"> پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر مارچ 2022 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئے - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر مارچ 2022 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئے

پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر 2022 کے بعد بلند ترین سطح 21.1 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں جبکہ سٹیٹ بینک کے پاس 15.9 ارب ڈالر ریکارڈ کیے گئے ہیں
پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر 2022 کے بعد بلند ترین سطح 21.1 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں جبکہ سٹیٹ بینک کے پاس 15.9 ارب ڈالر ریکارڈ کیے گئے ہیں

معاشی ماہرین کے مطابق یہ اضافہ مقامی ترقی، اصلاحات اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کا نتیجہ ہے

December 23, 2025

پاکستان کی معیشت نے ایک اہم سنگِ میل عبور کو کرتے ہوئے ملک کے زرمبادلہ ذخائر 2022 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچا دیے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر 21.1 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں جبکہ سٹیٹ بینک کے پاس موجود ذخائر 15.9 ارب ڈالر ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ ملک کی درآمدی صلاحیت 2.6 ماہ سے تجاوز کر گئی ہے۔

معاشی ماہرین کے مطابق حالیہ اضافہ مقامی معاشی ترقی، اصلاحات اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کا نتیجہ ہے، نہ کہ قرضوں کے سہارے حاصل کیا گیا ہے۔ بیرونی قرضہ بمقابلہ جی ڈی پی تناسب 31 فیصد سے کم ہو کر 26 فیصد تک پہنچ گیا ہے جو مالی ظم و ضبط اور اصلاحات کی عکاسی کرتا ہے۔

دو سال قبل جہاں مرکزی بینک کے ذخائر کم ہو کر 2.9 ارب ڈالر رہ گئے تھے، وہیں اب یہ تقریباً 15.9 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں یعنی ساڑھے پانچ گنا اضافہ ہوا ہے۔ فارورڈ فارن ایکسچینج واجبات میں بھی تقریباً 65 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس سے بیرونی دباؤ نمایاں طور پر کم ہوا ہے۔

معاشی ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت قرضہ بمقابلہ جی ڈی پی تناسب میں کمی، مضبوط زرمبادلہ ذخائر، کاروباری طبقے کے اعتماد میں اضافہ اور مجموعی معاشی استحکام کے واضح اشاریے ہیں۔ زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ پاکستان کی بیرونی معیشتی استحکام اور پائیدار معاشی ترقی کی علامت ہے۔

دیکھیں: معیشت ڈنڈے کے زور پر نہیں بلکہ مثبت پالیسیوں کے ذریعے مضبوط ہو رہی ہے: وفاقی وزیرِ خزانہ

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *