوری بعد امدادی ٹیموں نے متاثرین کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کرنے کی کوشش کی، تاہم ماں اور بیٹی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے موقع پر ہی دم توڑ گئیں۔
حکومتی ترجیحات
معصوم بچی کی شہادت کی خبر سامنے آتے ہی عوامی اور سماجی حلقوں میں شدید ردعمل دیکھنے میں آیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت اور وزیر اعلیٰ کی ترجیحات میں عوام کا تحفظ اولین مقام پر ہونا چاہیے تھا، لیکن متاثرہ خاندان کی داد رسی اور سیکیورٹی معاملات میں مسلسل عدم توجہی نظر آ رہی ہے۔
امن و امان کے مطالبات
مقامی شہریوں اور سیاسی رہنماؤں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنائے اور دہشت گردی کے خلاف فوری اور ٹھوس اقدامات عمل میں لائے تاکہ مزید بے گناہ جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