سوشل میڈیا پر بعض بھارتی، افغان اور شدت پسند عناصر سے منسلک اکاؤنٹس کی جانب سے یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ شمالی وزیرستان کے اسکول ٹیچر عمر گل، جو ابھرتی ہوئی کم عمر کرکٹر آینہ وزیر کے والد تھے، کو پاک فوج نے حراست میں لے کر قتل کیا۔ یہ دعویٰ اُس وقت شدت سے پھیلایا گیا جب آینہ وزیر کی کرکٹ کھیلتے ہوئے ویڈیو منظرِ عام پر آئی اور عوامی سطح پر اسے بھرپور پذیرائی ملی۔
تاہم مقامی ذرائع اور مصدقہ معلومات کے مطابق یہ تاثر حقائق کے برعکس ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ عمر گل کو شدت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان (جسے بعض سرکاری حلقے فتنہ الخوارج قرار دیتے ہیں) کی جانب سے تدریسی سرگرمیاں ترک کرنے کی دھمکیاں دی جا رہی تھیں۔ انکار پر انہیں 2025 میں اغوا کر لیا گیا اور وہ مبینہ طور پر مسلح عناصر کی تحویل میں رہے۔
اطلاعات کے مطابق 31 جولائی 2025 کو وہ دورانِ قید جاں بحق ہوئے، جس کے بعد ان کی لاش برآمد کر کے اہلِ خانہ کے حوالے کی گئی۔ مقامی سطح پر دستیاب شواہد کے مطابق انہیں سیکیورٹی اداروں کی تحویل میں قتل کیے جانے کا دعویٰ بے بنیاد قرار دیا جا رہا ہے۔

سیکیورٹی و سماجی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کرنا اور غیر مصدقہ الزامات پھیلانا منظم معلوماتی مہم کا حصہ ہو سکتا ہے، جس کا مقصد عوامی جذبات کو بھڑکانا اور ریاستی اداروں کے خلاف بداعتمادی پیدا کرنا ہے۔
حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ حساس معاملات میں غیر مصدقہ خبروں پر یقین کرنے کے بجائے مستند ذرائع سے تصدیق کریں اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل اختیار کریں۔