ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 ایک مرتبہ پھر اس حقیقت کی یاد دہانی بن چکا ہے کہ عالمی کرکٹ میں فیصلے اصولوں کے بجائے طاقت اور اثر و رسوخ کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں۔ بنگلہ دیش کی جانب سے اپنے میچز بھارت کے بجائے سری لنکا میں کرانے کا مطالبہ اس وقت ایک سنگین تنازع کی صورت اختیار کر چکا ہے، جس نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی غیر جانبداری اور شفافیت پر گہرے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کا مؤقف بالکل واضح ہے کہ موجودہ علاقائی حالات اور سیکیورٹی خدشات کو نظرانداز کر کے بھارت میں کھیلنا کھلاڑیوں کے لیے خطرے سے خالی نہیں۔ کسی بھی ذمہ دار کرکٹ بورڈ کے لیے اپنے کھلاڑیوں کی جان اور ذہنی تحفظ اولین ترجیح ہوتا ہے، مگر حیرت انگیز طور پر آئی سی سی نے ان خدشات کو سنجیدگی سے لینے کے بجائے دباؤ کی پالیسی اپنائی اور بنگلہ دیش کو محض چوبیس گھنٹے کا وقت دیا کہ وہ فیصلہ کرے، ورنہ اسے ٹورنامنٹ سے باہر کر دیا جائے گا۔
یہ طرزِ عمل اس وقت مزید متنازع ہو جاتا ہے جب اس حقیقت کو نظر میں رکھا جائے کہ بھارت خود کبھی بھی پاکستان میں کرکٹ کھیلنے پر آمادہ نہیں ہوتا اور ہر موقع پر آئی سی سی کو مجبور کرتا ہے کہ وہ نیوٹرل مقام پر ہی میچز کھیلے۔ بھارت کے سیکیورٹی تحفظات کو اصولی اور قابلِ قبول سمجھا جاتا ہے، جبکہ بنگلہ دیش کے خدشات کو ضد اور نافرمانی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ یہی وہ دوہرا معیار ہے جو عالمی کرکٹ کے اعتماد کو کمزور کر رہا ہے۔
یہ پہلو بھی قابلِ توجہ ہے کہ ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 بھارت اور سری لنکا کی مشترکہ میزبانی میں منعقد ہونا ہے۔ ایسے میں بنگلہ دیش کے میچز سری لنکا منتقل کرنا نہ کوئی غیر معمولی مطالبہ ہے اور نہ ہی انتظامی طور پر ناممکن۔ اس سادہ اور محفوظ حل کو نظرانداز کرنا اس تاثر کو مزید تقویت دیتا ہے کہ آئی سی سی کے فیصلے سہولت یا انصاف کے بجائے طاقتور فریق کو خوش رکھنے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔
عالمی کرکٹ میں مالی مفادات کا بڑھتا ہوا کردار بھی اس تنازع کا ایک اہم پہلو ہے۔ بھارت دنیا کی سب سے بڑی کرکٹ منڈی ہے اور اسی حیثیت کا اثر آئی سی سی کی پالیسی سازی پر نمایاں نظر آتا ہے۔ جب نشریاتی حقوق، اسپانسرشپ اور آمدن فیصلوں کا محور بن جائیں تو نسبتاً کمزور کرکٹ بورڈز کے لیے برابری کا تصور محض ایک دعویٰ بن کر رہ جاتا ہے۔
اس معاملے میں پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے بنگلہ دیش کے مؤقف کی حمایت ایک اہم اخلاقی اشارہ ہے۔ پاکستان خود برسوں تک سیکیورٹی خدشات کے باعث ہوم کرکٹ سے محروم رہا اور اسی تلخ تجربے کی بنیاد پر یہ حمایت عالمی کرکٹ میں موجود عدم مساوات کو اجاگر کرتی ہے۔
اگر بنگلہ دیش کو اپنے جائز تحفظات کی بنیاد پر ٹی 20 ورلڈ کپ سے باہر کیا جاتا ہے تو یہ اقدام نہ صرف غیر منصفانہ ہوگا بلکہ مستقبل کے لیے ایک خطرناک مثال بھی قائم کرے گا۔ اس سے یہ پیغام جائے گا کہ آئی سی سی میں کھلاڑیوں کی سلامتی، ادارہ جاتی انصاف اور مساوی سلوک کی کوئی حقیقی اہمیت نہیں، بلکہ طاقتور بورڈز کی مرضی ہی حتمی فیصلہ سمجھی جاتی ہے۔
شائقینِ کرکٹ کے لیے بھی یہ صورتحال مایوس کن ہے۔ عالمی ایونٹس کھیل کے فروغ اور قوموں کو قریب لانے کا ذریعہ ہوتے ہیں، مگر جب فیصلوں میں شفافیت اور انصاف نظر نہ آئے تو کھیل کی روح متاثر ہوتی ہے۔ کرکٹ صرف مقابلہ نہیں بلکہ اعتماد کا نام ہے، اور اس اعتماد کو مسلسل مجروح کرنا خود کھیل کے مستقبل کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔
آئی سی سی کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ٹی 20 ورلڈ کپ محض ایک تجارتی ایونٹ نہیں بلکہ عالمی کرکٹ کی ساکھ کا امتحان بھی ہے۔ اگر ادارہ واقعی غیر جانبدار ہے تو اسے دباؤ کے بجائے اصولوں، غیر جانبدار سیکیورٹی جائزے اور تمام رکن ممالک کے ساتھ یکساں سلوک کو ترجیح دینا ہوگی۔ بصورتِ دیگر یہ ٹورنامنٹ تاریخ میں ایک کھیل کے بجائے آئی سی سی کے دہرے معیارات کی مثال بن کر یاد رکھا جائے گا۔