"> اسپین کا اسرائیل کی شرکت پر یورپ کے سالانہ مقابلہ موسیقی کا بائیکاٹ، نشریات روک کر فلسطین کے حق میں بیان جاری - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

اسپین کا اسرائیل کی شرکت پر یورپ کے سالانہ مقابلہ موسیقی کا بائیکاٹ، نشریات روک کر فلسطین کے حق میں بیان جاری

سال 1961 کے بعد یہ پہلی بار ہوا ہے کہ اسپین نے اس مباثہ عکاس مقابلے کو نشر کرنے کے بجائے اپنے ٹی وی پر متبادل پروگرام پیش کیے۔ آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں جیسے ہی یورو ویژن کا فائنل شروع ہوا، اسپین کے سرکاری نشریاتی ادارے نے مقابلے کی لائیو فیڈ کاٹنے کے بعد اسکرین پر فلسطین کے حق میں ایک مضبوط اور باضابطہ بیان نشر کر دیا۔
اسپین موسیقی بائیکاٹ

یورو ویژن محض ایک مقابلہ ہے، لیکن انسانی حقوق کوئی کھیل نہیں۔ اس وقت دنیا میں جس قسم کی بربریت ہو رہی ہے، اس پر بے حسی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

May 17, 2026

میڈرڈ: غزہ پر اسرائیلی جارحیت اور انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کے خلاف یورپی ممالک میں سفارتی اور ثقافتی سطح پر احتجاج شدید ہو گیا ہے۔ ایک تاریخی اور غیر معمولی فیصلے میں اسپین نے یورپ کے سب سے بڑے اور مقبول سالانہ مقابلہ موسیقی ‘یورو ویژن 2026’ میں اسرائیل کی شرکت کے خلاف مقابلے کا مکمل بائیکاٹ کر دیا ہے اور ایونٹ کی لائیو نشریات روک دی ہیں۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، سال 1961 کے بعد یہ پہلی بار ہوا ہے کہ اسپین نے اس مباثہ عکاس مقابلے کو نشر کرنے کے بجائے اپنے ٹی وی پر متبادل پروگرام پیش کیے۔ آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں جیسے ہی یورو ویژن کا فائنل شروع ہوا، اسپین کے سرکاری نشریاتی ادارے نے مقابلے کی لائیو فیڈ کاٹنے کے بعد اسکرین پر فلسطین کے حق میں ایک مضبوط اور باضابطہ بیان نشر کر دیا۔

اسپین کے سرکاری نشریاتی ادارے نے اپنے اس فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے ایک اثر انگیز بیان جاری کیا، جس میں کہا گیا:

“یورو ویژن محض ایک مقابلہ ہے، لیکن انسانی حقوق کوئی کھیل نہیں۔ اس وقت دنیا میں جس قسم کی بربریت ہو رہی ہے، اس پر بے حسی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ہم فلسطین کے لیے فوری امن اور انصاف کا مطالبہ کرتے ہیں۔”

میڈیا رپورٹس کے مطابق، اسرائیل کی شرکت پر احتجاج کا یہ سلسلہ صرف اسپین تک محدود نہیں رہا۔ اس احتجاجی لہر میں یورپ کے دیگر ممالک بھی پیش پیش رہے، جہاں آئرلینڈ، نیدرلینڈز، سلووینیا اور آئس لینڈ نے بھی اسرائیل کی شمولیت کے خلاف یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اس بائیکاٹ مہم میں شمولیت اختیار کی۔ یورپی ٹی وی چینلز اور عوام کی جانب سے اٹھائے جانے والے اس سفارتی اور ثقافتی قدم کو اسرائیل کی بڑھتی ہوئی عالمی اور یورپی تنہائی کا ایک واضح ثبوت قرار دیا جا رہا ہے۔

دیکھئیے:تمغہ امتیاز کے 20 سال بعد حدیقہ کیانی کے لیے ایک اور بڑا اعزاز؛ فن موسیقی میں نمایاں خدمات پر ستارہ امتیاز سے نوازا گیا

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *