گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے پاکستان تحریک انصاف کی قیادت پر سخت تنقید کرتے ہوئے مراد سعید کی افغانستان میں موجودگی پر سوال اٹھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی کے رہنما اب بھی افغانستان میں پناہ لیے ہوئے ہیں تو یہ جماعت دہشت گرد عناصر کے خلاف کیسے آواز اٹھائے گی۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کے ساتھ اپنے تعلقات پر تبصرہ کرتے ہوئے گورنر نے کہا کہ علی امین گنڈاپور ان کے دوست نہیں بلکہ بدقسمتی سے رشتہ دار ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کے 13 سالہ دورِ اقتدار کا حساب صرف 11 دن میں ممکن نہیں، تاہم صوبے میں انتظامی بہتری، صفائی اور تجاوزات کے خاتمے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔
فیصل کریم کنڈی نے واضح کیا کہ تجاوزات کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی اور اگر کوئی انتظامی افسر اس میں ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف بھی سخت ایکشن ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ صوبے کی ترقی کے لیے 100 روزہ منصوبے پر کام جاری ہے اور وزیراعظم شہباز شریف بھی جلد پشاور کا دورہ کریں گے۔
اضاخیل میں ناقص گندم کی فراہمی کے معاملے پر بات کرتے ہوئے گورنر نے تصدیق کی کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی رپورٹ موصول ہو چکی ہے۔ صوبے میں معدنیات کے وسائل پر قبضے سے متعلق اطلاعات کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ بعض سیاسی جماعتیں غلط خبریں پھیلا کر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو احتجاج کا حق حاصل ہے لیکن اس کی آڑ میں توڑ پھوڑ کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایک مخصوص سیاسی جماعت ان پرتشدد کارروائیوں میں ملوث ہے اور امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
امن و امان کے حوالے سے انہوں نے زور دیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پولیس کی تمام ضروریات پوری کی جائیں گی۔ انہوں نے بتایا کہ صوبائی اپیکس کمیٹی کا اجلاس مکمل ہو چکا ہے اور جلد وفاقی اپیکس کمیٹی کا اجلاس بھی طلب کیا جائے گا، جبکہ صوبائی امور پر ایمل ولی خان اور جماعت اسلامی سمیت دیگر سیاسی قیادت سے مشاورت جاری ہے۔





