اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی سابق گورنر اور سابق وفاقی وزیرِ خزانہ ڈاکٹر شمشاد اختر انتقال کر گئیں۔ مرحومہ کی نمازِ جنازہ اتوار کو بعد از نمازِ ظہر کراچی میں ادا کی جائے گی۔ یاد رہے کہ ڈاکٹر شمشاد اختر نے 2 جنوری 2006 کو بینک دولت پاکستان کی 14ویں گورنر کی حیثیت سے عہدہ سنبھالا اور وہ اسٹیٹ بینک کی پہلی خاتون گورنر تھیں۔ ان کے دور میں مالیاتی نظم و نسق، بینکاری اصلاحات اور ادارہ جاتی استحکام پر خصوصی توجہ دی گئی۔
گورنر اسٹیٹ بینک مقرر ہونے سے قبل ڈاکٹر شمشاد اختر ایشیائی ترقیاتی بینک میں ڈائریکٹر جنرل برائے جنوب مشرقی ایشیا کے عہدے پر فائز تھیں۔ انہوں نے 1990 میں ایشیائی ترقیاتی بینک میں اپنے کیریئر کا آغاز کیا اور مختلف اعلیٰ مناصب پر خدمات انجام دیں۔
اس سے قبل وہ پاکستان میں عالمی بینک کے ریذیڈنٹ مشن کے ساتھ بطور ماہرِ معاشیات دس برس تک وابستہ رہیں جبکہ وفاقی اور صوبہ سندھ کی حکومتوں کے منصوبہ بندی کے محکموں میں بھی خدمات انجام دیں۔ انہیں زری پالیسی، مالیاتی اصلاحات، سرمایہ منڈیوں اور ضوابطی نگرانی کے شعبوں میں گہری مہارت حاصل تھی۔
تعلیمی اعتبار سے ڈاکٹر شمشاد اختر کا ریکارڈ نمایاں رہا۔ انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے 1974 میں معاشیات میں بی اے، قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے ایم ایس سی، یونیورسٹی آف سسیکس سے ڈیولپمنٹ اکنامکس میں ایم اے اور برطانیہ کے پیسلے کالج آف ٹیکنالوجی سے معاشیات میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ وہ فلبرائٹ اسکالر بھی رہیں اور ہارورڈ یونیورسٹی میں شعبۂ معاشیات کی وزٹنگ فیلو کے طور پر خدمات انجام دیں۔
ڈاکٹر شمشاد اختر کے انتقال پر صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مرحومہ نے ملکی معیشت اور مالیاتی نظم و نسق کے شعبے میں گرانقدر خدمات انجام دیں۔ انہوں نے مرحومہ کے درجات کی بلندی اور سوگوار خاندان کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کی۔
وفاقی وزیرِ خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا کہ ڈاکٹر شمشاد اختر ایک مدبر، اصول پسند اور باوقار ماہرِ معیشت تھیں، جن کی قومی خدمات کو ہمیشہ احترام کے ساتھ یاد رکھا جائے گا۔
دیکھیں: پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر مارچ 2022 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئے