جدید ڈیجیٹل عہد کی ابتداء میں معلومات کی بظاہر لامحدود فراوانی کو عوامی بیداری کا طاقتور ذریعہ سمجھا جاتا تھا۔ یہ تصور عام تھا کہ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کی آزاد فضاء میں ہر شہری کو معلومات تک یکساں رسائی ملے گی اور ریاست و عوام کے مابین رقابتیں ختم ہوکر ہوتے ہوئے مکالمے میں ضم ہو جائیں گی۔ تاہم گزشتہ ایک دہائی کے واقعات نے اس خوش فہمی کو غلط ثابت کیا ہے۔ وہی فضاء جو آزادی اظہار کا گہوارہ سمجھی جاتی تھی، اب منظم پروپیگنڈے، گمراہ کُن بیانیوں، ریاستی اداروں کے وقار کو مجروح کرنے اور سماجی رشتوں کو پارہ پارہ کرنے کے ایک نئے محاذ میں بدل چکی ہے۔ سوشل میڈیا، جو کبھی عوامی مکالمے کا جمہوری پلیٹ فارم تصور کیا جاتا تھا، اب سیاسی عدم استحکام پیدا کرنے اور قانونی عمل کو مشکوک بنانے کا ایک مؤثر ہتھیار بن گیا ہے۔ بنیادی مسئلہ اظہارِ رائے کی آزادی کا نظریہ نہیں، بلکہ اس آزادی کو بیرونی ایجنڈوں اور ریاست مخالف بیانیوں کے تحت استعمال کرنا ہے جو جعل سازی، سماجی اشتعال اور معاشرتی انتشار کو مرتب و منظم انداز میں تقویت بخشتے ہیں۔
یہ رجحان اب صرف ترقی پذیر یا غیر مستحکم ممالک تک محدود نہیں رہا، بلکہ اس نے جمہوری قوتوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ برطانیہ میں 2024 کے فسادات اس بات کی واضح مثال ہیں کہ کس طرح چند گھنٹوں میں بغیر کسی تصدیق کے پھیلائی گئی افواہیں ایک پُرامن معاشرے کو تشدد اور بدامنی کی بھینٹ چڑھا سکتی ہیں۔ ایک فرد کے حادثاتی انتقال کے بعد سوشل میڈیا پر اڑائے گئے جھوٹ نے نہ صرف نسلی اقلیتوں کو منظم تشدد کا نشانہ بنایا، بلکہ پولیس اور انتظامیہ کے لیے بھی ایسا سنگین چیلنج کھڑا کر دیا جس سے نمٹنے کے لیے روایتی قوانین اور طریقہ کار ناکافی ثابت ہوئے۔ برطانوی حکومت اور عدالتی نظام نے اس صورتحال کو آزادیٔ اظہار یا جمہوری احتجاج کے نام پر نظرانداز نہیں کیا، بلکہ فوری اور سخت قانونی کارروائی کرتے ہوئے یہ واضح پیغام دیا کہ عوامی امن کو خطرہ میں ڈالنا، اشتعال انگیز و جھوٹ پھیلانا اور پُرتشدد کارروائیوں پر اُکسانا کسی بھی جمہوری معاشرے میں قابلِ برداشت نہیں۔ یہ واقعہ ایک عالمی سبق بن گیا کہ ڈیجیٹل بے راہ روی کی کوئی جغرافیائی حد نہیں ہوتی۔
پاکستان میں یہی رجحان دیگر ممالک کے مقابلے میں زیادہ منظّم اور قوت کے ساتھ سامنے آیا ہے۔ 2022 کے بعد سے بیرونِ ملک میں مقیم یوٹیوبرز، نامعلوم اور جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹس، سیاسی مبصرین اور بعض مخصوص میڈیا ہاؤسز پر مشتمل ایک وسیع نیٹ ورک تشکیل پایا ہے۔ اس نیٹ ورک کا صریح مقصد ریاستی اداروں بشمول فوج، عدلیہ، اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف مسلسل اشتعال انگیز مواد نشر کرنا، ہر عدالتی عمل کو سیاسی رنگ دینا، اور ریاستی اختیار کو مجروح کر کے ایک ایسا خلا پیدا کرنا ہے جس میں غیرجمہوری قوتیں اپنا اثرورسوخ بڑھا سکیں۔ ان کی حکمتِ عملی اکثر ایک مخصوص ڈھانچے پر عمل کرتی ہے۔ پہلے سوشل میڈیا پر ایک جرأت مندانہ اور ثبوت سے خالی دعویٰ پیش کیا جاتا ہے، پھر یوٹیوب پر طویل، سنسنی خیز اور جذباتی جملوں کے ذریعے اسے نشر کیا جاتا ہے، اور آخر میں منظم لابنگ کے ذریعے اسے بار بار ٹرینڈ کروایا جاتا ہے یوں جھوٹ ایک حقیقت، ایک متوازی بیانیہ بن کر عوام کے ذہنوں میں بیٹھ جاتا ہے۔
اس پوری مہم کا سب سے سنگین پہلو ملک کے قانونی و آئینی نظام کو ہی متنازعہ اور غیر مؤثر بنانے کی کوشش ہے۔ ہر گرفتاری، ہر عدالتی کارروائی، ہر تحقیقی قدم کو آمرانہ جبر، انتقامی کارروائی اور جمہوریت دشمنی کا عنوان دے کر پیش کیا جاتا ہے۔ ججوں، وکلاء، پولیس افسران اور انٹیلی جنس اہلکاروں کو نہ صرف جانب دار، بلکہ کسی نہ کسی فرضی سازش کا حصہ ٹھہرایا جاتا ہے۔ یہ محض حکومت وقت کی پالیسیوں پر تنقید کا معاملہ نہیں، بلکہ ریاست کے بنیادی آئینی اختیار، اس کی سالمیت اور اس کے اداروں کے باہمی توازن کو کھوکھلا کرنے کی منصوبہ بند مہم ہے۔ نتیجتاً عوام ایک ایسی متوازی ڈیجیٹل حقیقت میں رہنے لگتے ہیں جہاں حقائق کی بنیاد عدالتی فیصلے نہیں، بلکہ سوشل میڈیا ٹرینڈز، وائرل ویڈیوز اور تجزیہ کاروں کی رائے ہوتی ہے۔ مذکورہ صورت حال نے نہ صرف قانونی حکمرانی کو کمزور کیا ہے، بلکہ سماجی اعتماد کو غیر معمولی متاثر کیا ہے۔
یہ بات انتہائی اہم ہے کہ پاکستانی ریاست کے ردِعمل کا محور و مرکز سیاسی اختلاف رائے یا حزب اختلاف کی آواز نہیں رہا، بلکہ بے بنیاد دعوے، جھوٹ، بددیانتی، اشتعال انگیزی اور قانونی حدود کی صریح خلاف ورزی رہی ہے۔ عدالتوں میں خصوصاً انسداد دہشت گردی کی عدالتوں میں ایسے متعدد شواہد پیش ہوئے ہیں جن میں بغیر کسی ثبوت کے مخصوص افراد پر غداری، قتل، دہشت گردی کی مالی معاونت اور ریاست کے خلاف جنگ کا ماحول پیدا کرنے جیسے سنگین الزامات لگائے گئے۔ عدالتوں نے متعدد مرتبہ اس بات کو واضح کیا کہ یہ رویہ آئین میں دی گئی آزادیؑ اظہار کی حدوں سے تجاوز ہے اور اس کا واحد مقصد سماجی عدم استحکام اور ریاستی اداروں کے خلاف عدمِ اعتماد کو ہوا دینا ہے۔
