پشاور کے ہزارخوانی میں سرکاری اسکول بارش کے بعد پانی میں ڈوب گیا، واقعے نے خیبر پختونخوا میں تعلیمی سہولیات اور حکومتی ترجیحات پر سوال اٹھا دیے۔

September 1, 2026

غزہ میں اسرائیلی جنگی طیاروں کی بمباری اور فائرنگ سے 3 بچوں سمیت 4 فلسطینی شہید ہوگئے۔

September 1, 2026

افغان سفیر سردار احمد شکیب نے پاکستان کے سکیورٹی خدشات کو تسلیم کر لیا، تاہم افغان سرزمین پر فوجی کارروائی کو ناقابلِ قبول قرار دیا۔

September 1, 2026

یکم ستمبر 1965 کا آپریشن گرینڈ سلیم اور پاک فضائیہ کا فضائی حملہ جنگِ ستمبر کا موڑ ثابت ہوا، جس نے بھارتی عسکری قیادت کو بوکھلا کر جنگ عالمی سرحدوں تک پھیلانے پر مجبور کر دیا۔

September 1, 2026

زیارت کراس کسٹمز چیک پوسٹ پر دہشتگردوں کا حملہ سکیورٹی فورسز نے ناکام بنا دیا، فائرنگ کے تبادلے میں 10 دہشتگرد ہلاک ہوگئے۔

September 1, 2026

شہباز شریف نے مودی کی موجودگی میں پانی کو سیاسی دباؤ یا بطور ہتھیار استعمال کرنے کو ناقابل قبول قرار دے دیا۔

September 1, 2026

پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر مارچ 2022 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئے

پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر 2022 کے بعد بلند ترین سطح 21.1 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں جبکہ سٹیٹ بینک کے پاس 15.9 ارب ڈالر ریکارڈ کیے گئے ہیں
پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر 2022 کے بعد بلند ترین سطح 21.1 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں جبکہ سٹیٹ بینک کے پاس 15.9 ارب ڈالر ریکارڈ کیے گئے ہیں

معاشی ماہرین کے مطابق یہ اضافہ مقامی ترقی، اصلاحات اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کا نتیجہ ہے

December 23, 2025

پاکستان کی معیشت نے ایک اہم سنگِ میل عبور کو کرتے ہوئے ملک کے زرمبادلہ ذخائر 2022 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچا دیے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر 21.1 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں جبکہ سٹیٹ بینک کے پاس موجود ذخائر 15.9 ارب ڈالر ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ ملک کی درآمدی صلاحیت 2.6 ماہ سے تجاوز کر گئی ہے۔

معاشی ماہرین کے مطابق حالیہ اضافہ مقامی معاشی ترقی، اصلاحات اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کا نتیجہ ہے، نہ کہ قرضوں کے سہارے حاصل کیا گیا ہے۔ بیرونی قرضہ بمقابلہ جی ڈی پی تناسب 31 فیصد سے کم ہو کر 26 فیصد تک پہنچ گیا ہے جو مالی ظم و ضبط اور اصلاحات کی عکاسی کرتا ہے۔

دو سال قبل جہاں مرکزی بینک کے ذخائر کم ہو کر 2.9 ارب ڈالر رہ گئے تھے، وہیں اب یہ تقریباً 15.9 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں یعنی ساڑھے پانچ گنا اضافہ ہوا ہے۔ فارورڈ فارن ایکسچینج واجبات میں بھی تقریباً 65 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس سے بیرونی دباؤ نمایاں طور پر کم ہوا ہے۔

معاشی ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت قرضہ بمقابلہ جی ڈی پی تناسب میں کمی، مضبوط زرمبادلہ ذخائر، کاروباری طبقے کے اعتماد میں اضافہ اور مجموعی معاشی استحکام کے واضح اشاریے ہیں۔ زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ پاکستان کی بیرونی معیشتی استحکام اور پائیدار معاشی ترقی کی علامت ہے۔

دیکھیں: معیشت ڈنڈے کے زور پر نہیں بلکہ مثبت پالیسیوں کے ذریعے مضبوط ہو رہی ہے: وفاقی وزیرِ خزانہ

متعلقہ مضامین

پشاور کے ہزارخوانی میں سرکاری اسکول بارش کے بعد پانی میں ڈوب گیا، واقعے نے خیبر پختونخوا میں تعلیمی سہولیات اور حکومتی ترجیحات پر سوال اٹھا دیے۔

September 1, 2026

غزہ میں اسرائیلی جنگی طیاروں کی بمباری اور فائرنگ سے 3 بچوں سمیت 4 فلسطینی شہید ہوگئے۔

September 1, 2026

افغان سفیر سردار احمد شکیب نے پاکستان کے سکیورٹی خدشات کو تسلیم کر لیا، تاہم افغان سرزمین پر فوجی کارروائی کو ناقابلِ قبول قرار دیا۔

September 1, 2026

یکم ستمبر 1965 کا آپریشن گرینڈ سلیم اور پاک فضائیہ کا فضائی حملہ جنگِ ستمبر کا موڑ ثابت ہوا، جس نے بھارتی عسکری قیادت کو بوکھلا کر جنگ عالمی سرحدوں تک پھیلانے پر مجبور کر دیا۔

September 1, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *