پاکستان اور مصر کے درمیان اسلام آباد میں اہم مذاکرات جاری ہیں۔ عرب جمہوریہ مصر کے وزیرِ خارجہ ڈاکٹر بدر احمد محمد عبدالعاطی اتوار کی صبح پاکستان پہنچے، جہاں ڈپٹی وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار پاکستانی وفد کی قیادت کر رہے ہیں۔
ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق، دونوں ممالک دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیں گے اور علاقائی و عالمی امور خصوصاً غزہ کی صورتحال پر تبادلۂ خیال کریں گے۔
اسلام آباد میں مصری سفارتخانے نے اس دورے کو بہت اہم قرار دیا ہے۔ دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ یہ دورہ پاکستان اور مصر کے درمیان برسوں پر محیط خوشگوار اور دیرینہ تعلقات کی عکاسی کرتا ہے، جو مشترکہ مذہب، ثقافتی ہم آہنگی اور علاقائی و بین الاقوامی معاملات پر یکساں مؤقف کی بنیاد پر قائم ہیں۔
دفترِ خارجہ کے مطابق، یہ ملاقات دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط، وسیع اور اسٹریٹجک سمت دینے میں مددگار ثابت ہوگی، جس میں سیاسی، معاشی، دفاعی، ثقافتی اور عوامی روابط کے فروغ پر بھی توجہ دی جائے گی۔
مصری وزیر خارجہ کا بیان
اسلام آباد کے دورے پر آئے ہوئے مصری وزیرِ خارجہ بدر عبدالعاطی نے کہا ہے کہ غزہ کے لیے تجویز کردہ عالمی استحکام فورس کا کردار صرف جنگ بندی کی نگرانی اور غزہ کی سرحدوں کے تحفظ تک محدود ہونا چاہیے۔
انہوں نے پاکستان پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ غزہ کی تعمیرِ نو اور بحالی میں مزید نمایاں کردار ادا کرے۔
نجی نیوز ویب سائٹ سے خصوصی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ استحکام فورس کا مقصد امن نافذ کرنا نہیں بلکہ موجودہ جنگ بندی کو برقرار رکھنا ہے۔
ان کے مطابق فورس کی تفصیلات، مینڈیٹ اور دستوں کی فراہمی کے معاملات ابھی عالمی شراکت داروں، خصوصاً امریکا کے ساتھ مشاورت میں ہیں۔
بدر عبدالعاطی نے بتایا کہ مصر جلد غزہ کی تعمیرِ نو سے متعلق ایک بین الاقوامی کانفرنس کی میزبانی کر رہا ہے، اور پاکستان سے نہ صرف مالی مدد بلکہ نجی شعبے، تکنیکی معاونت اور طبی خدمات کی فراہمی میں بھی زیادہ کردار کی توقع کرتا ہے۔ ان کے مطابق غزہ میں تقریباً 50 ہزار ایسے مریض ہیں جنہیں فوری طبی امداد درکار ہے۔
مصری وزیرِ خارجہ نے کہا کہ پاکستان اور مصر اس بات پر متفق ہیں کہ خطے میں پائیدار امن کا واحد راستہ ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام ہے۔ انہوں نے سوڈان، ایران اور دیگر علاقائی تنازعات پر بھی سیاسی حل، مکالمے اور کشیدگی میں کمی کی ضرورت پر زور دیا۔
دو طرفہ تعلقات کے حوالے سے انہوں نے تجارت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور دفاعی تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم دوگنا کیا جانا چاہیے۔
دیکھیں: غزہ جنگ بندی معاہدے کے باوجود اسرائیلی مظالم میں کمی نہ آسکی