اسی تناظر میں عادل راجہ، معید پیرزادہ اور دیگر کئی افراد کے خلاف عدالتی کارروائیوں کو سمجھا جانا چاہیے۔ یہ مقدمات سیاسی اختلاف رائے کو دبانے یا مخالف صداؤں کو خاموش کرنے کے لیے نہیں بنائے گئے۔ بلکہ یہ ان قانونی حدود کے نفاذ کے لیے ہیں جو کسی بھی مہذب معاشرے میں عوامی امن، قومی سالمیت اور ریاستی اداروں کے وقار کے تحفظ کے لیے بنائی گئی ہیں۔ یہ بات قابل غور ہے کہ خود برطانیہ جیسے ملک کی عدالتوں نے بھی اپنے فیصلوں میں تسلیم کیا ہے کہ جان بوجھ کر جھوٹے بیانیے پھیلانا، اداروں کے خلاف مسلح بغاوت پر اُکسانا، اور نفرت انگیز تقاریر آزادیٔ اظہار کے تحفظ کے دائرے میں نہیں آتا۔ یہ کوئی نیا یا متنازعہ اصول نہیں، بلکہ بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کے اصول و ضوابط میں تسلیم شدہ ایک بنیادی ضابطہ ہے، جو دنیا بھر کی جمہوریتوں میں نافذ ہے۔
موجودہ دور میں یوٹیوب، ٹک ٹاک، اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے اس مسئلے کو ایک معاشی اور روزگار کا رنگ دے دیا ہے۔ ان پلیٹ فارمز کا منیٹائژیشن کا نظام سنجیدہ تحقیق، متوازن صحافت اور معروضی تجزیے کے بجائے اشتعال انگیز، جذباتی، سازشی اور متنازعہ مواد کو مالی فائدہ پہنچاتا ہے۔ جس ویڈیو میں جس قدر غیر اخلاقی مواد، مشرقی اقدار سے متضاد چیزیں اور جتنی زیادہ سنسنی ہوگی، اسے اتنی ہی زیادہ ویوز اور آمدنی ملے گی۔ اس طرح سیاسی بحران، ادارہ جاتی کردار کشی اور قومی انتشار ایک منافع بخش ڈیجیٹل انڈسٹری بن جاتا ہے، جہاں افراتفری مواد تخلیق کرنے والوں کے لیے مستقل آمدنی کا ذریعہ ہے۔ ایسے ماحول میں کسی بھی قسم کا احتساب، چاہے وہ قانونی ہو یا اخلاقی، نہ صرف ایک سیاسی خطرہ بن جاتا ہے، بلکہ اس گروہ کی معاشی ترقی کے راستے میں رکاوٹ بھی قرار پاتا ہے۔
اسی لیے بین الاقوامی میڈیا میں پیش کیے جانے والے مبالغہ آمیز دعوؤں، جیسے مخالفین کے قتلِ عام، کو بغیر شواہد کے قبول کرنا نہ صرف غیر ذمہ دارانہ ہے بلکہ خود گمراہ کُن معلومات کے فروغ کے مترادف ہے۔ جب الزامات نام، شواہد اور تصدیق سے خالی ہوں اور انہی ذرائع سے آئیں جو خود عدالتی کارروائیوں کا سامنا کر رہے ہوں، تو سوال ریاست پر نہیں بلکہ بیانیے پر اٹھتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ آج دنیا بھر میں ریاستوں کو ایک مشترکہ چیلنج درپیش ہے۔ ڈیجیٹل گمراہ کن معلومات۔ آزادیٔ اظہار اور مجرمانہ اشتعال کے مابین فرق نظریاتی نہیں بلکہ قانونی ہے۔ جب یہ حد عبور کی جائے تو ریاستی ردِعمل جمہوریت دشمن نہیں بلکہ قانون کی بالادستی کا تقاضا ہوتا ہے۔ پاکستان کا معاملہ بھی اسی عالمی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے نہ کہ سادہ سیاسی مظلومیت کے بیانیے کے ذریعے۔